سوال
جناب میرے والد عمر خان کا انتقال ہوگیا ہے اور والدہ حیات ہیں، بیماری کی وجہ سے والدہ گھر فروخت کرنا چاہتی ہیں ۔ ہم چھ بھائی اور ایک بہن ہے۔ہمارا ایک بھائی مکان فروخت کرنے میں ہمارے ساتھ نہیں ہے کیونکہ وہ کہہ رہا ہے کہ جو حصے بنے گا اسکے علاوہ چار لاکھ بھی لوں گا۔ ہم سب بھائی شادی شدہ ہیں سب کے بچے بڑے ہیں ایک مکان میں گزارہ مشکل ہے ۔ ہمیں بتائیں کہ ہم کیا کریں۔ہرایک کا کیا حصہ ہوگا۔
سائل: عامر قادری ۔زمان آباد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا سوال میں ذکر کیا گیا تو وراثت کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ کل وراثت کے 104 حصے کیے جائیں گے۔ جس میں سےزوجہ (آپکی والدہ)کو سے 13 حصے دیئے جائیں گے اورہر بیٹے کو 14،14 حصے اور بیٹی کو 7 حصے دیئے جائیں گے۔آپکے بھائی کا حصے کے علاوہ رقم کے تقاضے کی کوئی شرعی وجہ مثلا قرض یا کوئی اور وجہ نہیں تو یہ تقاضا جائز نہیں ہے۔
بیویوں کےحصے بارے میں ارشاد ہے ۔قال اللہ تعالیٰ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
السراجی فی المیراث ص18 میں ہے:اما للزوجات الربع للواحدۃ فصاعدۃ عند عدم الولد او ولد الابن والثمن مع الولد او ولد الابن وان سفل:ترجمہ: ایک بیوی ہو یا ایک سے زائد اولاد نہ ہونے کی صورت میں اسکا (زوج کی وراثت سے )چوتھا حصہ ہے، اور بیٹا، بیٹی یا پوتا پوتی کی موجودگی میں زوجہ کو آٹھواں حصہ ملے گا۔
بیٹے اور بیٹیوں کے حصے بارے میں ارشاد ہے ۔ قال اللہ تعالیٰ یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
نوٹ: مکان کی قیمت تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ مکان کی قیمت لگواکر اس کو 104 پر تقسیم کرلیا جائے ، جو جواب آئے اسکو ہر ایک وارث کے حصے میں ضرب دے دیں حاصل ضرب ہر ایک وارث کا حصہ ہوگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:1 ربیع الاول 1440 ھ/10 نومبر2018 ء