کپڑا مارکیٹ میں رائج سوکڑی کاحکم
    تاریخ: 11 نومبر، 2025
    مشاہدات: 27
    حوالہ: 89

    سوال

    ہماری کپڑا مارکیٹ میں یہ طریقہ رائج ہے کہ بروکر جب اپنی بروکری وصول کرتا ہے تو 1.0فیصد بروکری میں سے ٪10سوکڑی کے نام پر کاٹ کر بروکری دینےوالاکبھی تو خود ہی رکھ کر بقیہ 90فیصد بروکر کو دے دیتا ہے اور کبھی اپنے پاس کام کرنے والے اسٹا ف میں تقسیم کرتا ہےنیز بروکر کو بھی یہ پتہ ہوتا ہے کہ یہ سوکڑی اسکی بروکری سے منھا ہوگی لہذا وہ اس پر کچھ نہیں کہتا بلکہ اب تو بروکر یہی سمجھتا ہے کہ 1فیصد بروکری میں سے اسکی بروکری 0.9فیصد ہی ہے اور مارکیٹ میں اس سوکڑی کو اسٹاف کا حق سمجھا جاتا ہے اور سوکڑی ملنے کی صورت میں بعض مالکان اپنے اسٹاف سے کہتے ہیں کہ اب جو سیلری بونس تھا وہ تمھیں نہیں ملے گا۔آیا یہ سوکڑی کی صورت میں نفع حاصل کرنا اسٹاف کے لیے جائز ہے یا نہیں اور اگر نہیں تو اسکی کوئی جائز صورت ہو سکتی ہے؟

    دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں کپڑا مارکیٹ میں یہ طریقہ کار رائج ہے کہ اگر کوئی بروکر دوپارٹیوں کو ملوا دے تو اس صورت میں جب جب یہ پارٹیاں خرید وفروخت کا کوئی بھی عقد کریں گی، تو بروکر بروکری کا حقدار ہوگا نیز اس عقد کے پورا ہونے میں بروکر معاون بھی ہوتا ہے مثلاً ایک پارٹی کے ساتھ جا کر دوسری پارٹی کا مال دیکھنا ،مال وغیرہ کا چالان بنوا لینا ،مال کی ڈیلیوری یا پیسوں میں تاخیر ہوئی تو پارٹیوں کے اس حوالے سے فون کر لینا یا خود چکر لگا لینا وغیرہ ۔یہ صورت نقد اور ادھار دونوں طرح کے عقد میں ہوتی ہے ۔نقد کی تو صورت واضح ہے ادھار میں یہ ہوتا ہے کہ جتنے بل بنتے ہیں ہر بل کی ادائیگی پر 1فیصد یا 0.5فیصد بروکر کو بروکری ملتی ہے نیز بروکر مبیع یا ثمن کےنقصان یا کسی بھی پارٹی کی ذمہ داری نہیں لیتا البتہ دھوکے باز یا دو نمبر پارٹی لانے کے سبب مارکیٹ میں اسکی قدر گٹھ جاتی ہے۔آیا بروکر کا اس طرح ہر بار کمیشن کی صورت میں نفع لینا جائز ہے؟

    سائل:عبد الستار عطاری:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    الجواب الاول:پوچھی گئی صورت میں اگر بروکر1فیصد میں سے 0.9کو ہی اپنی بروکری سمجھتا ہےتو گویا کہ اسکا عقد ہی 0.9 پر ہوا ہےکیونکہ بروکری دینے والے کو پتہ ہے کہ وہ 0.9بروکر کو دے گا اور بروکر کو بھی معلوم ہے کہ اسے 0.9ہی ملے گا لہذا اگر بروکری دینے والا بروکری کا0.1 اپنے لیے رکھتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ اس 0.1 پر اسکا عقد بروکر سے ہوا ہی نہیں اور نہ ہی اسٹاف کو دینے میں کوئی حرج ہے اسلیے کہ وہ شخصجس طرح اپنے عقد کے 1فیصد کا 0.9بروکر کو دے رہا اسی طرح وہ شخص 0.1 اپنے اسٹاف کو دے رہا ہے۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ یہ سوکڑی اسٹاف کا حق نہیں لہذا مالک کی صوابدید پر ہے کہ وہ اپنے اسٹاف کو دے یا نہ دے ،اسٹاف اس کا مطالبہ نہیں کرسکتے کیونکہ یہ اپنے مالک کے اجیر ہیں اور اجیر صرف اجرت کا ہی مستحق ہوتا ہے الّا یہ کہ مالک اگر اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہے تو اسے لینے میں کوئی حرج نہیں ۔

    مفتی اعظم پاکستان مفتی وقار الدین علیہ الرحمۃسے وقار الفتاوی میں سوال ہوا:زید کپڑا مارکیٹ میں نوکری کرتا ہےاور مارکیٹ میں ایک اصول بنا ہوا ہےکہ بروکر کو جو اجرت دی جاتی ہے،اس میں وہ دسواں حصہ دوکان کے دیگر ملازمین کو دیتا ہے اور بعض اوقات مالکان بروکر کو اجرت دینے سے پہلے ہی دسواں حصہ کاٹ لیتے ہیں اور ملازمین کو دے دیتے ہیں۔ اس اصول سے مالک ،ملازم اور بروکر سب واقف ہوتے ہیں۔مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ رقم جو ہم ملازمین کو دی جاتی ہے،جائز ہے یا نہیں؟

    اس کے جواب میں آپ ارشاد فرماتے ہیں:اگر مارکیٹ میں یہ بات متعارف ہے اور سب جانتے ہیں ،دلال بھی راضی ہے اور مال خریدنے والے اور بیچنے والے بھی واقف ہیں،تو ملازمین کو یہ روپیہ لینا جائز ہے۔(وقار الفتاوٰی،جلد:3،صفحہ:330،بزم وقار الدین کراچی)

    الجواب الثانی:پوچھی گئی صورت میں اگر بروکرہر بار عقد کی تکمیل میں اپنی خدمات دے رہا ہے تو اس صورت میں بروکرہر بار اپنی خدمت کے عوض بروکری کا حقدار ہوگا

    مجمع الضمانات میں ہے: وَلَوْ سَعَى الدَّلَّالُ بَيْنَهُمَا وَبَاعَ الْمَالِكُ بِنَفْسِهِ يُعْتَبَرُ الْعُرْفُ فَتَجِبُ الدَّلَالَةُ عَلَى الْبَائِعِ أَوْ عَلَى الْمُشْتَرِي أَوْ عَلَيْهِمَا بِحَسْبِ الْعُرْفِ.ترجمہ:اور اگر بروکر ان دونوں (فروخت کنندہ اورخریدار)کے درمیان کوشش کرےاور مالک بیع خود کرے تو عرف کا اعتبار کیا جائے گا ،پس عرف کے اعتبار سے اجرت بائع (فروخت کنندہ)یا مشتری(خریدار) یا بائع اور مشتری دونوں پر ہوگی (مجمع الضمانات،جلد: 1،ص: 54،دار الکتاب الاسلامی)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:22جمادی الاولی 1442 ھ/07دسمبر 2020 ء