مسجد میں بھیک مانگنا کیسا
    تاریخ: 27 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 14
    حوالہ: 439

    سوال

    مسجد میں سائلین (بھکاریوں) کا بھیک مانگنا کیسا ہے؟ امام صاحب ایسے شخص کو روک سکتے ہیں یا نہیں؟اور امام صاحب کا انتظامیہ کے افراد کے کہنے پر مساجد یا مدارس کیلئے اعلان کرنا کیسا؟

    سائل: مفتی احسن اویسی،کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مسجد میں سوال کرنے کی تین صورتیں ہیں:

    (۱) مانگنے والا مجبور و لاچار نہیں بلکہ پیشہ ور بھکاری ہےتو مطلقا سوال کرنا ہی حلال نہیں چہ جائیکہ مسجد ہو یا بازار اور ایسے سوالی کو اِس کے سوال پر کچھ دینا بھی ثواب نہیں بلکہ گناہ ہےکیونکہ جس کے پاس بقدر ضرورت مال ہو یا کمانے پر قادر ہو اسے بھیک مانگنا حرام ہے اور ایسےکو دینا تعاون علی الاثم ہے۔لہذا ایسے شخص کو امام صاحب یا کوئی فرد ِمؤمن روک سکتا ہے ۔ امام ابو نصر عیاضی فرماتے ہیں کہ جو ایسے سوالی کو مسجد سے نکال دے تو میں امید کرتا ہوں کہ اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا۔

    (۲) سائل پیشہ ور بھکاری نہیں بلکہ کوئی محتاج مسافر ہےتواگر وہ نمازیوں کے آگے سے نہ گزرے ، نہ ہی لوگوں کی گردنیں پھلانگے اور نہ ہی بار بار سوال کرے تو اسے دے سکتے ہیں۔

    (۳) مساجد و مدارس یا مطلقاً دینی کاموں کی امداد کا اعلان کرنا جائز ہےجبکہ کسی کی نماز میں خلل واقع نہ ہو اور نہ شور و غل ہو نہ ہی کسی کی گردن پھلانگنی پڑے۔

    دلائل وجزئیات:

    مشکوۃ المصابیح کی روایت ہے: "وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَأَلَ النَّاسَ أَمْوَالَهُمْ تَكَثُّرًا فَإِنَّمَا يَسْأَلُ جمرا. فليستقل أَو ليستكثر»".ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :جو مال بڑھانے کے لئے بھیک مانگے تو وہ انگارہ مانگتا ہے اب چاہے کم کرے یا زیادہ۔(مشکاۃ المصابيح،باب من لا تحل لہ المسئلۃ ومن تحل لہ،1/576،رقم:1838،المکتب الاسلامی)

    المعجم الکبیر کی روایت ہے: "عَنْ حَبَشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ سَأَلَ مِنْ غَيْرِ فَقْرٍ فَكَأَنَّمَا يَأْكُلُ الْجَمْرَ»".ترجمہ: حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بغير حاجت سوال کرتا ہے،گویا وہ انگارا کھاتا ہے۔ (المعجم الکبیر للطبرانی،باب الحاء ،4/15،رقم:3506،مکتب ابن تیمیہ قاهره )

    سنن ابو داؤد کی روایت ہے، حضرت سہل بن حنظلہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی، کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ، فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنَ النَّارِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا يُغْنِيهِ؟ - وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ: وَمَا الْغِنَى الَّذِي لَا تَنْبَغِي مَعَهُ الْمَسْأَلَةُ؟ - قَالَ: «قَدْرُ مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ".ترجمہ: جو شخص سوال کرنے اور اس کے پاس اتنا ہے جو اُسے بے پرواہ کرے، وہ آگ کی زیادتی چاہتا ہے۔ لوگوں نے عرض کی ، وہ کیا مقدار ہے، جس کے ہوتے سوال جائز نہیں ؟ فرمایا : صبح وشام کا کھانا۔(سنن ابی داود، کتاب الزكاة، باب من يعطى من الصدقۃ وحد الغنی ، 2/117،رقم:1629،المكتبۃ العصریۃ)

    علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں: "لا يحل أن يسأل شيئا من له قوت يومه بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحالته لإعانته على المحرم ".ترجمہ: یہ حلال نہیں کہ آدمی کسی سے روزی وغیرہ کا سوال کرے جبکہ اس کے پاس ایک دن کی روزی موجود ہو یا اس میں اس کے کمانے کی طاقت موجود ہو جیسے تندرست کمائی کرنے والا اور اسے دینے والا گنہگار ہوتا ہے اگر اس کے حال کو جانتا ہے کیونکہ حرام پر اس نے اس کی مدد کی۔(الدر المختار،باب الجمعۃ، مطلب فی الصدقۃ على سوال المسجد ،2/164،دار الفکر)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’قوی (طاقتور) تندرست قابلِ کسب (کمانے کے لائق) جو بھیک مانگتے پھرتے ہیں ان کو دینا گناہ ہے کہ ان کا بھیک مانگنا حرام ہے اور ان کو دینے میں اس حرام پر مدد، اگر لوگ نہ دیں تو جھک ماریں اور کوئی پیشہ حلال اِختیار کریں۔(فتاوی رضویہ،23/463،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    سنن الترمذی کی روایت ہے: "عن عبد الرحمن بن خباب قال : شهدت النبي صلى الله عليه و سلم وهو يحث على جيش العسرة فقام عثمان بن عفان فقال يا رسول الله علي مائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان فقال يا رسول الله علي مائتا بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله ثم حض على الجيش فقام عثمان بن عفان فقال يا رسول الله لله علي ثلثمائة بعير بأحلاسها وأقتابها في سبيل الله فأنا رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينزل عن المنبر وهو يقول ما على عثمان ما عمل بعد هذه ما على عثمان ما عمل بعد هذه".ترجمہ: عبدالرحمن بن خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا، آپ جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے سامان کی لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے، تو عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ میرے ذمہ اللہ کی راہ میں مع ساز و سامان سو 100اونٹ ہیں ، آپ ﷺ نے پھر اس کی ترغیب دلائی، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پھر کھڑے ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ میرے ذمہ اللہ کی راہ میں مع ساز و سامان دو سو 200اونٹ ہیں ، آپ ﷺنے پھر اسی کی ترغیب دی تو حضرت عثمان پھر کھڑے ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ میرے ذمہ اللہ کی راہ میں مع ساز و سامان تین سو 300اونٹ ہیں ، راوی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ منبر سے یہ کہتے ہوئے اتر رہے تھے کہ ”اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں، اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں“۔(سنن الترمذی،ابواب المناقب،باب فی مناقب عثمان بن عفان،5/625،رقم:3700،مصطفی البابی)

    سنن النسائی کی روایت ہے: "عن عياض بن عبد الله، قال: سمعت أبا سعيد الخدري، يقول: جاء رجل يوم الجمعة والنبي صلى الله عليه وسلم يخطب بهيئة بذة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أصليت؟» قال: لا، قال: «صل ركعتين، وحث الناس على الصدقة»، فألقوا ثيابا فأعطاه منها ثوبين، فلما كانت الجمعة الثانية جاء ورسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب، فحث الناس على الصدقة، قال: فألقى أحد ثوبيه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «جاء هذا يوم الجمعة بهيئة بذة، فأمرت الناس بالصدقة، فألقوا ثيابا، فأمرت له منها بثوبين، ثم جاء الآن فأمرت الناس بالصدقة، فألقى أحدهما»، فانتهره وقال: «خذ ثوبك»".ترجمہ: حضرت عیاض بن عبد اللہ کہتے ہیں میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جمعہ کے دن ایک شخص آیا نبی اکرم ﷺ اس وقت خطبہ دے رہے تھے اس شخص کی ظاہری حالت سے تنگدستی واضح تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا: کیا تم نے نماز ادا کر لی ہے؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم دو رکعات ادا کر لو پھر نبی اکرم ﷺ نے صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب دی تو لوگوں نے اپنے کپڑے پیش کر دیئے نبی اکرم ﷺ نے ان میں سے دو کپڑے اسے دیئے جب اگلا جمعہ آیا تو وہی شخص آیا نبی اکرم ﷺ اس وقت خطبہ دے رہے تھے نبی اکرم ﷺ نے صدقہ و خیرات کرنے کی ترغیب دی تو اس شخص نے اپنے دو کپڑوں میں ایک پیش کر دیا۔نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: یہ شخص پچھلے جمعہ تنگدستی کی حالت میں آیا تھا، میں نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ہدایت کی تھی تو انہوں نے کپڑے پیش کر دیئے تھے تو میرے حکم کے تحت ان کپڑوں میں سے دو کپڑے اسے دیئے گئے تھے اب یہ آیا ہے اور میں نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ہدایت کی ہے تو اس نے ان دونوں میں سے ایک کپڑے کو پیش کر دیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو ڈانٹا اور فرمایا: تم اپنا کپڑا واپس لے لو۔(سنن النسائی،کتاب الجمعۃ، باب حث الامام على الصدقۃ يوم الجمعۃ فی خطبتہ،3/106،رقم:1408،مکتب المطبوعات الاسلامیۃ)

