بیوی، تین بیٹیاں اور ایک بیٹا
    تاریخ: 4 اپریل، 2026
    مشاہدات: 2
    حوالہ: 1097

    سوال

    ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا ہے ورثاء میں میری والد، ہم تین بہنیں اور ایک بھائی ہے۔ انکی وراثت میں ایک دوکان،ایک مکان اور کچھ زیور ہے ۔ کس کس کاحصہ ہوگا اور کتنا حصہ ہوگا؟ تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔نیز زیور صرف والدہ کا ہوگا یا وہ بھی وراثت میں آئے گا۔

    سائل:فہیم میمن:کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ مرحوم کے ترکہ سے انکے کفن دفن کے اخراجات نکالے جائیں گے پھر اسکے بعد دیکھا جائے گا کہ ان پراگرکوئی قرض تھا تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے پہلے اس قرض کی ادائیگی کی جائے گی۔پھر اگر کوئی جائز وصیت کی تھی تو بقیہ مال کے ایک تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد کل مال تمام ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا۔

    تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ مرحوم کےترکہ کو 40 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ۔جس میں سے بیوی کو 5حصے ،بیٹیوںمیں سے ہر ایک کو الگ الگ 7 حصے ، جبکہ بیٹے کو14 حصے ملیں گے۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے:

    ماں،باپ کے حصےکے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالی:وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ۔ترجمہ کنز الایمان : اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے)اگر میت کے اولاد ہو ۔(النساء : آیت نمبر ٍ10)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10) واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29 شعبان المعظم 1442 ھ/13 اپریل 2021 ء