حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کے احکام
    تاریخ: 30 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 18
    حوالہ: 50

    سوال

    حج کے مہینوں میں عمرہ کرنے کے کیا احکام ہیں؟کس کے لئے جائز اور کس کے لئے ناجائز ہے؟ سائل:مولانا ارشد سعیدی :نواب شاہ ۔ 

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جواب سے قبل جانیں کہ حج کا ارادہ کرنے والے تین طرح کے لوگ ہیں ۔ 1:حَرَمی۔ 2: حِلّی۔3:آفاقی۔

    حَرَمی وہ جو حدود ِ حرم میں رہتا ہو۔ حلی وہ جو حدود حرم سے باہر مگر میقات کے اندر ہو۔ اور آفاقی وہ کہ جو میقات سے باہر ہو۔

    سوال کا جواب یہ ہے کہ مہینوں اور ایام کے اعتبار سے عمرہ کے ممانعت و عدم ممانعت کی درج ذیل صورتیں ہیں :

    1: پورے سال میں پانچ دن (9 ذی الحج سے 13 ذی الحج کے غروبِ آفتاب تک)عمرہ کرناہر شخص کے لئے ماسوائے قارن کے مکروہ تحریمی ہے ۔

    2:حَرَمی،حِلّی اور وہ شخص جوانکے حکم میں ہے ،اگر یہ لوگ اسی سال حج کا ارادہ رکھتے ہیں توانکے لئے اشہر حج میں عمرہ کرناممنوع ہے۔

    3:حَرَمی،حِلّی اور وہ شخص جوانکے حکم میں ہے ،اگر اس سال حج کا ارادہ نہیں رکھتے تو بلاشبہ ان کے لئے عمرہ کرنا جائز و روا ہے۔ جبکہ آفاقی کے لئے ایام مذکورہ کے علاوہ مطلقا جائز ہے ۔ عمرے کے وقت سے متعلق فتاوٰی ھندیہ میں ہے:(ووقتها) جميع السنة إلا خمسة أيام تكره فيها العمرة لغير القارن كذا في فتاوى قاضي خان وهي يوم عرفة ويوم النحر وأيام التشريق۔ترجمہ:اور عمرہ کا وقت پورا سال ہے ماسوائے پانچ دن کے کہ ان میں عمرہ غیر قارن کے لئے مکروہ ہے، اور وہ پانچ دن یومِ عرفہ، یومِ نحر اور ایام تشریق ہیں۔(فتاوٰی ھندیہ، کتاب الحج الباب السابع فی القران جلد 1 ص 237)

    پھر تنویر الابصار مع الدر میں ہے:(وجازت في كل السنة) وندبت في رمضان (وكرهت) تحريما (يوم عرفة وأربعة بعدها)۔ ترجمہ:اور عمرہ پورا سال جائز ہے اور رمضان میں مستحب جبکہ یومِ عرفہ اور سکے بعد چار دن مکروہ تحریمی ہے۔( تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الحج جلد 2 ص 473)

    پھر مناسک ملا علی قاری میں ہے:وقتھا ای وقت العمرۃ (السنۃ کلھا وقت لھا)ای لجوازھا (الا انہ) ای الشان (یکرہ تحریما) ای کراہۃ تحریم (فی الایام الخمسۃ)ای المذکور سابقا۔ترجمہ:اور پورا سال عمرے کے جواز کا وقت ہے مگر یہ کہ پانچ ایام میں مکروہِ تحریمی ہے۔(مناسک ملا علی قاری شرح لباب المناسک، ص 466، ادارۃ القرآن )

    اشہر حج میں عمرہ کرنے کے حوالے سےلباب المناسک میں ہے:(ویکرہ فعلھا فی اشہر الحج لاہل مکۃ ومن بمعناھم) ۔ترجمہ:اور اشہرِ حج میں اہل مکہ کو اور انکو جو انکے حکم میں ہیں عمرہ کرنا مکروہ ہے۔

