تین بیٹیاں پوتا پوتی کی وراثت
    تاریخ: 31 مارچ، 2026
    مشاہدات: 6
    حوالہ: 1073

    سوال

    میری ساس(رضیہ) کا ایک ذاتی ملکیتی گھر ہے، جسکی تقسیم کے لئے فتوٰی درکار ہے، ساس کے شوہر کا پہلے انتقال ہوگیا انکی کل 5 اولاد ہیں جس میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں، بیٹے کا انتقال ساس کی زندگی میں ہوگیا اسی طرح بیٹے کی بیوی کا انتقال بھی ساس کی زندگی میں ہوا، جبکہ بیٹے کی اولاد میں ایک بیٹا (حسین)اور ایک بیٹی (بسمہ)ہے، اسی طرح ایک بیٹی کا بھی زندگی میں انتقال ہوگیا ۔ ساس کی وفات کے وقت صرف انکی تین بیٹیاں (ثمینہ، شبانہ، روبینہ) حیات تھی، بعد ازاں ایک بیٹی (ثمینہ )کا انتقال ہوگیا ، ثمینہ کے ورثاء میں شوہر(معراج)اور (حسن، حسنین)دو بیٹے ہیں۔مکان کی ویلیو 50 لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں کس کس کا حصہ ہوگا اور کتنا کتنا؟ ارشاد فرمائیں۔

    سائل:محمد زاہد : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ بیان کیاگیا تو امورِ متقدمہ علی الارث (تجہیز وتکفین، ادائے قرض ، وصیت از ثلث)کے بعدحکم شرع یہ ہےکہ جس بیٹی کا انتقال زندگی میں ہوا اسکی اولاد اپنی نانی کی وراثت سے کچھ حصہ نہ پائے گی ، جبکہ بیٹے کی اولاد دادی کی وراثت میں بطورِ عصبہ بنفسہ حقدار ہوگی۔ تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ گھر کو 36 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے:

    شبانہ روبینہ حسین بسمہ معراج حسن حسنین

    8 8 8 4 2 3 3

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کےمطابق ہے: بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)

    لڑکیوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالٰی:فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ، وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ۔ترجمہ: پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگردو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی، اور اگر ایک لڑکی تو اس کا آدھا۔

    السراجی میں ہے: اولاھم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوھم وان سفلوا۔ ترجمہ:وراثت کے زیادہ حقدار میت کا جزء ہے یعنی اسکے بیٹے پھر ان بیٹوں کے بیٹے اسی طرح نیچے۔(السراجی فی المیراث، ص 54)

    فائدہ :رقم تقسیم کرنے کا حسابی طریقہ :جائیداد منقولہ وغیر منقولہ کی تمام رقم کو فتوی میں بیان کردہ کل حصو ں 36پر تقسیم کریں جو جواب آئےاس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھراس محفو ظ جواب کو ہر وارث کے حصہ میں ضرب کریں جو جواب آ ئے گا وہ ہر وارث کی رقم ہو گی جو بطور وراثت اسے اپنے مورث سے مل رہی ہے ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:20 ذوالعقدہ 1445ھ/ 29 مئی 2024 ء