سوال
چادر کو اس طرح پہننا کہ ایک حصہ لٹک رہا ہو اور دوسرا گردن سے گھما کر کمر پر ڈال دیا جائے،کیا اس حالت میں نماز ہوجائے گی؟
سائل: عبد اللہ،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
چادر یا شال کو کندھوں سے اوڑھنا خلاف سنت ہے۔البتہ مذکورہ ہیئت کے مطابق چادر یا شال کو پہننا سدل میں شامل نہیں ،لہذا نماز ہوجائے گی۔لیکن اگر رکوع یا سجدے کے دوران چادر کے دونوں کنارے لٹکے تو یہ سدل شمار ہوگااور یہ فعل اگرایک رکن یعنی تین تسبیحات کی مقدار ہوا تو نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی،اسی لئے بہتر یہ ہے کہ چادر کو کندھوں سے اس طرح اوڑھے کہ گردن میں لپیٹ لے تا کہ دورانِ نماز سدل نہ ہو۔ سَدَل یہ ہے کہ معمول کے خلاف پہننے کے کپڑے کو بے پہنے لٹکانا ۔اسی طرح سر یا کندھوں پر اس طرح چادر ڈالنا کہ اس کے دونوں سرے لٹکتے ہوں، یہ علاوہ نماز کے مکروہ تنزیہی اور نماز میں مکروہ تحریمی ہے۔ البتہ سدل کا اطلاق اس وقت ہوتا ہے جب کپڑا پہننے بغیر اسے لٹکائے جائے لہذا صورت مسؤولہ سدل میں شامل نہیں ہوگی۔
دلائل و جزئیات:
سنن الترمذی میں ہے:"عن أبي هريرة، قال: «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن السدل في الصلاة»".ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز میں سدل سے منع فرمایا۔(سنن الترمذی،باب ما جاء فی کراہیۃ السدل فی الصلاۃ،2/217،رقم:378،مصطفی البابی)
کنز العمال میں روایت ہے:"عن علي أنه خرج فرأى قوما يصلون قد سدلوا ثيابهم فقال: "كأنهم يهود خرجوا من فهرهم ".ترجمہ: سیدنا حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن آپ ﷺ باہر تشریف لائے اور آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں اور سدل کیے ہوئے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا یہ لوگ تو یوں لگتے ہیں گویا کہ یہود ہوں جو اپنی میلہ گاہوں کی طرف نکل آئے ہوں ۔(کنز العمال،کتاب الصلاۃ،الباب الثانی،فصل فی مفسدات الصلاۃ،8/197،رقم الحدیث:22351مؤسسۃ الرسالۃ)
فقیہ ملت مفتی محمد جلال الدین امجدی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ’’چادر سر سے اوڑھ کر نماز پڑھنا سنت ہے. کندھے سے اوڑھ کر نماز پڑھنا خلاف سنت ہے‘‘۔ (فتاویٰ فیض الرسول ،1/375،شبیر برادرز لاہور)
الدر المختار میں ہے: "(سدل) تحريما للنهي (ثوبه) أي إرساله بلا لبس معتاد، وكذا القباء بكم إلى وراء. ذكره الحلبي؛ كشد ومنديل يرسله من كتفيه، فلو من أحدهما لم يكره كحالة عذر وخارج صلاته في الأصح ".ترجمہ:اپنے کپڑے کا سدل کرنا یعنی معمول کے طریقے کے خلاف اسے لٹکانا مکروہ تحریمی ہےکیونکہ اس بارے میں نہی موجود ہے۔اسی طرح قبا پہننا جبکہ اس کی آستین پشت کی جانب ہو،’’حلبی‘‘ نے اسے ذکر کیا ہے،جیسے دوپٹہ اور رومال جسے وہ اپنے دونوں کندھوں سے نیچے چھوڑدیتا ہے۔اگر وہ ایک کندھے سے چھوڑتا ہے تو مکروہ نہ ہوگا جس طرح عذر کی حالت ہو اور نماز سے باہر ہو۔ یہی اصح قول ہے۔ (الدر المختار،کتاب الصلاۃ،باب ما یفسد الصلاۃوما یکرہ فیہا،640-639/1،دار الفکر)