    ان روایات سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لئے کسی کام کے صدقہ وخیرات کرنے کی تلقین کی جاسکتی ہے اور امام کے لئے یہ بات مستحب ہے کہ وہ خطبے کے دوران ایسا کرے کیونکہ وہ خطبے کے دوران یہ بات کرے گا تو لوگ زیادہ توجہ سے اس کی بات سنیں گے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں گے۔

    علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں: "يكره إعطاء سائل المسجد إلا إذا لم يتخط رقاب الناس في المختار كما في الاختيار ومتن مواهب الرحمن لأن عليا تصدق بخاتمه في الصلاة فمدحه الله بقوله {ويؤتون الزكاة وهم راكعون}".ترجمہ: مختار مذہب کے مطابق مسجد کے سائل کو کوئی چیز دینا مکروہ ہے مگر جب وہ لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے جیسا کہ ’’الاختیار ‘‘اور ’’مواہب الرحمن ‘‘کے متن میں ہے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے حالت ِنماز میں اپنی انگوٹھی صدقہ کی تھی۔ پس اللہ تعالی نے اپنے فرمان:وہ زکوۃ دیتے ہیں جب کہ وہ رکوع کرنے والے ہوتے ہیں ‘‘کے ساتھ مدح فرمائی۔(الدر المختار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،6/417،دار الفکر)

    علامہ محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"(قوله إلا إذا لم يتخط) أي ولم يمر بين يدي المصلين قال في الاختيار: فإن كان يمر بين يدي المصلين، ويتخطى رقاب الناس يكره لأنه إعانة على أذى الناس، حتى قيل: هذا فلس لا يكفره سبعون فلسا اهـ. وقال ط فالكراهة للتخطي الذي يلزمه غالبا الإيذاء وإذا كانت هناك فرجة يمر منها لا تخطى فلا كراهة كما يؤخذ من مفهومه (قوله في الصلاة) أي وهي كانت في المسجد فتم الدليل أو أنه إذا كان ذلك جائزا في الصلاة وهي أفضل الأعمال، فلأن تجوز في المسجد وهو دونها أولى". ترجمہ: مصنف کا قول(گردنیں نہ پھلانگے)یعنی وہ نمازیوں کے سامنے سے نہ گزرے ۔الاختیار میں کہا: اگر وہ نمازیوں کے سامنے سے گزرے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگے تو یہ مکروہ ہوگا۔ کیونکہ یہ لوگوں کو اذیت دینے پر مدد کرنا ہوگا یہاں تک کہ یہ کہا گیا ہے: یہ ایک ایسا سکہ ہے کہ ستر سکے بھی اس کا کفارہ نہیں بن سکتے۔طحطاوی نے کہا ہے: کراہت گردن پھلانگنے کی وجہ سے ہے جس سے عموماً اذیت لازم ہوتی ہے۔جب وہاں کشادگی ہو تو وہ اس کشادگی سے گزرے تو اس میں کوئی کراہت نہیں ہوگی جس طرح اس کے مفہوم سے ماخوذ ہے۔ مصنف کا قول(حالت ِنماز میں) یعنی یہ نماز مسجد میں تھی تو دلیل مکمل ہوگئی یا جب یہ نماز میں جائز ہے جب کہ نماز سب سے افضل عمل ہے تو یہ مسجد میں بھی جائز ہو جب کہ مسجد نماز سے درجہ میں کم ہے۔ (رد المحتار،کتاب الحظر والاباحۃ،فصل فی البیع،6/417،دار الفکر)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں: "أقول: وإن فرّق بمن تعوّد فیمنع عطاء ہ مطلقاً أو ورد غریباً کئیباً لا یعرف الناس فیباح إن لم یتخطّ لم یعد وکان توفیقاً".ترجمہ:’’میں (یعنی امام اہلسنت) کہتا ہوں کہ اگر ان دو مسائل میں فرق کیا جائے کہ سائل اگر پیشہ ور فقیر ہے تو اُسے دینا ، مطلقاً (یعنی چاہے مسجد میں ہو یا عِلاوہ مسجد) منع ہے اور اگر وہ شخص خستہ حال مسافر ہے کہ وہاں اُس کا کوئی جاننے والا نہیں اور نہ وہ نمازیوں کو پھلانگتا ہے ، نہ ہی بار بار سُوال کرتا ہے تو اُسے دینا جائز ہے،یہ ان مسائل میں تطبیق ہے ‘‘۔ (فضائل دعا،ص:278-279،مکتبۃ المدینہ کراچی)

