شیپنگ ڈیپازٹ پر نفع لینے کی ایک جائز صورت
    تاریخ: 11 نومبر، 2025
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 88

    سوال

    آپ کے ادارے سے ایک فتوی حوالہ نمبر120میں شپنک کنٹینرز کے ڈیپازیٹ پر نفع لینے کو ناجائز قرار دیا گیا ہے ۔اس عمل میں بہت سارے لوگ ملوث ہیں۔برائے کرم شریعت مطہرہ کی روشنی میں اس کی کوئی جائز صورت بیان کردیں۔

    سائل:اسد:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جو رقم تاجر کی طرف سے کمپنی کو شپنک کنٹینرز کے ڈیپازٹ کے طور پر دی جاتی ہے اس کی حیثیت قرض کی ہونے کی وجہ سے اس پر نفع لینے کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔لیکن اگر وہ شخص جو تاجر کی طرف سے کمپنی کو ڈیپازٹ کروا رہا ہے وہ اگر تاجر سے اس کام پر اجارہ کرلےیعنی جب بھی کنٹینرز کےلیے ڈیپازٹ جمع کروانا ہو تو جتنے کنٹینرز ہیں ان کا ڈیپازٹ جمع کروانے سے لے کر دیگر کاغذات وغیرہ بنانے تک کا وہ شخص اجیر بن جائے اور ایک اجرت مقرر کرلے اور پھر تاجر کی اجازت سے ڈیپازٹ کی رقم اپنی طرف سے بطور وکیل ادا کردے اس طرح جو اسے اجرت ملے گی وہ اس رقم پر نہیں ہوگی جو اس نے تاجر کو بطور قرض دی ہے بلکہ اجیر ہونے کی بناء پر ملے گی۔ اور اگر وہ شخص کلیئرنگ ایجنٹ ہے تو کلیئرنگ کے معاملات سے لے کر ڈیپازٹ کے معاملات تک کااجارہ کر لیا جائے اور پھر سارے کام کی ایک ساتھ اجرت لے لی جائے ۔اور یہ اجارہ ایک وقت میں کئی تاجروں سے کر سکتےہیں۔

    کیونکہ جو شخص کسی کام کے کرنے کا اجارہ کرے وہ اجیر مشترک ہوتا ہے اور اجیر مشترک وہ اجیر ہوتا ہے جو ایک وقت میں کئی لوگوں کا اجیر ہوسکتا ہے ، اور یہ کام کرکے دینے کی وجہ سے اجرت کا مستحق ہوتا ہے ۔

    چناچہ بدائع الصنائع میں ہے: والأجير قد يكون خاصا وهو الذي يعمل لواحد وهو المسمى بأجير الواحد، وقد يكون مشتركا وهو الذي يعمل لعامة الناس وهو المسمى بالأجير المشترك ۔۔۔أن المنفعة تختلف باختلاف محل المنفعة فيختلف استيفاؤها باستيفاء منافع المنازل بالسكنى، والأراضي بالزراعة، والثياب۔۔۔ والصناع بالعمل من الخياطة، والقصارة ونحوهما، وقد يقام فيه تسليم النفس مقام الاستيفاء كما في أجير الواحد حتى لو سلم نفسه في المدة ولم يعمل يستحق الأجر۔ ترجمہ:اجیر کبھی خاص ہوتا ہے ،یہ وہ ہےجو ایک کے لئے عمل کرتا ہےاسے اجیر واحد کہتے ہیں اور کبھی اجیر مشترک ہوتا ہے،یہ وہ اجیر ہے جو تمام لوگوں کے لئے کام کرتا ہے اسکو اجیر مشترک کہتے ہیں ۔منفعت کے محل کی وجہ سے منفعت مختلف ہوجاتی ہے پس منفعت کا حصول بھی مختلف ہوجاتا ہے لہذا گھر کی منفعت رہائش ہے حاصل ہوگی ،زمین کی زراعت سے،کپڑوں کی پہننے سے ،کاریگر مثلا درزی،دھوبی وغیرہ کی منفعت اس کے کام سے حاصل ہوگی اور کبھی تسلیم نفس ہی منفعت کے قائم مقام ہوتا ہے جیساکہ اجیر واحد کہ اگر اس نے خود کو طے شدہ وقت میں سپرد کیے رکھا اور کچھ کام نہ کیا تو بھی اجرت کا مستحق ہوگا۔ (بدائع الصنائع، کتاب الاجارۃ فصل فی رکن الاجارۃ جلد 4 ص 175۔ ملخصا و ملتقطا)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد احمد امین قادری نوری

    الجواب الصحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:23صفر المظفر1443 ھ/01اکتوبر 2021 ء