اسکے تحت علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "(قوله أي إرساله بلا لبس معتاد) قال في شرح المنية: السدل هو الإرسال من غير لبس، ضرورة أن إرسال ذيل القميص ونحوه لا يسمى سدلا اهـ ودخل في قوله ونحوه عذبة العمامة. وقال في البحر: وفسره الكرخي بأن يجعل ثوبه على رأسه أو على كتفيه ويرسل أطرافه من جانبه إذا لم يكن عليه سراويل اهـ فكراهته لاحتمال كشف العورة، وإن كان مع السراويل فكراهته للتشبه بأهل الكتاب، فهو مكروه مطلقا. وسواء كان للخيلاء أو غيره. اهـ. ثم قال في البحر: وظاهر كلامهم يقتضي أنه لا فرق بين أن يكون الثوب محفوظا من الوقوع أو لا، فعلى هذا تكره في الطيلسان الذي يجعل على الرأس، وقد صرح به في شرح الوقاية اهـ أي إذا لم يدره على عنقه وإلا فلا سدل... (قوله كشد) هو شيء يعتاد وضعه على الكتفين كما في البحر، وذلك نحو الشال (قوله فلو من أحدهما لم يكره) مخالف لما في البحر حيث ذكر في الشد أنه إذا أرسل طرفا منه على صدره وطرفا على ظهره يكره (قوله وخارج صلاته في الأصح) أي إذا لم يكن للتكبر فالأصح أنه لا يكره. قال في النهر: أي تحريما وإلا فمقتضى ما مر أنه يكره تنزيها اهـ وما مر هو قوله لأنه صنيع أهل الكتاب. قال الشيخ إسماعيل وفيه بحث لأن الظاهر من كلامهم أن تخصيص أهل الكتاب بفعله معتبر فيه كونه في الصلاة فلا يظهر التشبه وكراهته خارجها".ترجمہ: (معمول کے طریقے کے خلاف کپڑا لٹکانا)’’غنیۃ المتملی بشرح المنیۃ‘‘ میں فرمایا: سدل سے مراد کپڑا پہننے بغیر اسے لٹکانا ہے کیونکہ یہ بدیہی ہے کہ قمیص وغیرہ کے دامن کولٹکانا سدل نہیں کہلاتا۔ ان کے قول و نحو میں پگڑی کا شملہ بھی شامل ہے۔ البحر میں فرمایا: امام کرخی نے اس کی تفسیر بیان کی کہ وہ اپنا کپڑا سریا اپنے کندھوں پر رکھے اور اس کے اطراف اپنے پہلو پر لٹکا دے جب اس نے پائجامہ نہ پہنا ہو تو اس کی کراہت شرمگاہ کے ننگا ہو جانے کے احتمال کی وجہ سے ہوگی۔اگر اس نے پائجامہ پہنا ہو تو اس کی کراہت اہل کتاب کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے ہو گی ، یہ مطلقا مکروہ ہے خواہ وہ تکبر کی وجہ سے ہو یا کسی اور وجہ سے۔ پھر البحر میں فرمایا: ان کے کلام کا ظاہر تقاضا کرتا ہے کہ اس میں کوئی فرق نہیں کہ کپڑا نیچے گرنے سے محفوظ ہو یا نہ ہو۔ اس تعبیر کی بنا پر بڑی چادر کو سر پر رکھنا مکروہ ہوگا۔ اس کی وضاحت ’’ شرح الوقایہ ‘‘ میں ہے یعنی جب اسے گردن پر نہ لپیٹے ورنہ کوئی سدل نہیں۔ (دوپٹہ) یہ ایسی شے ہے جس کو کندھوں پر رکھنے کا معمول ہے جس طرح البحر میں ہے۔ یہ شال کی مثل ہے۔ (اگر وہ ایک کندھے سے چھوڑتا ہے تو مکروہ نہ ہوگا) یہ قول اس قول کے مخالف ہے جو ’’البحر“ میں ہے۔ کیونکہ دو پٹہ میں ذکر کیا کہ اگر اس نے اس کی ایک جانب اپنے سینے پر لٹکائی اور ایک جانب اپنی پشت پر لٹکائی تو یہ مکروہ ہوگا۔ (نماز سے باہر ہو) یعنی جب وہ تکبر کے لئے نہ ہو تو اصح یہ ہے کہ یہ مکروہ نہیں۔ النہر میں فرمایا: یعنی مکروہ تحریمی نہ ہو گا ور نہ جو قول گزر چکا ہے اس کا مقتضا یہ ہے کہ یہ مکروہ تنزیہی ہوگا۔ اور جو قول گزرا ہے وہ یہ قول ہے لانه صنیع اھل الکتاب۔ شیخ اسماعیل نے فرمایا: اس میں بحث ہے کیونکہ ان کے کلام سے ظاہر یہ ہے کہ اس کے فعل کا اہل کتاب کے ساتھ خاص کرنا ، اس میں معتبر یہ ہے کہ یہ عمل نماز میں ہو پس مشابہت اور اس کا مکروہ ہونا ، نماز سے باہر ظاہر نہیں ہوگا۔(رد المحتار،کتاب الصلاۃ،باب ما یفسد الصلاۃوما یکرہ فیہا،640-639/1،دار الفکر)
اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں:’’ اصل یہ ہے کہ سدل یعنی پہننے کے کپڑے کو بے پہنے لٹکانا مکروہ تحریمی ہے... کسی کپڑے کو ایسا خلاف عادت پہننا جسے مہذب آدمی مجمع یا بازار میں نہ کر سکے اور کرے تو بے ادب، خفیف الحرکات سمجھا جائے یہ بھی مکروہ ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ ،7/385،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