    مزید آپ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:’’مسجد میں اپنے لئے مانگنا جائز نہیں اور اسے دینے سے بھی علماء نے منع فرمایاہے یہاں تک کہ امام اسمٰعیل زاہد رحمۃ اﷲ علیہ نے فرمایا جو مسجد کے سائل کو ایک پیسہ دے اسے چاہئے کہ ستر پیسے اﷲ تعالی کے نام پر اور دے کہ اس پیسہ کا کفارہ ہوں، اور کسی دوسرے کےلئے مانگایا مسجد خواہ کسی اور ضرورت دینی کےلئے چندہ کرنا جائز اور سنت سے ثابت ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،16/418،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    فتاوی امجد یہ میں ایک سوال کے جواب میں صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے مسجد میں اپنی ذات کے لیے سوال کرنے پر تفصیلاً کلام فرمایا ہے، اس پر وارد ہونے والے ایک مشہور اعتراض کا جواب بھی دیا ہے، افادہ عام کے لیے یہ فتوی پیش خدمت ہے:

    سوال: عرض یہ ہے کہ جناب نے بہار شریعت میں فرمایا ہے کہ مسجد میں سوال کرنا حرام ہے اور سائل کو دینا بھی منع ، نیز بہار شریعت صفحہ 78 جلد 5 میں ہے کہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ مسجد کے سائل کو اگر ایک پیسہ دیا تو ستر پیسے اور خیرات کرے کہ اس ایک پیسے کا کفارہ ہو، لیکن صاحب موضح القرآن اس آیت کریمہ ﴿إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَهُمُ رَاكِعُونَ ﴾ (تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں) (سورۃ المائدہ، آیت 55) کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی مرتضی کی شان میں ہے کہ آنحضرت ﷺایک بار حجرہ مبارک سے مسجد میں آئے تو بعضوں کو دیکھا رکوع میں ہیں اور بعضوں کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہیں۔اور آنحضرت ﷺنے ایک سائل کو دیکھا اور فرمایا کسی نے تجھ کو کچھ دیا۔سائل نے سونے یا روپے کی انگوٹھی آنحضرت ﷺ کو دکھلائی اور حضرت علی مرتضی کی طرف اشارہ کیا کہ اس رکوع کرنے والے نے رکوع میں دی ہے۔ اب عرض یہ ہے کہ تفسیر سے صاف واضح ہوتا ہے کہ حضرت علی مرتضی کرم اللہ وجہ کا مسجد میں انگوٹھی دینا ( اور وہ بھی رکوع میں ) باعث مدح خالق ہے اگر سائل کو مسجد میں دینا منع ہے تو آیت قرآن اس فعل کو موقع مدح میں کیوں ذکر کر رہی ہے اور جب مسجد میں سائل کو دینا بحکم آیت مذکورہ باعث مدح خالق ہے تو علماء اس فعل کو ممنوع کیوں فرماتے ہیں بینوا توجروا

