سوال
حضور اس مسئلے کا جواب درکار ہے کہ ایک شخص خالی ڈبوں میں انجن آئل بھر کر انہیں ڈبہ پیک بنا کر بیچتا ہے ایسے شخص کے پاس ملازمت کرنا کیسا نیز ملنے والی سیلری کا کیا حکم ہوگا ؟ سائل:عبد الرحمن،کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شخص ِمذکور کا ڈبوں میں کھلا آئل بھر کرپیک بنانا متعدد وجوہ سے ناجائزوحرام ہےجس میں دھوکا دہی ،جھوٹ اور بغیر بتائے عیب دار شے فروخت کرنا شامل ہیں لہذا ایسے شخص کے پاس ملازمت میں اگر تو ان کاموں میں شراکت ہوتی ہے تو ایسی ملازمت بھی ناجائز اور اس سے ملنے والے سیلری بھی حرام کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت کا صریح فرمان ہے کہ گناہ کے کاموں میں معاونت نہ کرو۔ہاں اگر خریدار کو یہ بتا دیا جائے کہ یہ کھلا آئل ہے جسے پیک کیا گیا ہےیا سب کو معلوم ہو تو اس کا یہ بیچنا بھی جائز اور اسکے ہاں ملازمت کرنا بھی جائز ہو جائے گی۔
اس کی تفصیل یہ ہےکہ ڈبوں میں کھلا آئل بھر کر اوریجنل کمپنی کی طرف سے پیک شدہ ائل کا شبہ دلانا دھوکا ہےاور دھوکا یہ ہے کہ کسی شے کی اصل حالت کو چھپانا۔اگر اسےاوریجنل کہہ کر بیچتا ہےتو یہ جھوٹ ہے اوراسلام نے جھوٹ سے بچنے کی بہت سخت تاکید فرمائی ہے قرآن مجید میں جھوٹ بولنے والوں پر خدا کی لعنت آئی اورکثیر احادیث میں اس کی مذمت ،برائی اور وعید بیان فرمائی گئی۔جھوٹ بول کر تجارت کرنے والے تاجر کوحدیث میں بدکار فرمایا گیا ہے اور جھوٹ اور دھوکا کی وجہ سے تجارت میں برکت نہیں رہتی۔مذکورہ فعل کےناجائز ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ڈبوں میں کھلا آئل بھر کرپیک بناناایک عیب ہے،کیونکہ عیب ہر اس چیز کوکہتے ہیں کہ جس کے باعث تاجروں کی نظر میں شے کی قیمت کم ہوجائےاورکھلے آئل کی قیمت کمپنی سے پیک شدہ آئل کے مقابل بہت کم ہوتی ہے اورعیب دارچیز کاعیب بتائے بغیر آگے فروخت کرناشرعاًناجائزوگناہ اور حرام ہے،لہٰذا جان بوجھ کرکھلا آئل پیک کرکے گاہک کو بتائے بغیر فروخت کرنا،ناجائزوگناہ ہے۔
دلائل و جزئیات:
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’’مسلمانوں کو دھوکہ دے کر کمائی کرنا حرام ہے۔قال الله تعالى: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ۔ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ(البقرة: 188)۔اور ایسی کمائی کی رقم کھانا بھی حرام ہے۔حدیث شریف میں ہے: وَلَأَنْ يَأْخُذَ تُرَابًا فَيَجْعَلَهُ فِي فِيهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْعَلَ فِي فِيهِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ (أخرجه البخاري 1470)یعنی منہ میں خاک بھر لینا اس لقمہ سے بہتر ہے کہ خدائے تعالی نے اسے حرام فرمایا۔ (فتاوی فقیہ ملت، ج: 2، ص: 190)
