دانتوں کی لیڈی ڈاکٹر کا غیر محرموں کا علاج کرنا کیسا
    تاریخ: 30 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 28
    حوالہ: 49

    سوال

    دانتوں کی عورت ڈاکٹر کا غیر محرم مردوں کا علاج کرنا کیسا؟ کہ جس میں باہر کے مرد ہوں یا خاندان کے کزن،بہنوئی،خالو،پھوپھا وغیرہ۔شریعت اس کے متعلق کیا کہتی ہے؟ سائل:اشرف،کراچی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شریعت میں عورت کیلئے نوکری سے متعلق پانچ شرائط بیان ہوئی ہیں اگر وہ پائی جائیں تو نوکری کرنا جائز ہے وگرنہ ناجائزو حرام۔البتہ فی زمانہ ان قیودات کا نبھانا بے حد دشوار نظر آتا ہے۔شرعی تقاضوں کا لحاظ کئے بغیر ڈینٹسٹ کی ملازمت اختیار کرنا گنہگارہونا اور اپنے اوپر بے شمارفِتنوں کا دروازہ کھولناہے ۔

    عورت کیلئے نوکری کی شرائط سے متعلق سیّدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں:’’یہاں پانچ شرطیں ہیں : (۱)کپڑے باریک نہ ہوں جن سے سر کے بال یا کلائی وغیرہ ستر کا کوئی حصہ چمکے۔(۲)کپڑے اتنے تنگ وچست نہ ہوں جو بدن کی ہیئت ظاہر کریں۔(۳)بالوں یا گلے یا پیٹ یا کلائی یا پنڈلی کا کوئی حصہ ظاہر نہ ہوتا ہو ۔(۴)کبھی نامحرم کے ساتھ کسی خفیف دیر کے لئے بھی تنہائی نہ ہوتی ہو۔(۵) اس کے وہاں رہنے یا باہر آنے جانے میں کوئی مظنہ فتنہ نہ ہو۔ یہ پانچ شرطیں اگر جمع ہیں تو کوئی حرج نہیں اور ان میں ایک بھی کم ہے تو حرام ‘‘۔(فتاوی رضویہ،22/248،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    عموما دانتوں کے ڈاکٹرز اپنے کیبن میں فردًا فردًا مریضوں کو دیکھتے ہیں کہ وہاں ڈاکٹر اور مریض کے علاوہ کوئی نہیں ہوتا،لہذا لیڈی ڈینٹسٹ کیلئے یہاں نامحرم کے ساتھ تنہائی کی صورت متحقق ہوتی ہے جو کہ ناجائز و حرام ہے۔ہاں اگر ایسی کوئی صورت نہ ہو اور ذکر کردہ شرائط پائی جائیں تو کوئی حرج نہیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــہ :ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 7رمضان المبارک1444 ھ/29 مارچ2023ء