    جواب: مسجد میں سوال کرنے کے متعلق علمائے حنفیہ کے دو قول ہیں، ایک یہ کہ مطلقا نا جائز ، دوسرا یہ کہ چارشرطوں کے ساتھ جائز ہے اور یہ شرطیں نہ ہوں تو ناجائز، شرط اول یہ کہ مصلی کے آگے سے نہ گذرے، دوم یہ کہ لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے ، سوم یہ کہ الحاف کے ساتھ سوال نہ ہو چہارم یہ کہ ضرورت کے لئے سوال کرتا ہو، قول دوم کو بزاز یہ و نہر وغیر ہم میں اختیار فرمایا، اور صاحب در مختار نے بھی کتاب الحظر میں تنہا اسی قول کوذ کر کیا۔ ردالمحتار میں ہے: "قال في النهر: والمختار أن السائل إن كان لا يمر بين يدي المصلي ولا يتخطى الرقاب ولا يسأل إلحافا بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء اهـ ومثله في البزازية. وفيها ولا يجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكورة. قال الإمام أبو نصر العياضي: أرجو أن يغفر الله - تعالى - لمن يخرجهم من المسجد. وعن الإمام خلف بن أيوب: لو كنت قاضيا لم أقبل شهادة من يتصدق عليهم. اهـ. وسيأتي في باب المصرف أنه لا يحل أن يسأل شيئا من له قوت يومه بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحالته لإعانته على المحرم".ترجمہ: نہر میں فرمایا مختار یہ ہے کہ اگر سائل نمازیوں کے آگے سے نہ گزرے ،نہ گردنیں پھلانگے اور نہ ہی لوگوں سے ضد کے ساتھ سوال کرے اور سوال ضرورت کے لئے کرتا ہو تو اس کا سوال کرنا اور لوگوں کے دینے میں کوئی حرج نہیں ہے، ایسا ہی بزازیہ میں ہے اور اسی میں ہے کہ اگر یہ مذکورہ صفات نہ پائی جائیں تو اسے دینا جائز نہیں ہے امام ابو نصر عیاضی فرماتے ہیں کہ جو ایسا کرنے والے کو مسجد سے نکال دے تو میں امید کرتا ہوں کہ اللہ اس کی مغفرت فرما دے گا امام خلف ابن ایوب فرماتے ہیں کہ اگر میں قاضی ہوتا تو ایسے سائل کو دینے والے کی گواہی قبول نہ کرتا ، باب المصرف میں آئے گا کہ جس کے پاس اس دن کی غذا بالفعل یا بالقوة موجود ہو جیسا کہ ایسا تندرست شخص جو کمانے پر قادر ہو اور دینے والے کو سوالی کی حالت کا علم بھی ہے تو دینے والا بھی گناہ گار ہوگا کیونکہ یہ گناہ پر معاونت کر رہا ہے۔

    خلاصہ یہ ہے کہ سائل میں اگر وہ شرائط نہ پائی جائیں تو سوال بھی جائز نہیں اور دینا بھی نا جائز ، امام ابونصر عیاضی فرماتے ہیں کہ ان کو مسجد سے نکال دے میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالی اس کی مغفرت فرمائے گا اور امام خلف ابن ایوب فرماتے ہیں کہ اگر میں قاضی ہوتا تو ان لوگوں کی شہادت قبول نہیں کرتا جو ایسے سائل کو دیتے ہیں اور باب المصرف میں ذکر کیا گیا کہ جس کے پاس اس دن کے کھانے کے لائق ہو یا وہ اس کے کمانے پر قادر ہو مثلا تندرست جو کما سکتا ہوا سےسوال حلال نہیں اور دینے والا اگر اس کے حال پر مطلع ہو کر دیگا تو وہ بھی گنہ گار ہوگا کہ حرام پر اعانت کرتا ہے۔

    اور قول اوّل کو صاحب در مختار نے کتاب الصلوۃ میں ذکر فرما کر قول دوم لفظ قیل سے تعبیر کیا ، عبارت یہ ہے: ويحرم فيه السوال ويكره الاعطاء مطلقا وقیل ( مسجد میں سوال کرنا حرام ہے اور سائل کو دینا مطلقا مکرو ہے اور کہا گیا) اور اسی قول اول کو غنیۃ میں احوط فرمایا اس کی عبارت یہ ہے: و علم مما تقدم حرمة السوال في المسجد لانه كثران الضالة والبيع ونجوه كراهية الاعطاء لانه يحمل على السوال وقيل لا اذا لم يتخط الناس ولم يمر بين يدى مصل ، والأول احوط ( جو عبارت پیچھے گزری اس سے یہ بات جان لی گئی کہ مسجد میں سوال کرنا حرام ہے اور اسے دینا مکروہ ہے کیونکہ یہ سوال پر محمول ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر وہ لوگوں کو نہ پھلانگے اور نمازیوں کے آگے سے نہ گزرے تو یہ حکم نہیں ہے، اور پہلا قول ہی احوط ہے)۔