آیت ِمذکور کے تحت امام قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "والمعنى: لا يأكل بعضكم مال بعض بغير حق. فيدخل في هذا: القمار والخداع والغصوب وجحد الحقوق، وما لا تطيب به نفس مالكه، أو حرمته الشريعة وإن طابت به نفس مالكه، كهر البغي وحلوان الكاهن وأثمان الخمور والخنازير وغير ذلك. ولا يدخل فيه الغبن في البيع مع معرفة البائع بحقيقة ما باع لأن الغبن كأنه هبة".ترجمہ:اس آیت کا معنی یہ ہے کہ بعض، بعض کا مال ناحق نہ کھائے۔ اس میں جوا، دھوکا، غصب، حقوق سے انکار اور ایسی چیز جس کے دینے پر مالک خوش نہیں ہے یا ایسی چیز جس کو شریعت نے حرام کیا ہے اگرچہ مالک خوشی سے دینے پر راضی بھی ہو جیسے زانیہ کی کمائی، کاہن کا نذانہ، شرابوں اور خنازیر کی قیمتیں وغیرہ داخل ہیں۔ اور بیع میں غبن داخل نہیں جبکہ بائع اس چیز کی حقیقت بتا دے جو اس نے بیچی کیونکہ اس صورت میں غبن (زیادتی) گویا ہبہ ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن،2/338،تحت سورۃ البقرۃ:188،دار الکتب المصریۃ)
دھوکادینے کی ممانعت کے بارے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:"ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال ومن غشنا فلیس منا".ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اور جس نے ہمیں دھوکادیا،وہ بھی ہم میں سے نہیں۔ (الصحیح لمسلم ،کتاب الایمان،باب من غشنافلیس منا،1/99،رقم الحدیث:101،دار احیاء التراث العربی)
اس حدیث پاک کے تحت علامہ عبدالرؤف المناوی رحمہ اللہ(المتوفی:1031ھ)فرماتے ہیں:"والغش ستر حال الشئ"۔ترجمہ:دھوکا سے مراد کسی شی کی اصل حالت کو چھپاناہے۔(فیض القدیر،6/185،المکتبۃ التجاریۃ الکبری)
جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے جیسا کہ قرآن پاک میں ہے: "اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ".ترجمہ: بےشک اللہ راہ نہیں دیتا اسے جو حد سے بڑھنے والا بڑا جھوٹا ہو۔(المؤمن:28) عیب کی تعریف کے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"كل ما يوجب نقصانا في الثمن في عادة التجار فهو عيب ".ترجمہ: ہر وہ چیز جو تاجروں کے ہاں ثمن (ریٹ)میں کمی کاباعث بنے،وہ عیب ہے ۔ (فتاوی عالمگیری،کتاب البیوع،الباب الثانی،الفصل الاول،3/67،دار الفکر)
بغیر بتائے عیب دارچیزفروخت کرنے کے ناجائز ہونے کے بارے میں سنن ابن ماجہ میں ہے:" عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ بَاعَ مِنْ أَخِيهِ بَيْعًا فِيهِ عَيْبٌ إِلَّا بَيَّنَهُ لَهُ» ".ترجمہ:حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان ،مسلمان کا بھائی ہے اورجب مسلمان اپنے بھائی کے ہاتھ ایسی چیز بیچے جس میں عیب ہو توجب تک وہ عیب بیان نہ کردے،تو اسے بیچنا حلال نہیں۔(سنن ابن ماجہ،کتاب التجارات،باب من باع عیبا فلیبینہ،2/755رقم الحدیث:2246،دار احیاء الکتب العربیۃ)
بحرالرائق میں ہے:" كتمان عيب السلعة حرام وفي البزازية وفي الفتاوى إذا باع سلعة معيبة عليه البيان وإن لم يبين قال بعض مشايخنا يفسق وترد شهادته قال الصدر لا نأخذ به اهـ. وقيده في الخلاصة بأن يعلم به ".ترجمہ:سامان کے عیب کو چھپانا حرام ہے اوربزازیہ اورفتاوی میں ہے:جب کسی نے عیب دارچیز کو بیچا،تو اس پر عیب کو بیان کرنا واجب ہےاوراگر عیب کو بیان نہیں کیا،توہمارے بعض مشائخ فرماتےہیں:ایسے شخص کو فاسق قرار دیاجائےگااوراس کی شہادت کورد کیاجائےگا،صدرالشریعہ نےفرمایا:اورہم اس قول کو نہیں لیتےاورخلاصہ میں یہ قید بڑھائی گئی ہےکہ (یہ حکم تب ہوگا جب کہ) وہ(بیچنےوالا)اس عیب کوجانتابھی ہو۔(البحرالرائق،باب خیار العیب،6/38،دار الکتاب الاسلامی)
