تین بیٹیاں پانچ بھتیجےکا حصہ
    تاریخ: 31 مارچ، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1074

    سوال

    ایک شخص کا انتقال ہوا، اسکے ورثاء میں تین بیٹیاں ہیں ، والدین اور بیوی پہلے ہی وصال کرچکے ۔اور اسکے علاوہ دو بھائی اور تھے جو پہلے ہی وفات پاگئے، دونوں بھائیوں کی اولاد میں 5 لڑکے اور 3 لڑکیاں ہیں ۔ ہرایک کا کیا حصہ ہوگا ؟شرعی رہنمائی فرمادیں۔

    سائل:اسماعیل : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو حکم شرع یہ ہے کہ مرحوم کے مال وراثت کو 45 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے مرحوم کی بیٹیوں کو 30 حصے (ہر بیٹی کو 10 حصے)اور بھتیجوں کو 15 حصے (ہر بھتیجے کو 3 حصے) ملیں گے۔بھتیجیوں کو وراثت سے حصہ نہیں ملے گا۔

    مذکورہ تقسیم اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے ،کہ اگر دو یا دو سے زائد بیٹیاں ہوں تو انکو ودثلث یعنی 2/3 ملے گا یعنی کل جائیداد کے تین حصے کیے جائیں گے اس میں سے دو حصے بیٹیوں میں تقسیم کیے جائیں گے ۔قال اللہ تعالٰی: فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ۔ ترجمہ کنز الایمان :پھر اگر نری لڑکیاں ہوں اگرچہ دو سے اوپر تو ان کو ترکہ کی دو تہائی ہے۔(النساء:10)

    بھتیجوں کی موجودگی میں بھتیجیاں وراثت سے محروم ہوتی ہیں ۔ بھتیجے انہیں عصبہ نہیں بناتے کہ انہیں بھتیجوں کے ساتھ مل کر ان کے حصہ کا نصف ملے۔چناچہ سیدی اعلٰی حضرت فتاوٰی رضویہ میں لکھتے ہیں:غیرابن وابن الابن وان سفل واخ عینی یاعلاتی ہیچ ذکرراقوت تعصیب نیست تاآنکہ ابن الاخ یاعم وابن الاعم ہم خواھر عینیہ خودش راعصبہ نتواں نمود۔ علامہ محمد بن علی دمشقی درہمیں درمختار فرمود قال فی السراجیۃ:ولیس ابن الاخ بالمعصب من مثلہ اوفوقہ فی النسب۔ترجمہ: بیٹے، پوتے اگرچہ نیچے تک ہوں، حقیقی بھائی یاعلاتی بھائی کے سوا کوئی مذکر کسی کو عصبہ بنانے کی طاقت نہیں رکھتا یہاں تک کہ بھتیجا یاچچا یاچچا کابیٹا بھی خود اپنی حقیقی بہنوں کو عصبہ نہیں بنا سکتے۔ علامہ محمد بن علی دمشقی نے اسی درمختارمیں فرمایا کہ سراجیہ میں کہاہے : بھتیجا عصبہ بنانے والانہیں ہے۔ نہ اپنی مثل کونہ اس کوجونسب میں اس سے اوپرہے۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الفرائض،جلد 26 ص 249،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:08 ربیع الاول 1441 ھ/06 نومبر 2019 ء