بیوی، تین بیٹے، تین بیٹیاں
    تاریخ: 4 اپریل، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 1098

    سوال

    ایک شخص کا انتقال ہوا ،اسکے ورثاء میں ایک بیوی(شاہدہ خانم)،تین بیٹے (واحد، واجد، ساجد)اور تین بیٹیاں (حمیرا، سمیرا،سمرین)ہیں۔جائیداد میں ایک مکان ہے اسکی تقسیم کیسے ہوگی ہر ایک کا کتنا پرسنٹ ہوگا شرعی رہنمائی فرمادیں۔

    سائل:واحد :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امور متقدمہ علی الارث(یعنی میت کے کفن دفن کے اخراجات،اگر اس پر قرضہ ہو تو اسکی ادائیگی ،اگر اس نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تو ایک ثلث سے اس وصیت کے نفاذ)کے بعد کل مال وراثت کو 72 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جس میں مرحوم کی بیوی کو 9حصے، اور ہر بیٹے کوالگ الگ 14 حصے، اور ہر بیٹی کو الگ الگ 7 حصے ملیں گے۔

    ہر ایک کا فیصد کے اعتبار سے حصہ:

    بیوی: 12.50٪ ہر بیٹا: 19.44٪ ہر بیٹی: 9.72٪

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔(سورۃ النساء آیت نمبر: 10)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء: 10)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:07 رجب المرجب 1443 ھ/09 فروری2022 ء