تین بیٹیاں ، دو بیٹے کی وراثت
    تاریخ: 31 مارچ، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1072

    سوال

    میرا نام عبدالعزیز ہے میرے والد کا والدہ کا انتقال ہوچکا ہے انکی رواثت میں دو فلیٹ تھے ، جس میں سے ایک فلیٹ انہوں نے زندگی میں ہی میرے چھوٹے بھائی جاوید کے نام کردیا ،اور انکو قبضہ بھی دے دیاجس میں دو کمرے تھے اور دوسرا فلیٹ اپنے نام پر ہی رکھا ،جس میں وہ خود رہتے تھے ۔ جبکہ میں والد والدہ سےالگ رہتا تھا۔اور بہنیں سب شادی شدہ ہیں۔جو اپنے اپنے گھروں میں ہیں۔ہم ورثاء میں دو بھائی(عبدالعزیز،جاوید)،تین بہنیں (مریم،زاہدہ،رخسانہ)ہیں ۔ایک بہن مریم کا انتقال والد کے بعد ہوا وہ شادی شدہ تھی اسکے شوہر کا ان سے پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا اب انکے ورثاء میں ایک بیٹا)کامران) اور دو بیٹیاں (نازیہ،ثوبیہ) ہیں۔ جو فلیٹ والد صاحب کے نام تھا اس وقت وہ بھائی نے 25 لاکھ کا بیچا ہے ۔ تمام ورثاء میں سے کس کس کو ملے گا اور کتنا کتنا ۔ حساب کرکے بتادیں ۔

    سائل: عبدالعزیز ،حسین آباد: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت اگر سچ پر مبنی ہے تو حکم شرع یہ ہے کہ ذکرکردہ ورثاء میں سے تمام ورثاء بشمول مریم کے شرعی وارث ٹھہرے ہیں ۔جو فلیٹ والد صاحب نے جاوید کے نام کیا اور انہوں نے اس پر قبضہ بھی کرلیا تو وہ اس فلیٹ کے اکیلے مالک ہیں جبکہ دوسرا فلیٹ جوانہوں نے بیچ دیا اس کی رقم تمام ورثاء میں تقسیم ہوگی جسکی تفصیل یہ ہے کہ کل مال وراثت کے 28 حصے کئے جائیں گے جس میں سے عبدالعزیز اور جاوید کو آٹھ،آٹھ حصے دیئے جائیں گے۔جبکہ زاہدہ اور رخسانہ کو چار ،چار حصے دیئے جائیں گے۔ مریم کا حصہ اسکے ورثاء میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مریم کے بیٹے کو دو حصے اور بیٹیوں کو ایک ،ایک حصہ دیا جائے گا ۔

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا: یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ

    ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے:

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ ہی ہے کہ کل رقم کو مبلغ یعنی 28 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29 ذوالقعدہ 1440 ھ/01 اگست 2019 ء