بیوی کے نفقات
    تاریخ: 28 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 60
    حوالہ: 44

    سوال

    میں شائستہ پروین زوجہ تنویر احمد کراچی میں رہائش پذیر ہوں ۔ جناب میری بیٹی(نادیہ) کو میرے داماد نے منہ سے تین طلاق دیدی ہیں میں آپ سے کچھ معلومات کے بارے میں بتائیں اور میری بیٹی کے تین بچے ہیں جو میری بیٹی کے پاس ہیں۔ اگر طلاق ہوگئی ہے تو ان کے خرچے کے بارے میں کوئی کاغذی کاروائی کی بھی معلومات کرنی ہے۔آپ کی عین نوازش ہوگی۔ نوٹ:ہم نے شوہر امجد سے فون پر بیان لیا کہ شوہرنے اپنی بیوی سے کہا’’میں نے تمہیں طلاق دی، میں نے تمہیں طلاق دی، میں نے تمہیں طلاق دی‘‘۔بیوی اس واقعہ کے بعد اپنی والدہ شائستہ کے ساتھ میکے چلی گئیں جبکہ شوہر کی جانب سے گھر چھوڑنے پر کسی قسم کی زبردستی نہیں ہوئی اور اس معاملے کی تصدیق سائلہ کے بیان سے بھی ہوتی ہے۔مزید سائلہ سے فون پر لئے گئے بیان کے مطابق بیوی نادیہ حاملہ ہیں۔ سائل: شائستہ پروین زوجہ تنویر احمد ،کراچی ۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مسؤولہ کے دوا جزء ہیں:

    (1)طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟

    (2)بیوی اور بچوں کا خرچ واجب ہوگا یا نہیں؟

    پہلی صورت کا حکم شرع یہ ہے کہ شوہر امجد کا تین بار یہ کہنا کہ ’’ میں نے تمہیں طلاق دی‘‘صریح طلاق کے الفاظ ہیں اس سے بیوی نادیہ پر تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں اور وہ اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کےساتھ حرام ہو گئی ہیں۔شوہر تین طلاق ایک ساتھ دینے کی وجہ سے سخت گناہ گار اور حرام کے مرتکب ہوئے،اس پراللہ تعالی کی بارگاہ میں سچی توبہ کرنا لازم ہے۔اب بغیر تحلیل شرعی عورت شوہر کے لئے حلال نہیں ہوگی۔

    تحلیل ِ شرعی کامطلب یہ ہے کہ جس عورت کو اس کے شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہوں وہ عدت (یعنی اگر حیض آتا ہے تو تین حیض آکر ختم ہو جائیں اور اگر حمل کی وجہ سے حیض نہیں آتا تو پھر اس کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے اور اگر بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہیں آتا تو اس کی عدت تین ما ہ ہو گی) گزارنے کے بعد دوسرے مرد سے نکاح کرےاور کم ازکم ایک بار جسمانی تعلق قائم ہونے کے بعد وہ اس کو طلاق دے اور پھر اس کی عدت گذارنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے۔

    دوسری صورت کے بھی دو اجزاء ہیں:

    (۱)بیوی کی عدت کا خرچ۔

    (۲)اولاد کا خرچ۔

    پہلی صورت کا حکم یہ ہے کہ بیوی کی عدت کا خرچہ شوہر پر لازم نہیں کیونکہ بیوی میکے میں عدت گزاررہی ہے،جبکہ شوہر کی طرف سے گھر چھوڑنے پر کوئی مجبوری نہیں ،لہذا جب تک بیوی شوہر کے گھرلو ٹ کرنہیں آتی ، اس وقت تک وہ ناشزہ یعنی نافرمان کہلائے گی اورشوہر سے عدت کا خرچ لینے کی حق دار نہیں ہوگی۔

    دوسری صورت کا حکم یہ ہے کہ نابالغ اولاد کانفقہ باپ پر واجب ہے جبکہ اولاد فقیر ہو یعنی خود اس کی مِلک میں مال نہ ہو ۔ بالغ لڑکا کمانے سے عاجز ہو یعنی اپاہج یا مجنون یا نابینا ہو اور اُس کے پاس مال نہ ہو تو اُس کا نفقہ بھی باپ پر ہے۔البتہ جب بالغ لڑکا کمانے کے قابل ہوجائےتو نفقہ کی ذمہ داری باپ پر نہیں۔کمانے کا اہل ہونے کا مطلب بالغ ہونے کے ساتھ کوئی ذریعہ معاش اختیار کرنے پر قادر بھی ہو، لہٰذا بالغ لڑکا اگر معذور ہو اور اس کے پاس مال نہ ہو تو اس کا نفقہ والد کے ذمے واجب ہوگا۔