مذکورہ بالاعبارت کے متعلق علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں:"قال في النهر: أي لانأخذ بكونه يفسق بمجرد هذا، لأنه صغيرة. قلت: وفيه نظر، لأن الغش من أكل أموال الناس بالباطل فكيف يكون صغيرة، بل الظاهر في تعليل كلام الصدر أن فعل ذلك مرة بلا إعلان لا يصير به مردود الشهادة، وإن كان كبيرة".ترجمہ:نہرالفائق میں ہے کہ (صدرالشریعہ کے قول ’’لاناخذ ‘‘ کا مطلب یہ ہے )کہ ہم بغیر بتائے عیب دارسودابیچنے والے کو محض اس وجہ سے فاسق نہیں کہیں گے ،کیونکہ بغیربتائے عیب دارچیز بیچناگناہ صغیرہ ہے۔ علامہ شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ صاحب ِنہرکااسے گناہ صغیرہ کہنامحلِ نظر ہے،کیونکہ لوگوں کا مال باطل طریقہ سے کھانادھوکاہے ،پس یہ صغیرہ گناہ کیسے ہوسکتاہے،بلکہ صدرالشریعہ کے کلام کی ظاہری علت یہ ہے کہ بلااعلان محض ایک دفعہ کرنے سے ہم اسے مردودالشہادۃ نہیں کہیں گے ،اگرچہ یہ کبیرہ گناہ ہے۔۔ (ردالمحتار،کتاب البیوع ،باب خیار العیب، مطلب في جملة ما يسقط به الخيار،5/47،دار الفکر بیروت)
معنی یہ ہے کہ اگرچہ یہ فعل گناہ کبیرہ ہے لیکن جب تک اعلانیہ نہ ہو تب تک فاسق معلن قرار نہیں دیا جاتا ہے اور جب تک معلن نہیں ہے،تو قاضی اس کے فاسق و مردود الشہادۃ ہونے کا حکم کیسے دے سکتا ہے؟ ہاں جب بار بار کرے گا تو خود ہی لوگوں میں مشہور ہوگا اور اب قاضی کا اس کے مردود الشہادۃ ہونے کا فیصلہ دینا بھی ممکن و درست ہوگا۔
بہارشریعت میں ہے:”مبیع میں عیب ہو تو اس کا ظاہر کردینا بائع(بیچنے والے)پر واجب ہے،چھپانا حرام وگناہ ِکبیرہ ہے۔یوہیں ثمن کا عیب مشتری پر ظاہر کر دینا واجب ہے‘‘۔(بہارشریعت،2/673،مکتبۃ المدینہ کراچی)
قرآن مجید میں ہے: وَلَا تَعَاوَنُواعَلَی الْاِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوااللَّہَ اِنَّ اللَّہَ شَدِیدُالْعِقَابِ۔ترجمہ: اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ کا عذاب سخت ہے۔ (المائدۃ:2) اس آیت مبارکہ کی تفسیرمیں احکام القرآن للجصاص میں ہے: " نَهْيٌ عَنْ مُعَاوَنَةِ غَيْرِنَا عَلَى مَعَاصِي اللَّهِ تَعَالَى".ترجمہ:اللہ عزوجل کی نافرمانی پر دوسرے کی معاونت ممنوع ہے۔(احکام القرآن للجصاص،2/381، تحت سورۃ المائدۃ:2،دار الکتب العلمیۃ)
محیط برہانی میں ہے:" الإعانة على المعاصي والفجور والحث عليها من جملة الكبائر ".ترجمہ:گناہ اورفسق وفجورپر مددکرنااوراس پراُبھارنابھی کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔(المحیط البرھانی فی الفقہ النعمانی،کتاب الشھادات،الفصل الثالث ،8/312،دار الکتب العلمیۃ) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:2رمضان المبارک1444 ھ/24 مارچ2023ء