جائیداد سے عاق کرنا اور وراثت کی تقسیم
    تاریخ: 31 مارچ، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 1071

    سوال

    محمد افضل نے دو شادیاں کیں پہلی بیوی کا انتقال ہوگیا، جس سے 2 لڑکے (ذوالفقار،روشن علی)اور تین لڑکیاں (کریمہ،خدیجہ اور زیب النساء)ہیں ،جس میں سے ایک بیٹی (کریمہ)کا انتقال محمد افضل کی زندگی میں ہوگیا تھا، اور ایک بیٹی (زیب النساء)کا انتقال محمدافضل کی وفات کی بعد ہوا۔اسکے ورثاء میں شوہر(امان اللہ)دو بیٹے(کلیم اللہ،سیف اللہ)اور 3 بیٹیاں(نور نساء، ظہیر نساء اور سمیرا)ہیں۔جبکہ ایک حیات ہے ۔ دوسری بیوی سے صرف ایک بیٹا (ذاکر)ہے۔محمد افضل نے دوسری بیوی کو طلاق دے دی تھی جبکہ اسکے بیٹے)ذاکر) کو جائیداد سے بے دخل کردیا تھا۔اور اخبار میں دے دیا تھا اور اسے گھر سے نکال دیا تھا۔

    محمد افضل کے ترکہ میں 5 لاکھ اور 7 کمرے کا مکان ہے۔

    پوچھنا یہ ہے کہ ذاکر کو حصہ دیا جائے گا یا نہیں ؟ نیز جائیداد سے بے دخل کرنے سے نکلتا ہے یا نہیں؟جو بیٹی زندگی میں انتقال کرگئی اسکا حصہ دیا جائے گا یا نہیں؟اور جو بعد میں فوت ہوئی اسکی اولاد کا حصہ ہوگا یا نہیں؟

    قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ، عربی عبارات ہوں تو انکا ترجمہ و حوالہ بھی بیان فرمادیں۔

    سائل: روشن عطاری :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جائیداد سے عاق کرنا (بے دخل)شرعا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔جائیداد و وراثت میں ہر وارث کا حق خو د اللہ کریم نے ثابت فرمایا ہے تو بندہ کی کیا مجال کہ اللہ تعالٰی کے ثابت و مقرر کردہ حق کو اپنی رائے و اختیار سے ساقط کردے۔ لہذا بلاشبہ اس وراثت میں ذاکر کا بھی اسی طرح حصہ ہوگا جیساکہ مرحوم کے دیگر بیٹیوں اور ورثاء کا ہے۔

    جس بیٹی کا باپ کی زندگی میں انتقال ہوگیا اسکا وراثت میں حق ثابت نہیں ، لہذا اسکے ورثاء وراثت کے مستحق نہ ہونگے۔البتہ دوسری بیٹی جس کا انتقال بعد وفاتِ والد ہوا بے شک اسکا حصہ اسکے ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگا۔

    وراثت کی تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت (5 لاکھ اور مکان کی موجودہ ویلیو)کو 224حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے ہر بیٹے (ذوالفقار،روشن،ذاکر )کو الگ الگ 56 حصے ، بیٹی (خدیجہ)جو حیات ہے اسکو 28حصے ، جبکہ زیب النساء کے وراثت میں سے شوہر (امان اللہ)کو 7حصے، ہر بیٹے (کلیم اللہ، سیف اللہ)کو الگ الگ 6حصے، اور ہربیٹی(نور نساء، ظہیر نساء اور سمیرا) کو الگ الگ 3 حصے ملیں گے.

    عاق کرنے کے حوالے سے سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں: عاق کردینا کوئی شے نہیں۔(فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 615)

    ایک اور مقام پر ارشاد فرماتے ہیں: عاق کردینا شرعا کوئی چیز نہیں، نہ اس سے ولایت زائل ہو۔(فتاویٰ رضویہ جلد 11 ص 648)

    جن کا انتقال مرحوم کی زندگی میں ہوا وہ مستحق وراثت نہیں جیساکہ الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت۔ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ)تھے ۔ ( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)

    البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت) أي وقت الحكم بالموت۔ ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)

    مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے۔بیوی کا انتقال ہوجائے تو شوہر کا کتنا حصہ ہوگا اس بارے میں ارشادباری تعالٰی ہے: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ۔ترجمہ کنز الایمان : اور تمہاری بیبیاں جو چھوڑ جائیں اس میں سے تمہیں آدھا ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو پھر اگر ان کی اولاد ہو تو اُن کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے۔(النساء : آیت نمبر 11)

    لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : آیت نمبر 10)

    السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔

    فائدہ : جائیداد کی رقم تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کو مبلغ یعنی 224 پر تقسیم کردیں جو جواب آئے اسکو ہر ایک کے حصے میں ضرب دے دیں،حاصل ضرب ہر ایک کا رقم کی صورت میں حصہ ہوگا۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:23 رمضان المبارک 1442 ھ/06 مئی 2021 ء