    لڑکی کی جب تک شادی نہیں ہوجاتی اس وقت تک اس کے نفقہ کی ذمہ داری باپ پر بقدرِ استطاعت ہوگی،جبکہ لڑکی فقیر ہو یعنی خود اس کی مِلک میں مال نہ ہو ۔ نیز اس کی شادی کے اخراجات بھی بقدرِ استطاعت باپ پر ہی ہوں گے، خواہ وہ ماں کے پاس رہے یا باپ کے ساتھ رہے۔ہاں اگر لڑکی جب جوان ہوگئی اور اُس کی شادی کردی تو اب شوہر پرنفقہ ہے باپ بری الذمہ ہوگیا۔

    اولاد کا خرچہ باپ کے حسبِ حیثیت متوسط درجہ کے اعتبار سے دلایا جائے اور یہ دیندار، اخراجات کے واقف کار مسلمانوں کے ذریعہ طے کیا جائے کہ بچوں کا ماہانہ اوسط خرچ کیا ہوگا جتنا وہ مقرر کریں باپ دے۔

    دلائل و جزئیات:

    اللہ تبارک وتعالی نے ارشاد فرمایا : فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیۡہِمَاۤ اَنۡ یَّتَرَاجَعَاۤ اِنۡ ظَنَّاۤ اَنۡ یُّقِیۡمَا حُدُوۡدَ اللہِؕ وَ تِلْکَ حُدُوۡدُ اللہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوۡنَ. ترجمہ: ’’ پھر اگر تیسری طلاق اسے دی تو اب وہ عورت اسے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے۔پھر وہ دوسرا اگر اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ پھر آپس میں مل جائیں ۔ اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نباہیں گے اوریہ اللہ کی حدیں ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کے لئے ‘‘۔(البقرۃ: 230)

    اس آیت کر یمہ کے تحت تفسیر روح المعانی میں علامہ السید محمود آلوسی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: "فإن طلقها بعد الثنتين... فَلا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ أي من بعد ذلك التطليق حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجاً غَيْرَهُ أي تتزوّج زوجا غيره، ويجامعها فلا يكفي مجرد العقد".ترجمہ:’’ پس اگر شوہر دو طلاقوں کے بعد تیسری طلاق دے دے تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہیں ہو گی حتی کہ دوسرے مرد سے نکاح کر ے اور وہ دوسرا مرد اس سے جماع بھی کر ے محض نکاح کافی نہیں ‘‘۔( تفسیرروح المعانی،2/729،مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ )

    طلاق کی عدت کی اقسام کے متعلق فتاویٰ سراجیہ میں ہے: "المطلقة تعتد بثلاث حیض ان کانت من ذوات الحیض وبثلاثة اشهر ان کانت من ذوات الاشهر کالآیسة والصغیرة عدة الحامل ان تضع حملها. ملخصا".ترجمہ:اگر طلاق یافتہ عورت کو حیض آتا ہو تو وہ تین (کامل)حیض کے ساتھ عدت گزارے گی اور (جس کو حیض نہیں آتا)تین مہینوں کے ساتھ عدت گزارے گی اگر ہے مہینوں والی جیسے آئسہ(بوڑھی)اورنابالغہ،حاملہ کی عدت وضع حمل ہے۔(فتاویٰ سراجیہ،ص:231،مکتبہ زمزم)

    علامہ شیخ شمس الدین تمرتاشی تنویر الابصار میں فرماتے ہیں : "الصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ".ترجمہ: طلاقِ صریح طلاقِ صریح کولاحق ہوتی ہے۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،3/306،دار الفکر)

    اسی تنویر الابصار میں ہے: "صَرِيحُهُ مَا لَمْ يُسْتَعْمَلْ إلَّا فِيهِ كَطَلَّقْتُك وَأَنْتِ طَالِقٌ وَمُطَلَّقَةٌ".ترجمہ:صریح وہ الفاظ جو طلاق دینے کے لئے استعمال ہوں جیسے میں نے تمہیں طلاق دی اور تم طلاق والی ہو اور مطلقہ ہو " ۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،3/247،دار الفکر)

    اس کے تحت علامہ شامی علیہ ا لرحمہ فرماتے ہیں: "فَمَا لَا يُسْتَعْمَلُ فِيهَا إلَّا فِي الطَّلَاقِ فَهُوَ صَرِيحٌ يَقَعُ بِلَا نِيَّةٍ". ترجمہ:’’ جس لفظ کا غالب استعمال طلاق میں ہو تا ہو تو وہ صریح ہے اور اس سے بغیر نیت طلاق کے بھی طلاق ہو جاتی ہے ‘‘۔(رد المحتار،3/247،دار الفکر)