    نیز ملاعلی قاری علیہ رحمۃ الباری شرح مشکوۃ میں فرماتے ہیں: ويدخل في كذا كل امر لم يبن لـه السجد من البيع والشراء ونحو ذالك وكان بعض السلف لا يرى ان يتصدق على السائل المعترض في المسجد ( اور اس میں ہر وہ کام داخل ہے جس کے لئے مسجد نہیں بنائی گئی جیسے خرید وفروخت کرنا اور اس کی مثل دوسرے کام، اور بعض علمائے سلف کہ اس کو درست خیال نہیں کرتے کہ مسجد کے سائل پر صدقہ کرے)۔

    اس کے بعد اسی صفحہ میں یہ قول ذکر کیا کہ سائل کو دینے میں حرج نہیں کیونکہ حدیث میں ہے کہ حضور نےفرمایا: "هل احد منكم اطعم اليوم مسكينا فقال ابو بكر دخلتُ المسجد فاذا انا بسائل فوجدت كسرة خبز في يد عبد الرحمن فاخدتها فدفعتها اليه " یعنی کسی نے آج مسکین کو کھانا کھلایا ہے، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا میں مسجد میں داخل ہوا نا گاہ مجھے ایک سائل ملا اور میں نے عبد الرحمن کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکرا دیکھا اس سے لے کر سائل کو دے دیا۔

    پس اس سے معلوم ہوا کہ سائل کو مسجد میں دینا جائز ہے۔اس استدلال کے جواب میں ملا علی قاری فرماتے ہیں: "قلت: لا دلالة في الحديث على أنه كان سائلا، وإنما الكلام فيه، وقد قال بعض السلف: لا يحل إعطاؤه فيه لما في بعض الآثار: ينادي يوم القيامة ليقم بغيض الله، فيقوم سؤال المسجد "یعنی اس حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ وہ سائل تھا اور کلام سائل میں ہے اور بعض سلف فرماتے ہیں کہ مسجد میں سائل کو دینا حلال نہیں اس لئے کہ بعض احادیث میں آیا ہے کہ روز قیامت منادی کی جائے گی جو شخص اللہ کے نزدیک مبغوض ہے کھڑا ہو جائے تو مسجد کا سائل کھڑا ہو جائے گا۔

    اقول :اس استدلال کا یہ بھی جواب دیا جا سکتا ہے کہ دخلت ُسے مراد ارادہ دخول ہے یعنی میں مسجد میں داخل ہونا چاہتا تھا کہ مجھے ایک سائل ملا اور ارادہ فعل کو فعل سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسا کہ اذا قمتم الى الصلوة (جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو) سے ارادہ قیام مراد ہے۔ پس اس تقدیر پر یہ واقعہ مسجد کا نہ ہوا اور استدلال صحیح نہ ہوا، اگر یہ شبہ کیا جائے کہ حدیث مذکورہ بالا میں تصریح ہے فانا انا بسائل پھر ملاعلی قاری کا یہ کہنا لا دلالة في الحديث على انه كان سائلا صحیح نہیں، تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے طرف اتنا معلوم ہوا کہ وہ سائل تھا ، رہا یہ کہ اس نے مسجد میں سوال بھی کیا ، یہ ثابت نہیں اور کلام اسی میں ہے کہ جو سائل مسجد میں سوال کرے اسے دینا حلال نہیں نہ یہ کہ بلا سوال بھی اسے دینا حلال نہیں اور دونوں میں فرق ظاہر ہے۔

