روزوں کےکفارے کا حکم
    تاریخ: 27 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 17
    حوالہ: 442

    سوال

    عرض یہ ہے کہ میں ایک غلط اور گندے ماحول میں رہ چکا ہوں جہاں مجھ سے بہت ہی غلط افعال سرزد ہوئے ہیں اور تقریبا تین سال کے روزے زناء جیسے افعال کی وجہ سے ٹوٹے ہیں ۔لیکن اب الحمد للہ میں ان کاموں سے توبہ کرکے دعوت اسلامی کے ماحول سے وابستہ ہوں تو میں ان روزوں کی قضاء کس طرح کروں ؟اور یہ بھی پوچھنا تھا کہ جس لڑکی سے میرے ناجائز تعلقات تھے وہ نکاح کر نے پر مصر ہے تو میرا ان سے نکاح کرنا کیسا ہے ؟جبکہ اس لڑکی کے اور لڑکوں سے بھی نا جائز تعلقات ہیں اور وہ ڈاکٹروں کے مطابق بچے پیدا کرنے کے قابل نہیں ہے ۔

    سید حسنین رضا : کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    تین سالوں میں جتنے روزے قضا ہو چکے ہیں تمام کا حساب لگا کر ان کی قضاء کرنا واجب ہے،اور تینوں سالوں کےتمام روزوں کی قضاء کر لینے کے بعد ان تین سالوں کے وہ روزے جن کو بلا عذر شرعی توڑا ہے ان سب کاایک ہی کفارہ دینا لازم ہوگا ۔اور روزے کا کفارہ یہ ہے:ایک غلام آزاد کرے ،اگر نہ کر سکے تو دو مہینے مسلسل روزے رکھے،اگر بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے نہ رکھ سکے تو ساٹھ مسکینوں کو اپنی حیثیت کے مطابق دو وقت کا کھانا کھلائے،اور اللہ کی بارگاہ میں توبہ و استغفار کر تا رہے ۔یاد رہے کفارہ کی ادئیگی میں یہ ترتیب ضروری ہے یعنی غلام آزاد کرنا ،وہ نہ ہوتو دو مہینے کے مسلسل روزے رکھنا ،وہ نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ۔

    جہاں تک اس لڑکی سے نکاح کی بات ہے توشرعا اس سےآپ کا نکاح کرنا جائز ہے لیکن آپ کے بیان کے مطابق اس لڑکی کے دوسرےلڑکوں سے ناجائز تعلقات ہیں جس کی وجہ سےاس کے لیئے اپنی عصمت کی حفاظت کرنا فی زمانہ مشکل نظر آتا ہے جس کی وجہ سے آپ کے نسب کی حفاظت کے مسائل آسکتے ہیں الا ّیہ کہ وہ صدق دل سے سچی ،پکی توبہ کرے اور آئندہ ایسے افعال کا تصور بھی نہ کرے ۔

    مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں متصرفاًہے :إذا فعل الصائم شيئا منها طائعا متعمدا غير مضطر لزمه القضاء والكفارةوهي الجماع في أحد السبيلين أي سبيل آدمي حي على الفاعل وإن لم ينزل وعلى المفعول به والدبر كالقبل في الأصح لكمال الجنابة……والكفارة تحرير رقبة فإن عجز عنه صام شهرين متتابعين فيهما يوم عيد ولا بعض أيام التشريق للنهي عن صيامها فإن لم يستطع الصوم لمرض أو كبر أطعم ستين مسكينا أو فقيرا ولا يشترط اجتماعهم والشرط أن يغديهم ويعشيهم غداء وعشاء مشبعين ولو في أوقات متفرقة لحصول الواجب ۔وكفت كفارة واحدة عن جماع وأكل متعددفي أيام لم يتخلله تكفير لأن الكفارة للزجر وبواحدة يحصل ولو من رمضانين على الصحيح للتداخل قدر الإمكان .فإن تخلل التكفير لا تكفي كفارة واحدة ۔ترجمہ: جب روزہ داراپنی قصد و ارادے سے جان بوجھ کر ، بغیر کسی جبرکے درجہ ذیل کاموں میں سے کسی کا ارتکاب کر لے تو اس پر قضاء و کفارہ دونوں لازم ہو جائےگا ۔اور ان میں سے پہلی چیز جماع ہے یعنی زندہ آدمی کے دونوں راستوں میں سے کسی ایک میں جماع کرنا ،تو اس صورت میں فاعل اور مفعول دونوں پر قضاء وکفارہ دونوں لازم ہو جائینگے ،اگر چہ فاعل کو انزال نہ ہوا ہو ۔اور اس معاملے میں پچھلی شرمگاہ اصح قول کے مطابق اگلی کی طرح ہےجنایت کے کامل ہونے کی وجہ سے ۔( مراقی الفلاح شرح نورالایضاح ،باب ما یفسد الصوم و تجب بہ الکفارۃ مع القضاء،ص:۲۴۷طبع:المکتبۃ العصریۃ)

    مختلف اور کئی دنوں میں جان بوجھ کر کھانے ،پینے اور جماع کرنے کی صورت میں ایک ہی کفارہ کافی ہے جب تک کہ درمیان میں کفارہ ادا نہ کیا ہوکیوں کہ کفارہ کالزوم زجر کے لیئے ہے اور وہ ایک ہی سے حاصل ہو جائے گا ،اگر چہ دو رمضانوں کے ہی روزے ہوں صحیح قول کے مطابق ،تداخل کے امکان کی وجہ سے ،اور اگر بیچ میں کفارہ ادا کر لیا تو ایک کفارہ کافی نہیں ہوگا ۔

    تفسیر مفاتیح الغیبمیں متصرفاًہے : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّه عَنْهُمَا عَنْ رَجُلٍ زَنَى بِامْرَأَةٍ فَهَلْ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا؟ فَأَجَازَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ،وَالْحَرَامُ لَا يُحَرِّمُ الْحَلَالَ ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیاجس نے کسی عورت سے زنا کیا (فلعیاذبااللہ)تو کیا وہ اس عورت سے نکاح کر سکتا ہے تو حضرت ان عباس رضی اللہ عنھما نے اس کی اجازت دے دی ،(اور یہ اصولی بات ہے کہ)حرام چیز حلال کو حرام نہیں کر تی ۔( تفسیر مفاتیح الغیب،سورۃ النور،ج:۲۳،ص:۳۱۸،آیت:۳،طبع:داراحیاءالترث)

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:11ربیع الاول 1439 ھ/20نومبر 2018ء