    الدر المختار میں ہے: " (وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر، فإن نفقة المملوك على مالكه". ترجمہ: نفقہ اپنی اقسام کے ساتھ آزاد آدمی پر اپنے بچے کے لیے ثابت ہو گا ۔ طفل کا لفظ مؤنث اور جمع کو عام ہے۔ وہ بچہ جو فقیر اور آزاد ہو۔ کیونکہ مملوک کا نفقہ اس کے مالک پر ہوتا ہے ۔(الدر المختار،باب النفقۃ،612/3،دار الفکر)

    ناشزہ کیلئے نفقہ نہیں، چنانچہ اسی الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه".ترجمہ:اگر عورت نے نافرمانی کی تو اس کیلئے کوئی نفقہ نہیں ہوگا یہاں تک کہ شوہر کے گھر واپس آجائے ۔ناشزہ وہ عورت ہوتی ہے جو شوہر کے گھر سے نکل جائے اور اپنے نفس کو شوہر سے روکے۔(الفتاوی الہندیۃ،الباب السابع عشر فی النفقات،545/1،دار الفکر)

    معتدہ عورت کے نفقہ کے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں ہے:"المعتدة عن الطلاق تستحق النفقة والسكنى كان الطلاق رجعيا أو بائنا، أو ثلاثا حاملا كانت المرأة، أو لم تكن كذا في فتاوى قاضي خان الأصل أن الفرقة متى كانت من جهة الزوج فلها النفقة، وإن كانت من جهة المرأة إن كانت بحق لها النفقة، وإن كانت بمعصية لا نفقة لها، وإن كانت بمعنى من جهة غيرها فلها النفقة". ترجمہ: جوعورت طلاق کی عدت میں ہو وہ نفقہ وسکنی کی مستحق ہے خواہ طلاق رجعی ہو یا بائنہ یا تین طلاق ہوں خواہ عورت حاملہ ہو یا نہ ہو یہ فتاوی قاضی خان میں ہے اصل یہ ہے کہ فرقت اگر شوہر کی جانب سے ہو تو عورت کو نفقہ ملے گا اور اگر عورت کی جانب سے ہو پھر اگر یہ فرقت کسی حق کے سبب ہو تو بھی نفقہ ملے گا اور اگر کسی معصیت و نافرمانی کے سبب ہو تو اس کو نفقہ نہ ملے گا اور اگر عورت کی جانب کے علاوہ غیر جہت سے کوئی بات پیدا ہونے سے فرقت واقع ہوئی تو عورت کو نفقہ ملے گا۔(الفتاوی الہندیۃ،الباب السابع عشر فی النفقات،الفصل الثالث فی نفقۃ المعتدۃ،557/1،دار الفکر)

    نابالغ اولاد کا نفقہ باپ پر واجب ہے،چنانچہ الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد". ترجمہ:نابالغ اولاد کا خرچہ ان کے باپ پر ہے اس میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہ کیا جائے۔(الفتاوی الہندیۃ،كتاب الطلاق، الباب السابع عشر ، الفصل الرابع في نفقة الأولاد،1/560، دار الفكر)

    بالغ اولاد کے نفقے کے متعلق الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "ونفقة الإناث واجبة مطلقا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال كذا في الخلاصة. ولا يجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن الولد يكون عاجزا عن الكسب لزمانة، أو مرض ومن يقدر على العمل لكن لا يحسن العمل فهو بمنزلة العاجز كذا في فتاوى قاضي خان" . ترجمہ: بالغ لڑکیوں کا نفقہ ان کے والد پر مطلقا واجب ہے جب تک ان کا نکاح نہ ہو جائے بشر طیکہ ان کا خود کچھ مال نہ ہو یہ خلاصہ میں ہے اور بالغ لڑکوں کا نفقہ باپ پر واجب نہیں ہے الاّ یہ کہ بالغ لڑکا لنجا ہونے یا کسی مرض کے سبب کمائی سے عاجز ہواور جو کام کر سکتا ہے مگر اچھا نہیں کرتا خراب کرتا ہے وہ عاجز کے مرتبے پر ہے یہ فتاوی قاضی خان میں ہے۔(الفتاوی الہندیۃ،كتاب الطلاق، الباب السابع عشر ، الفصل الرابع في نفقة الأولاد،1/563، دار الفكر) ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:10 شعبان المعظم1444 ھ/3 مارچ2023ء