سوال
ہمارے والد کا انتقال ہواہے ورثاء میں ایک بیوی، دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں ، وراثت میں 6 لاکھ روپے ہیں ، انکی تقسیم کیسے ہوگی۔
سائل:زیب عالم :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں مرحوم پراگرکوئی قرض تھا تو چھوڑے ہوئے مال میں سے پہلے اس کی ادائیگی کی جائے گی پھر اگر کوئی جائز وصیت کی تھی تو بقیہ مال کی تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد رقم تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کی جائے گی،تقسیم کی تفصیل یہ ہےکہ کل مالِ وراثت کے 48 حصے کئے جائیں گے۔ جس میں سے مرحوم کی زوجہ کو 6 حصے ہر بیٹے کو لاگ الگ 14 حصے، اور ہر بیٹی کو الگ الگ 7 حصے دیئے جائیں گے۔رقم کی صورت میں تقسیم یوں ہوگی کہ زوجہ کو 75000، ہر بیٹے کو الگ الگ 175000،اور ہر بیٹی کو الگ الگ 87500 روپے ملیں گے۔
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے:قال اللہ تعالیٰ :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان : اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء:11)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:07 محرم الحرام 1443 ھ/16 اگست 2021 ء