    پھر ملاعلی قاری رحمہ اللہ تعالی علیہ نے یہ قول ذکر کیا کہ بعض صورتوں میں جائز ہے اور بعض میں نا جائز ، "وفصل بعضهم بين من يؤذي الناس بالمرور ونحوه، فيكره إعطاؤه ; لأنه إعانة له على ممنوع، وبين من لا يؤذي فيسن إعطاؤه ; لأن السؤال كانوا يسألون على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم في المسجد، حتى يروى أن عليا كرم الله وجهه تصدق بخاتمه وهو في الركوع، فمدحه الله بقوله: يؤتون الزكاة وهم راكعون"بعض علماء نے اس کے درمیان فرق کیا ہے کہ جو سائل نمازیوں کے آگے سے گزر کریا کسی اور طرح انہیں اذیت دیتا ہے تو اسے دینا مکروہ ہے کیونکہ یہ ممنوع کام پر اعانت ہے، اور جو سائل اس طرح تکلیف نہیں دیتا تو اسے دینا مکروہ نہیں ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سائل مسجد میں سوال کیا کرتے تھے اور یہ بھی مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حالت رکوع میں اپنی انگوٹھی صدقہ کر دی تو اللہ نے ان کی ان الفاظ سے مدح فرمائی کہ (وہ زکوۃ دیتے ہیں اور رکوع کرتے ہیں) یعنی جو سائل لوگوں کو اذیت دیتا ہے مثلا نمازی کے آگے سے گزرتا ہے یا اس سے مثل کچھ اور حرکت کرتا ہے اسے دینا مکروہ ہے، کہ ممنوع پر اعانت ہے، اور جو ایسا نہیں کرتا اسے دینا بہتر ہے کہ حضور کے زمانے میں لوگ مسجد میں سوال کرتے تھے جب تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے رکوع میں اپنی انگوٹھی دے دی تھی جس پر اللہ نے ان کی مدح فرمائی۔

    اس قول کا جواب ملا علی قاری اس طرح تحریر فرماتے ہیں اور یہی استفتار کا جواب بھی ہے:"وفيه أنه ليس في الحديث ولا الآية أن إعطاء علي كان في المسجد "یعنی حدیث و آیت کسی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے مسجد میں دیا تھا۔

    اقول: اور اگر فرض بھی کیا جائے کہ مسجد میں دیا تھا تو یہ ثابت نہیں کہ اس نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مسجد میں سوال کیا تھا اگر حدیث سے ثابت ہوتا ہے تو صرف اتنا کہ اس نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے سوال کیا تھا اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے دیا تھا اور یہ امر کہ اس نے مسجد میں سوال کیا اس کے متعلق کوئی حدیث نظر سے نہ گزری، اور ملاعلی قاری کا یہ فرمانا کہ حدیث سے مسجد میں سوال ثابت نہیں ، صاف بتاتا ہے کہ ان کے پیش نظر بھی کوئی ایسی حدیث نہیں ہے، جس سے مسجد میں سوال کی اجازت ثابت ہو تفسیر بیضاوی شریف میں شان نزول کو اس طرح نقل کیا و انما نزلت فی علی رضی الله تعالى عنه حين ساله سائل وهو راكع في صلوته فطرح له خاتمه ( یہ آیت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی جب سائل نے سوال کیا اور یہ اپنی نماز کے رکوع میں تھے تو انہوں نے اپنی انگوٹھی اتار کر اسےدے دی)۔

    اس سے بس اتنا معلوم ہوا کہ سائل کے سوال پر دیا ،نہ یہ کہ مسجد میں سوال کیا تھا اور اسے دیا بلکہ خود قاضی بیضاوی کا اس شان نزول کے متعلق کہنا ، و ان صح ّ، بتاتا ہے کہ اس روایت کی صحّت میں بھی انہیں کلام ہے اس لئے آیت میں رکوع کے معنی خشوع و خضوع کے لیتے ہیں یعنی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں ۔اور یہ معنی کہ رکوع میں زکوۃ دیتے ہیں، اس کو بصیغہ تمریض قیل سے تعبیر کرتے ہیں۔

    رہا یہ کہ استفتاء میں جو موضح القرآن کی عبارت نقل کی گئی ہے اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ سائل تھا اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے دیا تھا، پس اگر یہ مضمون حدیث صحیح سے ثابت ہو تو کہا جائیگا کہ سائل کو دیا اس کے یہ معنی ہر گز نہیں کہ اس نے مسجد میں سوال بھی کیا ہو جیسا کہ فاذا انا بسائل سے ثابت نہیں کہ اس نے مسجد میں سوال کیا تھا ویسا ہی یہاں بھی یہ ثابت نہیں کہ اس نے مسجد میں سوال کیا اور اس کی عبارت سے یہ بھی ثابت نہیں کہ مسجد میں دیا۔

