سوال
بچوں کی گڑیا یا ٹیڈی بیئر وغیرہ کا کیا حکم ہے؟ کیا انکا بیچنا،خریدنا اور ان سے کھیلنا جائز ہے؟
سائل: مفتی شہباز سالک،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں یہ کھلونے خریدنا’ بیچنا جائز ہے اور بچوں کا ان سے کھیلنا بھی جائز ہے۔اگرچہ کھلونے واقعۃً کسی جاندار چیز کی تصویر والے ہوں مثلاً گڑیا کہ جس میں تعظیمِ حقیقی کی کوئی صورت نہ پائی جاتی ہو،جیسا کہ ہمارے ہاں گھروں میں کھلونوں کی باقاعدہ جگہ مخصوص ہوتی ہے اس وقت بھی یہ صورت ناجائز نہیں ہوگی کہ مقصود ان کی حفاظت ہوتی ہے نہ کہ تعظیم۔لیکن ان کھلونوں پر بچوں کو میوزک لگا کر دینا بھی جائز نہیں۔
صحیح مسلم میں ہے:"ونصوم صبياننا الصغار منهم إن شاء الله، ونذهب إلى المسجد، فنجعل لهم اللعبة من العهن، فإذا بكى أحدهم على الطعام أعطيناها إياه عند الإفطار".ترجمہ: ہم اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھواتے تھے اور ہم انہیں مسجد کی طرف لے جاتے اور ہم ان کے لئے روئی کی گڑیاں بناتے اور جب ان بچوں میں سے کوئی کھانے کی وجہ سے روتا تو ہم انہیں وہ گڑیا دے دیتے تاکہ وہ افطاری تک ان کے ساتھ کھیلے۔ (صحیح مسلم،کتاب الصیام،باب من اکل عاشوراء...الخ،2/798،رقم الحدیث:1136،دار احیاء التراث العربی)
سنن ابن ماجہ کی روایت ہے: "عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «كُنْتُ أَلْعَبُ بِالْبَنَاتِ وَأَنَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ يُسَرِّبُ إِلَيَّ صَوَاحِبَاتِي يُلَاعِبْنَنِي»".ترجمہ: اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گڑیوں سے کھیلا کرتی تھی، تو آپ میری سہیلیوں کو میرے پاس کھیلنے کے لیے بھیج دیا کرتے تھے۔(سنن ابن ماجہ،کتاب النکاح،باب حسن معاشرۃ النساء،1/637،رقم:1982دار احیاء الکتب العربیۃ)
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ(المتوفی:852ھ) نے فرمایا: "واستدل بهذا الحديث على جواز اتخاذ صور البنات واللعب من أجل لعب البنات بهن وخص ذلك من عموم النهي عن اتخاذ الصور وبه جزم عياض ونقله عن الجمهور وأنهم أجازوا بيع اللعب للبنات لتدريبهن من صغرهن على أمر بيوتهن وأولادهن".ترجمہ:’’اس حدیث سے استدلال کیا گیا کہ بچیوں کے کھیلنے کیلئے گڑیا اور کھلونوں کی تصویر رکھنا جائز ہے،اِسے تصاویر کی عام ممانعت سے خاص کیا گیا ہے، اسی پر قاضی عیاض رحمہ اللہ نے جزم فرمایا اور اس موقف کو جمہور سے نقل کیا ، اور انہوں نے بچیوں کے کھیلنے کیلئے گڑیا فروخت کرنا جائز قرار دیا تا کہ بچیوں کی بچپن سے ہی امورِ خانہ داری اور اولاد کی دیکھ بھال کرنے کی تربیت ہو‘‘۔(فتح الباری شرح صحیح البخاری،باب الانبساط الی الناس،10/527،دار المعرفۃ)
` کھلونوں کی خریدو فروخت کے متعلق الدر المختار میں ہے: "وفي آخر حظر المجتبى عن أبي يوسف: يجوز بيع اللعبة وأن يلعب بها الصبيان". ترجمہ: المجتبی کے باب الحظر کے آخر میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ کھلونے کی بیع جائز ہے اور بچوں کا اس سے کھیلنا بھی جائز ہے۔ (الدر المختار،باب السلم،باب المتفرقات من ابوابھا،5/226،دار الفکر)
اسی طرح ردالمحتار میں ہے: "لَوْ كَانَتْ مِنْ خَشَبٍ أَوْ صُفْرٍ جَازَ ".ترجمہ: کھلونے اگر لکڑی یا پیتل کے ہوں تو ان کو خرید نا جائز ہے۔(ردالمحتار،باب السلم،باب المتفرقات من ابوابھا،5/226،دار الفکر)
مطلقاً کھلونوں کا تصویر ہونا بیع و شراء کو ناجائز نہیں کرے گا،چنانچہ مفتی وقار الدین علیہ الرحمہ تصویر والی کتب کی خرید و فروخت کا حکم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’صورت مسئولہ میں ان کتابوں کو بیچنا جائز ہے کہ یہ کتابوں کی خرید و فروخت کرنا ہے نہ کہ تصاویر کی۔البتہ علیحدہ سے تصویر کا بیچنا حرام ہے ‘‘۔ (وقار الفتاوی،1/218)
یونہی صدر الشریعۃ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:’’رہا یہ امر کہ ان کھلونوں کا بچوں کو کھیلنے کے لئے دینا اور بچوں کا ان سے کھیلنا یہ ناجائز نہیں کہ تصویر کا بروجہِ اعزاز مکان میں رکھنا منع ہے نہ کہ مطلقاً یا بروجہ اہانت بھی‘‘۔(فتاویٰ امجدیہ،4/233،مکتبہ رضویہ کراچی)
لہذا اگرچہ کھلونوں میں جاندار کی تصاویر ہوتی ہیں لیکن خریدتے وقت وہ مقصود نہیں ہوتی تو ان کی خریدو فروخت جائز ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:11 شعبان المعظم1444 ھ/4 مارچ 2023ء