warasat se hissa na dene ka sharai hukm
سوال
میرے والد صاحب کی جائیداد کی تقسیم ہوئی تھی لیکن میرے بھائی نے تمام جائیداد پر قبضہ کیا ہوا ہے ، ہم دو بھائی اور ہماری ایک بہن ہے ، بہن کا انتقال والد صاحب کے بعد ہوا ہے جبکہ والدہ حیات ہیں ۔ برائے کرم رہنمائی فرمائیں کہ میرے بھائی کا اس طرح کرنا درست ہے؟ یاد رہے میرے حصے میں 21 لاکھ 38 ہزار روپے آتے تھے مگر مجھے صرف 38 ہزار روپے دیئے گئے ۔
سائل:نور محمد: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شرعی اعتبار سے وراثت میں سے کسی کو حصہ نہ دینا گناہ کبیرہ اور ظلم ہے ، آپ کے بھائی پر واجب ہے کہ آپکو اور آپ کے علاوہ جس جس وارث کو حصہ نہیں دیا انکو انکا حصہ دیں ۔ ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وراثت کے مستحق لوگوں کو انکا حصہ نہیں دیاجاتا ،ایسے کرنا کفار کا طریقہ ہے قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌترجمہ کنز الایمان :۔اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔ ( سورۃ الفجر آیت 17تا 25)
نیز کسی کی وراثت کا حصہ دبا لینا، ناحق مال کھانےاور غصب کرنےکے حکم میں ہے جس کے بارے میں قرآن وسنت میں سخت ممانعت آئی ہے۔ارشاد باری تعالٰی ہے: یٰاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا لَا تَاکُلُوا اَمْوٰلَکُمْ بَینَکُمْ بِالْبٰطِلِ۔ ترجمہ: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔(النساء:29)
دوسرے کامال غصب کرنے والے کے بارے میں حدیث شریف میں ہے:مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حِلِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ اَرضِينَ، لَا يَقْبَلُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا۔ ترجمہ: جو زمین کے کسی ٹکڑے پرناجائز طریقے سے قابض ہوا تواسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل۔(مسند ابی یعلی،رقم الحدیث:744)
مسلم شریف کی حدیث ہے:مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ۔ ترجمہ: جس شخص نے قسم کی وجہ سے کسی مسلمان شخص کا حق دبا لیا تو بِلاشُبَہاللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے لئے جہنم کو واجب کردیااور اس پر جنّت حرام کردی۔عرض کی گئی:یارسولَ اللہ ﷺ!اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ ارشاد فرمایا : اگر چہ وہ پیلو کی مسواک ہی کیوں نہ ہو۔ (صحیح مسلم،رقم:137)
اسی طرح مشکاۃ شریف کی حدیث ہے:حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضور اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا:مَنْ قَطَعَ مِیْرَاثَ وَارِثِہٖ قَطَعَ اللہُ مِیْرَاثَہٗ مِنَ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ ترجمہ :جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کو کاٹ دے گا۔(مشکاۃ المصابیح،رقم:3078،المکتبۃ الاسلامی بیروت)
یونہی بخاری شریف میں ہے :فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکوسات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔( بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)
اسی میں ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ»ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین )کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔( بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلد جلد 3ص130) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:09 صفر المظفر ا1444 ھ/05 ستمبر 2022 ء