بیوی کی وراثت سے حصہ نیز بیوی کے جنازے کو کندھا دینا
    تاریخ: 6 اپریل، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1100

    سوال

    میری زوجہ کا 26 جون 2021 کو انتقال ہوا ہے ۔ میرا ایک بیٹا ہے جو کہ ایک سال گیارہ مہینے کا ہے ۔ مرحومہ کی والدہ کا پہلے انتقال ہوگیا ہے۔جبکہ والد 4 بھائی اور 3 بہنیں موجود ہیں ۔ انتقال کے بعد میری بیوی کو خود دفنانے لے گئے اور کہا کہ اب میں نا محرم ہوگیا ہوں کندھا تک نہ دینے دیا ۔ مجھے اس بارے میں فتویٰ درکار ہے کہ مرحومہ کی جائیداد کا مستحق کون کون ہے ۔ انکے خاندان والے سامان اور زیور کا تقاضا کررہے ہیں ۔ جبکہ آدھا سامان انکے پاس ہی ہے۔

    سائل:محمد عبدالبصیر نقشبندی:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو 12حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جس میں مرحومہ کے شوہر کو 3 حصے، والد کو2حصے، اور بیٹے کو 7 حصے دیے جائیں گے۔جبکہ مرحومہ کے بھائیوں اور بہنوں کو وراثت سے کچھ نہ ملے گا۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے: بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)

    ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالی:وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ.ترجمہ کنز الایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو ۔(النساء : آیت نمبر 12)

    بیٹا مابقی سب لے لے گا کیونکہ وہ عصبہ بنفسہ ہے جیساکہ سراجی میں ہے :اما العصبہ بنفسہ وہم اربعۃ اصناف : جزء المیت، اعنی اولاہم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوہم وان سفلوا (ملخصا)ترجمہ:عصبہ بنفسہ چار اقسام پر ہیں ان میں سے پہلا میت کا جزء یعنی وراثت کا سب سے زیادہ حقدار میت کا جزء یعنی اسکے بیٹے ہیں پھر اگر بیٹے نہ ہوں تو انکے بیٹے (یعنی پوتے)۔(السراجی فی المیراث باب العصبات ص 36 )

    موجودہ صورت حال میں میت کے بہن بھائیوں کو وراثت سے حصہ نہیں ملے گا۔السراجی فی المیراث میں ہے :وبنوا الاعیان کلہم یسقطون بالابن وابن الابن وان سفل ۔اورسگے بہن بھائی بیٹے اور پوتے کی وجہ سے ساقط ہوجائیں گے۔ (السراجی فی المیراث فصل احوال الاخوات لاب ص 27)

    فائدہ : جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل جائیداد بیچ کر یا اسکی قیمت لگوا کر کل رقم کو مبلغ یعنی 12 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    تنبیہ: شوہراپنی بیوی کے جنازے کو کندھا دے سکتا ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ یہ عوام میں غلط مشہور ہے کہ شوہر بیوی کو کندھا نہیں دے سکتا۔

    سیدی اعلیٰ حضرت سے سوال کیا گیا کہ اگر عورت مر جائے تو شوہر اس کے جنازے کو ہاتھ لگائے یا نہیں؟آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں:جنازے کو محض اجنبی ہاتھ لگاتے، کندھوں پر اُٹھاتے، قبر تک لے جاتے ہیں، شوہر نے کیا قصور کیا ہے۔یہ مسئلہ جاہلوں میں محض غلط مشہور ہے۔(فتاویٰ رضویہ جلد 9 ص 138رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29 ذوالحجۃ 1442 ھ/09 اگست 2021 ء