    اسکے تحت ملا علی قاری رقمطراز ہیں:ای من المقیمین ومن فی داخل المیقات ، لان الغالب علیھم ان یحجوا فی سننھم فیکونوا متمتعین وھم عن التمتع ممنوعون، والا فلا منع للمکی عن العمرۃ المفردۃ فی اشہر الحج اذا لم یحج فی تلک السنۃ ومن خالف فعلیہ البیان و اتیان البرھان۔ترجمہ:یعنی جو مکہ میں مقیم ہیں اور وہ جو میقات میں داخل ہیں ، کیونکہ غالب یہ ہے کہ وہ لوگ اپنے سال میں حج کریں گے تو یہ متمتعین ہوگئے حالانکہ انکے لئے تمتع منع ہے۔ ورنہ مکی کو اشہر حج میں عمرہ مفردہ منع نہیں ہے جبکہ اس سال میں حج کا ارادہ رکھتے ہوں ۔ اور جو اس بات کی مخالفت کرے تو بیان و دلیل اسکے ذمہ ہے۔( لباب المناسک مع شرحہ مناسک ملا علی قاری شرح ص 466، ادارۃ القرآن )

    علامہ شامی رحمہ اللہ تعالٰی حاشیہ بحر الرائق میں لکھتے ہیں : وقد ذكر في اللباب أن المتمتع لا يعتمر قبل الحج قال شارحه هذا بناء على أن المكي ممنوع من العمرة المفردة أيضا، وقد سبق أنه غير صحيح بل إنه ممنوع من التمتع والقران وهذا المتمتع آفاقي غير ممنوع من العمرة فجاز له تكرارها، لأنها عبادة مستقلة أيضا كالطواف ۔ترجمہ:اور لباب میں مذکور ہے کہ متمتع حج سے پہلے عمرہ نہ کرے ، اسکے شارح نے کہا کہ یہ اس بات پر مبنی ہے کہ مکی کے لئے عمرہ مفردہ بھی ممنوع ہے ، حالانکہ پیچھے گزرا کہ یہ درست نہیں بلکہ مکی کو تمتع اور قران منع ہے اور یہ متمتع آفاقی ہے جسکو عمرہ منع نہیں لہذآ اسکے لئے عمرہ میں تکرار جائز ہے کیونکہ یہ بھی طواف کی مثل ایک مستقل عبادت ہے۔(منحۃ الخالق علی البحر الرائق ،باب التمتع، جلد 2 ص 393)

    اسی طرح علامہ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹھوی لکھتے ہیں :اما حکم اعتماد در اشہرِ حج در حقِ مکی و کسے کہ وارد شدہ است در مکہ و کسے کہ ساکن است در قربِ مکہ ، داخل مواقیت پس آن است کہ عمرہ کردن در ازہر حج در حقِ او جائز است باتفاقِ علماء اگر دراں سال حج نکند زیرانکہ ایں عمرہ مفرد است ، کما افادہ فی شرح الکرخی للامام قدوری و المبسوط لشیخ الاسلام والعنایہ، والبحر الرائق ۔ واما عمر کند بعد ازاں حج نیز کند پس آن بر دو قسم است یا بروجہ تمتع یا بروجہ قران این ہر دو وجہ منہی است در حق میکی و امن فی حکمہ نہ در حق آفاقی۔ترجمہ:بہر حال مکی اور وہ شخص جو مکہ میں وارد ہوا اور وہ جو مکہ کے قرب و جوار میں رہتا ہو یا میقات کے اندر ہو توبالاتفاق اسکے لئے اشہر حج میں عمرہ کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس کا اس سال حج کا ارادہ نہ ہوکیونکہ یہ عمرہ مفردہ ہے جیساکہ امام قدوری کی شرح الکرخی ، اور شیخ الاسلام کی مبسوط اور عنایہ اور بحر الرائق میں افادہ کیا۔لیکن اگر اسی سال حج کا بھی ارادہ ہے تو اسکی دو صورتیں ہیں یا تو حج تمتع ہوگا یا قران ۔ بہرحال دونوں صورتوں میں مکی کو اور اسکو جو اسکے حکم میں ہے،منع ہے ، نہ کہ آفاقی کے حق میں۔(حیاۃ القلوب فی زیارۃ المحبوب ، باب سیزدہم ص 224)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ : محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: 13 ذوالقعدہ 1442 ھ/24 جون 2021 ء