warasat se hissa na dene ka hukm
سوال
ہماری والدہ کا مکان تھا جو انہوں نے اپنی محنت کے پیسوں سے لیا تھا اور انہوں نے اپنی زندگی میں ہی اسکی تقسیم کرنے کے لئے اسٹامپ پیپر بھی لکھوادیا تھا جو کہ سوال کے ساتھ لف ہے، زندگی میں تو تقسیم نہیں ہوئی ۔اب انکا انتقال ہوگیا ہے اس مکان میں دو بھائی رہائش پذیر ہیں جو کہ حصہ دینے کے لئے تیار نہیں ہیں انکا کہنا ہے کہ حصہ لینا ہے تو کورٹ جاؤ ہم نہیں دیں گے۔ ۔ برائے مہربانی شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس میں کس کس کا حصہ ہوگا اور کتنا نیز بھائیوں کے اس عمل کی کیا حیثیت ہے۔؟
ورثاء میں 4 بھائی اور 5 بہنیں ہیں جس میں سے ایک بھائی والدہ سے پہلے فوت ہوچکے۔ اب تین بھائی اور 5 بہنیں حیات ہیں۔
سائلین:شبنم ناز ، شیخ کاشف شہزاد: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ سوال میں مذکور ہوا تو امورِ متقدمہ علی الارث(کفن دفن کے اخراجات،اگر کوئی قرض ہو تو اسکی ادائیگی، اگر کوئی جائز وصیت ہو توکل مال کے ایک تہائی سے وصیت پوری کرنا ) کے بعد اس گھر میں تینوں بھائی اور پانچوں بہنیں شرعاً وارث ہیں بمطابق شرع شریف اپنا اپنا حصہ پائیں گے۔ جس بھائی کا انتقال پہلے ہوچکا اس کا اس مکان سے کچھ حصہ نہیں۔اور مکانِ موروثی پر قابض بھائیوں کا دیگر ورثاء کو حصہ دینے سے انکار کرنا شرعاً ناجائز و حرام ہے ۔ ان کاانکار ہر گز مسموع و معتبر نہیں ، لامحالہ خواہے نخواہے حصہ دینا لازم و ضروری ہے کہ جن کا حصہ اللہ تعالٰی نے اپنی کتابِ مستطاب میں ثابت و مقرر کیا کسے مجال کہ اس خالق لم یزل کے مقرر کردہ کو باطل کردے۔ یہاں نہیں تو بروزِ حشر اپنے اعمال صالحہ مقبولہ بدلے میں دینا ہونگے اعمال دینے سے بات نہ بنی تو ان وارثین کے گناہ ان پر لاد دیئے جائیں گے جنکا حصہ انہوں نے باطل طریقے سے ہڑپ کرلیا۔
بہر کیف تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ مکان کو 11 حصص میں تقسیم کیا جائے گا ۔ ہر بھائی کو بہن سے دگنا ملے گا۔ یعنی 11 میں سے ہر بھائی کے 2 حصے اور ہر بہن کا 1 حصہ ہوگا۔
کل حصے: 11
بھائی:2 ، بھائی:2 ، بھائی:2، بہن:1، بہن:1، بہن:1، بہن:1، بہن:1
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)
فائدہ:رقم تقسیم کرنے کاحسابی طریقہ: مکان کی مارکیٹ ویلیو لگواکر کل حصوں کو (11) پر تقسیم کریں جو جواب آئے اس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھر اس محفوظ جواب کو ہر وارث کے حصہ سے ضرب کریں جو جواب آئے گا وہ ہر وارث کی رقم ہوگی جو بطورِ وراثت اسے اپنے مورث سے مل رہی ہے۔پھر آخر میں تمام ورثاء کی رقم کو ملاکر چیک کرلیں اگر وہ کل مجموعہ کل جائیداد کی رقم کے برابر ہے تو تقسیم درست ہے ورنہ نہیں۔
وراثت سے حصہ نہ دینے کا حکم:
ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وراثت کے مستحق لوگوں کو انکا حصہ نہیں دیاجاتا ،ایسے کرنا کفار کا طریقہ ہے قرآن مجید میں اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌترجمہ کنز الایمان :۔اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔ ( سورۃ الفجر آیت 17تا 25)
نیز کسی کی وراثت کا حصہ دبا لینا، ناحق مال کھانےاور غصب کرنےکے حکم میں ہے جس کے بارے میں قرآن وسنت میں سخت ممانعت آئی ہے۔ارشاد باری تعالٰی ہے: یٰاَیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا لَا تَاکُلُوا اَمْوٰلَکُمْ بَینَکُمْ بِالْبٰطِلِ۔ ترجمہ: اے ایمان والو! باطل طریقے سے آپس میں ایک دوسرے کے مال نہ کھاؤ۔(النساء:29)
دوسرے کامال غصب کرنے والے کے بارے میں حدیث شریف میں ہے:مَنْ أَخَذَ شَيْئًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حِلِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ اَرضِينَ، لَا يَقْبَلُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا۔ ترجمہ: جو زمین کے کسی ٹکڑے پرناجائز طریقے سے قابض ہوا تواسے سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا اور اس کا نہ کوئی فرض قبول ہوگا نہ نفل۔(مسند ابی یعلی،رقم الحدیث:744)
مسلم شریف کی حدیث ہے:مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينِهِ، فَقَدْ أَوْجَبَ اللهُ لَهُ النَّارَ، وَحَرَّمَ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: وَإِنْ كَانَ شَيْئًا يَسِيرًا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «وَإِنْ قَضِيبًا مِنْ أَرَاكٍ۔ ترجمہ: جس شخص نے قسم کی وجہ سے کسی مسلمان شخص کا حق دبا لیا تو بِلاشُبَہاللہ تعالٰی نے اس کے لئے جہنم کو واجب کردیااور اس پر جنّت حرام کردی۔عرض کی گئی:یارسولَ اللہ ﷺ!اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ ارشاد فرمایا : اگر چہ وہ پیلو کی مسواک ہی کیوں نہ ہو۔ (صحیح مسلم،رقم:137)
اسی طرح مشکاۃ شریف کی حدیث ہے:حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضور اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا:مَنْ قَطَعَ مِیْرَاثَ وَارِثِہٖ قَطَعَ اللہُ مِیْرَاثَہٗ مِنَ الْجَنَّۃِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔ ترجمہ :جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کو کاٹ دے گا۔(مشکاۃ المصابیح،رقم:3078،المکتبۃ الاسلامی بیروت)
یونہی بخاری شریف میں ہے :فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ :ترجمہ:۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکوسات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔( بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:08 جمادی الاول 1445ھ/ 23 نومبر 2023 ء