حضور صدر الشریعہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:’’رومال یا شال یا رضائی یا چادر کے کنارے دونوں مونڈھوں سے لٹکتے ہوں، یہ ممنوع و مکروہ تحریمی ہے اور ایک کنارہ دوسرے مونڈھے پر ڈال دیا اور دوسرا لٹک رہا ہے تو حرج نہیں اور اگر ایک ہی مونڈھے پر ڈالا اس طرح کہ ایک کنارہ پیٹھ پر لٹک رہا ہے دوسرا پیٹ پر،جیسے عموماً اس زمانہ میں مونڈھوں پر رومال رکھنے کا طریقہ ہے،تو یہ بھی مکروہ ہے‘‘۔(بہار شریعت،624/1،مکتبۃ المدینۃ کراچی) ۔
نماز ختم ہونے میں ایک رکن کی مقدار کا اعتبار ہے،چنانچہ نور الایضاح میں ہے: "ثم علم أنه صلى ركعتين أتمها وسجد للسهو، وإن طال تفكره ولم يسلم حتى استيقن إن كان قدر أداء ركن وجب عليه سجود السهو". ترجمہ:پھر معلوم ہوا کہ اس نے دو ہی رکعتیں پڑھی تھیں تو نماز کو مکمل کرکے آخر میں سجدہ سہو کرے اگر دیر تک سوچتا رہا اور سلام نہ پھیرا یہاں تک رکعات چھوڑنے کا یقین ہوگیا تو اگر یہ تفکر ایک رکن ادا کرنے کی مقدار تھا تو اس پر سجدہ سہو واجب ہے ورنہ نہیں۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح ،كتاب الصلاة،باب سجود السہو،ص:247-248،مکتبۃ المدینۃ کراچی)
اور رکن سے مراد نماز کا قصیر رکن مراد ہےکہ جس میں تین تسبیحات پڑھی جاتی ہیں،چنانچہ منحۃ الخالق میں علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "أي تقييد الركن أي هل المراد منه قدر ركن طويل بسنته كالقعود الأخير أو القيام المشتمل على قراءة المسنون أو قدر ركن قصير كالركوع أو السجود بسنته أي قدر ثلاث تسبيحات وبالثاني جزم البرهان إبراهيم الحلبي في شرح المنية حيث قال وذلك مقدار ثلاث تسبيحات". ترجمہ:یعنی ایک رکن کی قید ملحوظ ہے ،کیا رکن سے مراد ایک طویل رکن سنن کے ساتھ مقدار ہے؟ جیسا کہ قعدہ اخیرہ یا مسنون قراءۃ پر مشتمل قیام یا قلیل رکن کی مقدار مراد ہے؟ جیسا کہ رکوع یا سجود اپنی سنن کے ساتھ یعنی تین تسبیحات کی مقدار۔اس دوسری مراد (یعنی تین تسبیحات) پر امام برہان ابراہیم الحلبی علیہ الرحمہ نے شرح المنیۃ میں جزم فرمایا کہ آپ نے فرمایا :اس مقدار سے مراد تین تسبیحات ہیں۔ (منحۃ الخالق مع البحر الرائق،باب شروط الصلاۃ،1/287،دار الکتاب الاسلامی)
اسی منحۃ الخالق میں ہے:"وفيه إشارة إلى أنه لا فساد إذا لم يؤد ركنا بناء على ضرورة ترك التعمد فيها بمنزلة عدمه". ترجمہ:اس قید میں اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ اگر ایک رکن کی مقدار عمل نہ ہو تو نماز فاسد نہیں ہوگی کیونکہ ضرورت کے پیش نظر اس مقدار میں عمد نہیں پایا جاتا لہذا یہ عمل معدوم کی طرح ہوگیا۔ (منحۃ الخالق مع البحر الرائق،باب شروط الصلاۃ،1/287،دار الکتاب الاسلامی)
اسی طرح حاشیۃ الطحطاوی میں ہے: "الركن مع سنته وهو مقدر بثلاث تسبيحات". ترجمہ:سنتوں کے ساتھ ایک رکن کی مقدار تین تسبیحات ہیں۔(حاشیۃ الطحطاوی، كتاب الصلاة،باب سجود السہو،1/474،دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔ ہذا ما ظہر لی
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
کتبہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا
تاریخ اجراء:8 شعبان المعظم1444 ھ/1 مارچ2023ء