شپنگ کنٹینرز کو کرائے پر دینے کا حم
    تاریخ: 11 نومبر، 2025
    مشاہدات: 12
    حوالہ: 86

    سوال

    کراچی پورٹ پر باہر ملک سے شیپنگ کنٹینرز آتے ہیں۔شپنگ کمپنی ایک کنٹینرز کے فریٹ چارجز وصول کرتی ہے۔جو ناقابل واپسی ہوتے ہیں اور وہ رقم تاجر ادا کرتا ہے۔دوسرے چارجز کنٹینر ڈپازٹ ہوتا ہے یعنی تاجروں کے مال کے لیے جو کنٹینرز پورٹ پر استعمال ہوتے ہیں تو کمپنی ان کنٹینرز کی سیکیورٹی کے لیےکچھ رقم ڈپازٹ رکھواتی ہے ۔مثلاً50000روپے اور یہ رقم کنٹینر لوٹانے پر 15 سے 20 دن کے اندر واپس مل جاتی ہے۔لیکن تاجر حضرات یہ رقم ادا نہیں کرتے کیونکہ وہ اپنی رقم اتنے دنوں تک پھنسانا نہیں چاہتے تو پھر انکی طرف سے یہ رقم میں جمع کرواتا ہوں اورمجھ جیسے بہت سے کلیرنگ ایجنٹ اس طرح کرتے ہیں اور اس کے بدلے ان سے فی کنٹینز پر3000 سے 5000 کے درمیان سروسز چارجز وصول کرتا ہوں ۔کمپنی کو پیسے دیتے وقت تاجر کو نام ہی استعمال کیا جاتا ہے اور اگر بالفرض کمپنی وہ پیسے واپس نہیں کرتی تو میں پیسوں کا مطالبہ تاجر سے ہی کروں گا۔اور اسی طرح کنٹینرز کو نقصان پہچنے کی صورت میں جو کمپنی ڈیپازٹ میں سے یہ رقم کاٹےگی اس کا مطالبہ بھی تاجر سے ہی کروں گا۔ اس کام کے لیے مجھے محنت کرنی پرتی ہے اور کبھی رقم وغیرہ بھی خرچ ہوتی ہے تو کیا میرے لیے یہ رقم لینا جائز ہے یا نہیں؟

    سائل:عدنان اقبال:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مستفسرہ میں جو رقم آپ کمپنی کو تاجر کی طرف سے دیتے ہیں اس کی حیثیت قرض کی ہے اور قرض پر کسی بھی قسم کا نفع سود ہے ۔ لہذا آپ کا اس رقم پر نفع لیناسود ہے اور یہ ناجائز اور حرام ہے۔اوراللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے ہوئے اب تک جتنی رقم جس جس سےلی ہو انہیں واپس لوٹا دیں،وہ نہ رہے ہوں تو ان کے ورثاء کو دیں اور وہ بھی نہ رہے ہوں تو صدقہ کردیں۔

    مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ کسی کو یا کسی کی جانب سے کام کے لیےجو رقم دی جاتی ہے اس کی درج ذیل چار صورتیں متوقع ہیں:

    1:ہبہ:کسی کو بلاعوض کسی چیز کا مالک بنا دینا۔

    2:عاریہ:کسی کو بلاعوض کوئی چیز استعمال کے لیے دینا

    3:شرکت:کسی کو کاروبار کے لیے رقم دینا اور اس کے نفع میں معین تناسب سے شریک ہونا

    4:قرض:کسی کو بلاعوض رقم دینا تاکہ بعد میں اس کا تقاضہ کیا جائے۔

    اور صورتِ مستفسرہ میں سوائے قرض کےیہاں کوئی اور صورت ممکن نہیں ۔کیونکہ آپ یہ رقم تاجر کی طرف سے کمپنی کو اسلئے دیتے ہیں تاکہ بعد میں اس رقم کا دوبارہ تقاضہ کرسکیں اور جیسا کہ سوال میں مذکور ہے کہ اگر کمپنی پیسے واپس نہیں کرتی تو آپ اس کا تقاضہ تاجر سے ہی کریں گے۔لہذا اس رقم پر نفع لینا سود ہے اور سود ناجائز اور حرام ہے۔

    اعلحٰضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت الشاہ امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتےہیں: یہاں چار ہی صورتیں متصور ہیں ، کاممیں لگانے کے لئے یہ روپیہ دینے والا بغرض شرکت دیتا ہے یا بطور ہبہ یا عاریہ یا قرض ۔ صورت ہبہ تو یہاں بداہۃً نہیں اور شرکت کابطلان اظہر من الشمس ،شرکت ایک عقد ہے جس کا متقضی دونوں شریکوں کا اصل و نفع دونوں میں اشتراک ہے ایک شریک کے لئے معین تعداد زر مقرر کرنا قاطع شرکت ہے کہ ممکن کہ اسی قدر نفع ہو تو کلی نفع کا یہی مالک ہوگیا ، دوسرے شریک کو کچھ نہ ملا تو ربح ( نفع ) میں شرکت کب ہوئی۔ بہر حال یہاں نہیں مگر صورت قرض، اور اس پر نفع مقرر کیا گیا، یہی سود ہے اور یہی جاہلیت میں تھا، حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: کل قرض جر منفعۃ فھو ربٰوترجمہ: قرض پر جو نفع حاصل کیا جائے وہ ربا ہے۔ملخصاً(فتاوٰی رضویہ،جلد:371،373،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    سنن ابن ماجہ میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدِيهِ، وَكَاتِبَهُ ترجمہ:سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے بے شک رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:سود کھانے والےاورکھلانے والےاورگواہوں پر اور اسکے لکھنے والے پر لعنت ہے۔(سنن ابن ماجہ،رقم:2227)

    مسند امام احمد بن حنبل میں ہے:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ غَسِيلِ الْمَلَائِكَةِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دِرْهَمٌ رِبًا يَأْكُلُهُ الرَّجُلُ وَهُوَ يَعْلَمُ، أَشَدُّ مِنْ سِتَّةٍ وَثَلَاثِينَ زَنْيَةً ترجمہ :سیدنا عبداللہ بن حنظلہ (غسیل الملائکہ )سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:سود کا ایک درہم جان بوجھ کر کھانا اللہ عزوجل کے نزدیک چھتیس بار زنا کرنے سے زیادہ سخت ہے۔(مسند امام احمدبن حنبل،رقم:21957)

    اعلٰحضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلی علیہ الرحمۃفرماتے ہیں :سود میں جو مال ملتا ہے وہ سود خور کے قبضہ میں آکر اگرچہ اس کی ملک ہوجاتا ہے مگر وہ ملک خبیث ہوتی ہے اس پر فرض ہوتا ہے کہ ناپاک مال جن جن سے لیا ہے انہیں واپس دے وہ نہ رہے ہوں تو ان کے وارثوں کو دے وہ بھی نہ ملیں توتصد ق کردے ، بہرحال اپنے حوائج میں اسے خرچ کرنا حرام ہوتا ہے اگراپنے خرچ میں لائے گا تو وہ اب بھی سود کھارہا ہے اور

    اس کی توبہ جھوٹی ہے ، لانہ لم یندم علی الماضی وما ترک فی الاتٰی ولم یمح الباقی فلم یوجد شیئ من ارکان التوبۃ ۔ کیونکہ وہ گزشتہ پر نادم نہیں ہوا اور آئندہ کے لئے اس کو چھوڑا نہیں اور نہ ہی باقی کو مٹایا تو

    تو اس طرح ارکان توبہ میں سے کوئی بھی نہیں پایا گیا (فتاوی رضویہ ،جلد:17،ص:379،رضا فاؤنڈیشن )

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحیح : ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:15 صفر المظفر1443 ھ/23ستمبر 2021 ء