warasat o shirkat ka masla
سوال
میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ،اولاد میں چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں ، سب شادی شدہ ہیں ، چار بیٹیوں کی شادی کے بعد جب بڑے بیٹے کی شادی ہوئی تو اس وقت ہمارے پاس میرے شوہر کی کمائی کا ایک مکان تھا جو کہ 14 لاکھ روپے کا تھا۔پھر جب چھوٹے بیٹے کی شادی ہوئی تو دوسرا مکان لینا پڑا جوکہ 28 لاکھ کا پڑا۔سب کی اجازت سے پہلے والا مکان 14 لاکھ کابکا اور 14 لاکھ کا قرضہ لینا پڑا وہ قرضہ بڑے بیٹے نے لیا اورسارا قرضہ بھی بڑے بیٹے نے ہی اتارا پھر کچھ ٹائم بعد دونوں کا الگ رہنے کا ارادہ ہواتو بڑے بیٹے نے اس وقت وہ مکان بیچا جو کہ 40 لاکھ کا بکا ، جس میں سے 20 لاکھ چھوٹے بیٹے کو دے دیئے ۔ اب بیٹیاں اپنا حصہ مانگ رہی ہیں تو بڑے بیٹے کا کہنا ہے کہ میں نے 20 لاکھ چھوٹے بھائی کو دے دیئے ہیں اب جو کچھ بھی لینا دینا کرے گا وہ چھوٹا بھائی کرے گا ۔ مسئلہ حل فرمادیں اس صورت میں تقسیم کیسے ہوگی۔
سائلہ:شیر بانو : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پہلا مکان جو بیچا اس سے حاصل ہونے والی رقم میں تمام ورثاء بشمول بڑے بھائی سب شریک تھے لیکن دوسرے مکان کی کل قیمت کی نصف رقم جو بڑے بھائی نے بطورِ ادھا رلی پھر اسکی ادائیگی بھی اسی نے کی، اور اس معاملے میں سب کی اجازت بھی موجود تھی تو ظاہر یہی ہے کہ مکان کے نصف حصہ میں اسکی شرکت تھی ، جبھی اس نے اس رقم کا ضمان اپنے ذمے لیا ۔ اس اعتبار سے وہ نصف مکان کا مالک ہوا لٰہذا اس نصف حصہ کی قیمت ( 20 لاکھ) روپوں میں وراثت جاری نہ ہوگی بلکہ مابقی نصف حصہ کی رقم( 20 لاکھ) اس بھائی سمیت تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔ جسکی تفصیل یہ ہے کہ مابقی 20 لاکھ کو 64 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے مرحوم کی زوجہ کو 8 حصے ،ہر بیٹی کو الگ الگ 7 حصے، جبکہ دونوں بیٹوں کو الگ الگ 14 حصے ملیں گے۔
وراثت کا مال تمام ورثاء کو بطور شرکت ملک حاصل ہوتا ہے، اور شرکت الملک میں تمام ورثاء ایک دوسرے کےحصہ میں اجنبی کی طرح ہوتے ہیں کوئی بھی وارث دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف نہیں کرسکتا ۔جبکہ اجازت کے ساتھ تصرف جائز ہے، تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: شَرِكَةُ مِلْكٍ، وَهِيَ أَنْ يَمْلِكَ مُتَعَدِّدٌ عَيْنًا أَوْ دَيْنًا أَوْ بِإِرْثٍ أَوْ بَيْعٍ أَوْ غَيْرِهِمَا،وَكُلٌّ أَجْنَبِيٌّ فِي مَالِ صَاحِبِهِ۔ترجمہ: شرکت ملک یہ ہے کہ متعدد اشخاص عین یا دین میں یا وراثت میں یا بیع یا کسی اور چیز میں مشترکہ مالک ہوجائیں ،ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی ہوگا۔(تنویر الابصار مع الدر المختار ،کتاب الشرکۃ جلد 4 ص 299،300)
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَجْنَبِيٌّ فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ حَتَّى لَا يَجُوزَ لَهُ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِيهِ إلَّا بِإِذْنِهِ۔ ترجمہ:ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی کی طرح ہے حتٰی کی ایک کو دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الشرکۃ جلد 3 ص 313)
شامی میں ہے:أما لو بإذنه للشركة يرجع بحصته عليه بلا شبهة رملي على الأشباه۔ ترجمہ:بہرحال اگر شرکت کی وجہ سے اجازت کے سبب ہو تو وہ بلاشبہہ اپنے حصہ (شرکت) کے لئے رجوع کرے گا۔رملی نے اشباہ پریہ بات کہی ہے۔ (ردالمحتار جلد 6 ص 268 بیروت )
مجلۃ الاحکام میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ۔ترجمہ:شرکۃ الملک میں اموال ِ مشترکہ سے حاصل ہونے والے مال کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔( مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 )
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ کنز الایمان : تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء :آیت نمبر :12)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ ترجمہ کنز الایمان :۔ اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء :آیت نمبر :11)
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:22 رجب المرجب 1444 ھ/14 فروری 2023 ء