    لہذا اس عبارت موضح القرآن سے مسجد میں سوال کی اجازت ثابت نہیں کہ مسجد میں دیا، اس لئے بہار شریعت حصہ سوم میں یہ لفظ ہے کہ اس سائل کو دینا بھی منع ہے، مستفتی سے لفظ ( اِس ) لکھنے سے رہ گیا جس کا مطلب ہو گیا کہ چاہے مسجد میں سوال کرے یا نہ کرے سائل کو مسجد میں دینا منع ہے حالانکہ مطلب یہ تھا کہ مسجد میں سوال کرے تو دینا منع ہے، اور اسی کے لئے لفظ (اِس )بڑھایا گیا تھا۔

    اس عبارت موضح القرآن کے قریب قریب ایک حدیث علامہ خفاجی نے نقل فرمائی ہے ، وہ یہ ہے : نہ مناکحت کریں گے اور نہ ہم سے بات چیت کریں گے اور یہ امر ہم پر شاق ہے، نبی صل اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا ولی اللہ و رسول ہیں پھر نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مسجد کی طرف نکلے اور کسی کو قیام میں اور کسی کو رکوع میں پایا اور ایک سائل کو ملا حظہ فرمایا اس سے فرمایا کسی نے تجھے کچھ دیا اس نے عرض کی ہاں چاندی کی ایک انگوٹھی ملی ہے، فرمایا کس نے دی اس نے کہا اس قیام کرنے والے نے اور ہاتھ سے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی طرف اشارہ کیا حضور نے فرمایا کس حالت میں دی اس نے کہا حالت رکوع میں ، اس پر حضور نے تکبیر کہی پھر اس آیت کی تلاوت فرمائی کہ پس اس روایت سے معلوم ہوا کہ جب حضور نے سائل سے دریافت کیا تھا، اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ قیام میں تھے رکوع میں نہ تھے اگر چہ دینا رکوع میں تھا، مگر موضح القرآن کے اس لفظ سے کہ اس رکوع کرنے والے نے دی ، یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ اسی وقت دی ہے جبکہ اس رکوع میں تھے اور یہ رکوع مسجد میں تھا لہذا مسجد میں دینا ثابت ہوا اگر چہ فقط یہ لفظ اس ثبوت کے لئے کافی نہیں مگر تو ہّم پیدا ہوتا ہےاور جبکہ علامہ خفاجی نے جو روایت حاکم وغیرہ سے نقل کی اس میں اس وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قائم ہونا مذکور ہے تو یہ تو ہّم بہت بعید ہو گیا۔

    ملاعلی قاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس بحث کے آخر میں دونوں مقولوں میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ "والظاهر أن الخلاف خلاف عصر وزمان لاختلاف السائلين "یعنی علماء میں یہ اختلاف زمانہ کے اختلاف پر مبنی ہے کہ قرون اولی میں سائلین آداب مسجد کی مراعات کرتے تھے اور ضرورت پر سوال کرتے تھے اور اس طرح سوال نہ کرتے تھے کہ ممنوع ہو، اور اس زمانہ کے سائلین ایسے نہیں اگر ان کو اجازت دے دی جائے تو کسی امر کی پرواہ نہ کریں گے، اور جائز و نا جائز کا خیال نہ رکھیں گے اس لئے ان کے لئے حکم یہی ہے کہ سوال سے روک دیئے جائیں، و كــم مــن شـــــى يـختـلف باختلاف الزمان ۔

    پس چونکہ صاحب غنیۃ نے مطلق ممانعت کو احوط فرمایا اور ملاعلی قاری نے اس اختلاف کو اختلاف زمانہ پر محمول کیا لہذ افقیر نے اسی قول کو اختیار کیا اور اس کو بہار شریعت میں ذکر کیا۔ (فتاوی امجدیہ،باب احکام المسجد، 1/251-255،مکتبہ رضویہ کراچی)

    خلاصہ کلام:

    مسجد میں ایسا سوال جو شور و غل مچا کر، نمازیوں کی نماز میں خلل ڈال کر اور لوگوں کی گردنیں پھلانک کر ہو مطلقا حرام ہے چاہے یہ سوال اپنی ذات کیلئے ہو یا کسی اور کیلئے۔اور اگر ایسا نہ ہو تویہ بلا شبہہ جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے۔اور بے سوال کسی محتاج کو دینابہت خوب اور مولی علی کرم اللہ تعالی وجہہ سے ثابت ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 16 رمضان المبارک 1444 ھ/7 اپریل2023ء