سوال
کیا فرماتے ہیں علماء اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا 2000ء میں انتقال ہوا،جس کی ملکیت میں ایک مکان ہے جس کی مالیت تقریبا ایک کڑور روپے ہے۔ اسکی دو بیویاں تھیں ایک کا انتقال 1958 میں ہوا اور دوسری کا 2007 ء میں ہوا ۔ جس بیوی کا 1958 میں انتقال ہوا اس سے چار بچے ہیں۔ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں ہیں ۔ اور جس بیوی کا 2007 میں انتقال ہوا اس سے چھ بچے ہیں جس میں دو بیٹے ، اور چار بیٹیاں ہیں۔ساری اولاد شادی شدہ اور صاحب اولاد ہیں۔ اب وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟سب کا کتنا کتنا حصہ ہوگا۔
سائل: غلام محمد،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو جائیداد کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل جائیداد کے 832 حصے کیے جائیں گے۔ جس زوجہ کا انتقال1958 میں ہوا اسکے بیٹے کو 832 حصوں میں سے 112 حصے دیئے جائیں گے اور اسکی تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 56 حصے دیئے جائیں گے۔ اور جس زوجہ کا انتقال 2007 میں ہوا اس کی اولاد میں سے ہر بیٹے کو 138 حصے اور ہر بیٹی کو 69 حصے دیئے جائیں گے۔
مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے :
بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ:ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
السراجی فی المیراث ص18 میں ہے:اما للزوجات الربع للواحدۃ فصاعدۃ عند عدم الولد او ولد الابن والثمن مع الولد او ولد الابن وان سفل :ترجمہ: ایک بیوی ہو یا ایک سے زائد اولاد نہ ہونے کی صورت میں اسکا (زوج کی وراثت سے )چوتھا حصہ ہے، اور بیٹا، بیٹی یا پوتا پوتی کی موجودگی میں زوجہ کو آٹھواں حصہ ملے گا۔
قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ : ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
نوٹ: مکان کی قیمت ایک کروڑ اس طرح تقسیم ہوگی کہ جس زوجہ کا انتقال1958 میں ہوا اسکے بیٹے کو 1346153 روپے ملیں گے اور اسکی تینوں بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 673077روپے ملیں گےاورجس زوجہ کا انتقال 2007 میں ہوا اس کی اولاد میں سے ہر بیٹے کو 1658653روپے اور ہر بیٹی کو 829327روپے ملیں گے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:01 صفر المظفر 1440 ھ/11اکتوبر 2018 ء