حالت حیض میں حج کرنے کا حکم
    تاریخ: 30 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 18
    حوالہ: 51

    سوال

    میں نے 2011 میں فریضہ حج اداکیا،احرام باندھنے کے بعد حج کے ایام میں ، میں حیض سے ہوگئی ۔ میں نے حیض کی حالت میں ،طواف زیارت، حج کے تمام ارکان ،طواف وداع ، اور تما م قصر نمازیں ادا کیں۔میں نے معلوم کیا ہے تو پتہ چلا کہ میرا حج تو ہوگیا ۔ لیکن اس بے ادبی اور گناہ کا ملال میرے دل سے نہ جاسکا۔لیکن اس صورت پر مجھ پر جو دم ہے اس کے بارے میں مجھے بتادیں کہ کس طرح ادا ہوگا اور اسکا کیا حل ہے۔ سائلہ: شمائلہ سلطان: کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر کسی عورت کو ایامِ حج میں حج کااحرام باندھنے کے بعد حیض آجائے تو وہ حج کے بقیہ تمام افعال ادا کرے ،یعنی منٰی ،عرفات اور مزدلفہ کے وقوف اور قربانی ،رمی ِجمرات سمیت تمام ارکان اداکرے ،لیکن بیت اللہ کا طواف نہ کرے ، نماز نہ پڑھے ،یونہی تلاوت بھی نہ کرے ،ذکر و اَذکار و تسبیحات ودرود جاری رکھے اور ایام ختم ہونے پر غسل کرکے پاک ہوجائے اور پھر طواف اداکرے ۔اگر حیض سے پاک ہونے تک مکہ میں ٹھہرنا ممکن نہ ہو اور پاکی کی حالت میں طواف بھی نہیں کیا جاسکتا، یعنی واپسی کی فلائٹ کا شیڈول بدلا نہ جاسکتا ہو یا فلائٹ یامَحرم یاشوہر کی روانگی کا مسئلہ درپیش ہو تو مجبوراً عورت طوافِ زیارت کرلے اور اُس پر بَدَنَہ یعنی اونٹ یا گائے کی قربانی حدودِ حرم میں دینی واجب ہوگی ۔ اسی طرح اگر طواف زیارت حالتِ حیض میں کیا تو اس پر بھی بدنہ یعنی اونٹ یا گائے کی قربانی حدودِ حرم میں دینا لازم ہوگی۔اور ناپاکی کی حالت میں طوافِ زیارت کرنے کی وجہ سے توبہ لازم ہوگی۔ چناچہ بخاری میں حدیث مبارکہ ہے:حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ القَاسِمِ، قَالَ: سَمِعْتُ القَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: خَرَجْنَا لاَ نَرَى إِلَّا الحَجَّ، فَلَمَّا كُنَّا بِسَرِفَ حِضْتُ، فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، قَالَ: «مَا لَكِ أَنُفِسْتِ؟» . قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الحَاجُّ، غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ»ترجمہ: حضرت قاسم بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عائشہ کو یہ کہتے ہوئے سنا:ہم حج کے لیے نکلے ،جب ’’سَرِف‘‘کے مقام پر پہنچے تو مجھے ایام شروع ہوگئے ،نبی ﷺ میرے پاس تشریف لائے ،میں اس وقت رورہی تھی ،آپ ﷺ نے فرمایا: کیا ہوا، کیا تمہیں حیض آگیا ؟ میں نے کہا: جی ہاں!،آپ نے فرمایا: یہ وہ چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دیا ہے، پس تم وہ افعال کرو جو تمام حجاج کرتے ہیں ،البتہ تم بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ۔(بخاری،حدیث نمبر : 294)

