غیر مسلموں کے تہوار پر ڈسکاؤنت دینا کیسا
    تاریخ: 11 نومبر، 2025
    مشاہدات: 34
    حوالہ: 90

    سوال

    میں غیر مسلموں کے ملک میں کاروبار کرتا ہوں اور غیر مسلم دکاندار اپنے تہواروں کے مواقع پراشیاءپر ڈسکاؤنٹ دیتےہیں جیسے دیوالی ڈسکاؤنٹ، ہولی ڈسکاؤنٹ،کرسمیز ڈسکاؤنٹ وغیرہ کیا میرے لیے اسطرح کے ڈسکاؤنٹ دینا جائز ہے؟

    سائل:حسان میاری: کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں آپ کا یہ عمل جائز ہے اسلیے کہ تجار حضرات اس طرح کے مواقع پر جو ڈسکاؤنٹ دیتے ہیں ،اس سے انکا مقصدمحض عوام کوراغب کرکے اپنی سیل کوبڑھا کرزیادہ سے زیادہ منافع حاصل کیا جائے البتہ اگر کوئی شخص ایسا اس دن کی تعظیم کرتے ہوئے یا انکی خوشی میں شریک ہوتے ہوئے کرےیا ایسے مواقع پر کسی غیر مسلم کو مبارکباد دےتو ایسا کرنا ناجائز اورحرام ہے نیزاس سے ایمان کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔

    شارح بخاری علامہ شریف الحق امجدی صاحب فتاوٰی شارح بخاری میں فرماتےہیں:ان مشرکانہ مذہبی تہواروں پر ہندوؤں کو مبارک باد دینا اشد حرام بلکہ منجر الی الکفر ہے ۔جو مسلمان ایسا کرتے ہیں ان پر توبہ و تجدید ایمان و نکاح لازم ہے (فتاوٰی شارح بخاری ،جلد:2،ص:566،دائرۃ البرکات گھوسی ضلع مئو)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحیح :ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:01 ربیع الآخر 1441 ھ/16نومبر 2020 ء