    اسی طرح مسلم شریف میں حضرت عائشہ سے طویل حدیث مروی ہے: فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْكِي، فَقَالَ: «مَا يُبْكِيكِ؟» قُلْتُ: سَمِعْتُ كَلَامَكَ مَعَ أَصْحَابِكَ فَسَمِعْتُ بِالْعُمْرَةِ قَالَ «وَمَا لَكِ؟» قُلْتُ: لَا أُصَلِّي، قَالَ: «فَلَا يَضُرُّكِ، فَكُونِي فِي حَجِّكِ، فَعَسَى اللهُ أَنْ يَرْزُقَكِيهَا، وَإِنَّمَا أَنْتِ مِنْ بَنَاتِ آدَمَ، كَتَبَ اللهُ عَلَيْكِ مَا كَتَبَ عَلَيْهِنَّ» قَالَتْ: فَخَرَجْتُ فِي حَجَّتِي حَتَّى نَزَلْنَا مِنًى فَتَطَهَّرْتُ، ثُمَّ طُفْنَا بِالْبَيْتِ، وَنَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحَصَّبَ، فَدَعَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: «اخْرُجْ بِأُخْتِكَ مِنَ الْحَرَمِ فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، ثُمَّ لِتَطُفْ بِالْبَيْتِ، فَإِنِّي أَنْتَظِرُكُمَا هَا هُنَا» قَالَتْ: فَخَرَجْنَا فَأَهْلَلْتُ، ثُمَّ طُفْتُ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، فَجِئْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي مَنْزِلِهِ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ، فَقَالَ: «هَلْ فَرَغْتِ؟» قُلْتُ: نَعَمْ، فَآذَنَ فِي أَصْحَابِهِ بِالرَّحِيلِ، فَخَرَجَ فَمَرَّ بِالْبَيْتِ فَطَافَ بِهِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَدِينَةِترجمہ:رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور میں رورہی تھی ،آپ ﷺ نے فرمایا: تم کیوں رو رہی ہو ،میں نے عرض کی: میں نے صحابہ کے ساتھ آپ کی گفتگو سنی ،میں نے عمرہ کی بابت سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہارا مسئلہ کیاہے ،میں نے عرض کی : میں نماز نہیں پڑھ پاؤں گی ، آپ ﷺ نے فرمایا: تمہیں اس کا کوئی نقصان نہیں ہے، بس اپنا حج جاری رکھو ،امید ہے اللہ تمہیں عنقریب عمرہ نصیب فرمائے گا ،تم آدم کی بیٹیوں میں سے ہو ،اللہ نے دیگر بناتِ آدم کی طرح تم پر بھی یہ (حیض) لکھ دیاہے ، (حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں) :پس میں نے اپنا حج جاری رکھا، یہاں تک کہ ہم منٰی میں اترے ،پھر میں پاک ہوگئی ،پھر ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا ،پھر ہم وادیِ مُحصَّب میں اترے ،پھر آپﷺ نے (میرے بھائی)عبدالرحمن بن ابی بکر کو بلایا اور فرمایا: اپنی بہن(عائشہ)کے ساتھ حدودِ حرم سے نکلو ، عمرے کی تَلْبِیَہْ پڑھو (یعنی احرام باندھو )،پھر بیت اللہ کا طواف کرو ،میں تم دونوں کا یہاں انتظار کروں گا ۔حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں:ہم(حدودِ حرم سے)نکلے ،پھر میں نے عمرہ کے لیے تَلْبِیَہْ پڑھی (یعنی احرام باندھا)،پھر میں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفاو مروہ کے درمیان سعی کی ،پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ،وہ نصف شب کو اپنی جگہ پر ہی تھے ،آپ ﷺ نے فرمایا: تم فارغ ہوگئی ہو ،میں نے عرض کیا: جی ہاں! پھر آپ ﷺنے صحابہ کو کُوچ کرنے کا حکم دیا،پھر آپ ﷺوہاں سے نکل کرگئے ، نماز فجر سے پہلے بیت اللہ کا طواف کیا ،پھر (نمازِ فجر پڑھ کر)مدینہ منورہ روانہ ہوگئے ۔ (صحیح مسلم: حدیث نمبر 2922)

    لباب المناسک مع المناسک للعلامۃ علی القاری میں ہے: ولو طاف للزیارۃ جنبا کلہ او اکثرہ ،فعلیہ بدنۃ ،ویصیر عاصیا ،وعلیہ ان یعیدہ ،مادام بمکۃ طاہرا،فان اعادہ سقطت عنہ البدنۃ ،واما المعصۃ فموقوفۃ علی التوبۃ او معلقۃ بالمشیۃ ولو کفرت بالبدنۃ ،ولو رجع الی اہلہ وجب علیہ العود لاعادتہ ،ثم ان ان جاوز الوقت یعود باحرام جدید ،۔۔۔۔وان اعادہ بعد ایام النحر، سقط عنہ البدنۃ ولزمہ شاۃ للتاخیر ،عند ابی حنیفۃ ۔ترجمہ:اگر کسی نے پورا طواف زیارت یا اکثر جنبی حالت میں کیا تو اس پر بدنہ لازم ہے اور وہ گنہگار ہوگا ،اور اس پر لازم ہے کہ وہ پاکی حالت میں اس کا اعادہ کرے جب تک مکہ میں ہے ،تو جب اس نے اعادہ کیا تو بدنہ اس پر سے ساقط ہو جائے گا،اور جہاں تک گناہ کی بات ہے تو وہ توبہ یا، اللہ تعالی کی مشیت پر موقوف ہے ،اگر چہ اس نے بدنہ کے ساتھ کفارہ ادابھی کیوں نہ کیا ہو ۔اور اگر وہ گھر لوٹ آیا تو اس پر لازم ہےکہ اعادہ کےلیے جا ئے ،پھر اگر وہ میقات سے عبور کر گیا تو وہ نئے احرام کے ساتھ لوٹے ۔اور اگر اس نے ایام نحر کےبعد اعادہ کیا تو بدنہ اس پر سے ساقط ہو جائے گا لیکن امام اعظم کے نزدیک تاخیر کی وجہ سے اس پر بکری لازم ہے ۔ (لباب المناسک مع المناسک ،باب الجنایات ،فصل فی طواف الزیارۃ ،ص:۳۴۴،طبع:ادارۃ القران کراتشی)

    رد المحتار علی الدرالمختارمیں ملخصاً ہے :طَافَ لِلْفَرْضِ وَلَوْ جُنُبًا فَبَدَنَةٌ إنْ لَمْ يُعِدْهُ لكِنْ إذَا أَعَادَ طَوَافَ الْفَرْضِ بَعْدَ أَيَّامِ النَّحْرِ لَزِمَهُ دَمٌ عِنْدَ الْإِمَامِ لِلتَّأْخِيرِ، ترجمہ:اگر کسی نے طواف زیارت کیا اور وہ جنبی تھا تو اس پر بدنہ (یعنی اونٹ یا گائے ذبح کرنا لازم )ہے لیکن اگر اس نے طواف زیارت کا اعادہ ایام نحر کے بعدکیا تو امام اعظم کے نزدیک تا خیر کی وجہ سے اس پر دم لازم ہے۔ (رد المحتار علی الدرالمختار،باب الجنایۃ فی الحج،ج:۲،ص:۵۵۱ ، دَارالفکر ،بیروت)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    الجواب صحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    تاریخ اجراء:09 ذیقعدہ 1441 ھ/30 جون 2020 ء