سوال
میرا نام پروین شکیل ہے میری والدہ کا نام زیتون بی بی ہے،ہم پانچ بہنیں اور چار بھائی ہیں۔میرے والد کو فوت ہوئے پندرہ سال ہوگئے تقریباً پچیس سال پہلے میرے والد نے تمام جائیداد کا بٹوارہ اپنی زندگی میں کر دیا تھا۔میرے ایک بھائی نے حصہ نہیں لیا تھا یہ کہے کہ میرے پاس اللہ کا دیا ہوا بہت ہے۔بقول والد کی وصیت مکان میری والدہ اور ہم پانچ بہنوں کا ہے۔اب آپ یہ بتائیں کہ اس مکان میں میرے بھائی کا کتنا فیصد حق ہے؟ میری والدہ کا کتنا فیصد حق ہے؟ اور میری بہنوں کا کتنا فیصد حق ہے؟مکان کی مالیت آج کی تاریخ (28 جنوری2024)میں 55پچپن لاکھ ہے۔
سائل:بلال۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر سائلہ اپنے بیان میں سچی ہیں اور وہی ورثاء ہیں جو سوال میں مذکور ہیں تومرحوم کے کفن دفن کے اخراجات اور قرضوں کی ادائیگی اور اگر کسی غیر وارث کے لئے وصیت کی ہو تو اس کو مرحوم کے تہائی مال سے پورا کرنے کے بعد تمام ترکہ کے کل 104 حصے کئے جائیں گےجن میں سے13حصے بیوہ کو ملیں گے،56 حصوں میں سے ہر ایک بیٹے کو 14حصے اور بقیہ 35 حصوں میں سے ہر ایک بیٹی کو 7 حصے تقسیم ہونگے۔
یاد رکھیں کہ حیاتی میں جو مال تقسیم کیا جاتا ہے اسے ہبہ یعنی تحفہ کہا جاتا ہے لہذا بھائی کا والد مرحوم کی حیاتی میں تحفہ نہ لینا انہیں وراثت سے محروم نہیں کرے گا حتی کہ بعد وفات اگر بھائی بزبان خود کہہ بھی دیتے کہ میں اپنا حصہ نہیں لیتا تب بھی وراثت سے محرومی نہ ہوتی جب تک کہ اپنے حصے پر قبضہ نہ کرلیتے اور اسکے بعد واپس نہ لوٹادیتے کیونکہ وراثت جبری شے ہے جو بغیر قبضہ کئے محض زبانی دستبرداری سے محرومی ثابت نہیں کرتی۔
نیز وارث کیلئے کی گئی وصیت نافذ نہیں ہوتی الا یہ کہ دیگر ورثاء اجازت دے دیں،لہذا اگر دیگر ورثاءاجازت نہ دیں تو والد کا اپنے مکان کو زوجہ اور بیٹیوں کو وصیت کرنا نافذ نہ ہوگا بلکہ اس پر بھی وراثت جاری ہوگی جس میں مرحوم کے تمام بیٹے بھی حصہ پائیں گے۔
مزید یہ کہ ترکے کی تقسیم کے وقت ہر چیز کی تقسیم کا حکم الگ الگ بیان نہیں کیا جاتا،بلکہ منقولہ و غیر منقولہ ترکے (مثلاً دکان، مکان،پلاٹ،زمین،زیورات،بینک اکاؤنٹ وغیرہ)میں سے ہر چیز کو فروخت کرکے یا اس کی موجودہ قیمت (یعنی جس تاریخ کو وراثت تقسیم کرنے لگیں) لگاکر مجموعی مالیت نکالی جاتی ہےاور پھر اس سب مال کی شریعت کے مطابق تقسیم ہوتی ہے۔
المسئلۃ بھذہ الصورۃ:
8×13=104
میــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
زوجہ 4بیٹے 5بیٹیاں
ثمن عصــــــــــــــــــــــــبہ
1×13 7×13=91
13 56/14 35/7
دلائل و جزئیات:
قرآنِ مجید میں زوجہ کے حصے کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے: وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.ترجمہ:تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)
وارث کا حقِ وراثت محض زبانی دستبرداری سے ساقط نہیں ہوتا، علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم المصری (المتوفی:970ھ) فرماتے ہیں:"لَوْ قَالَ الْوَارِثُ: تَرَكْتُ حَقِّي لَمْ يَبْطُلْ حَقُّهُ؛ إذْ الْمِلْكُ لَا يَبْطُلُ بِالتَّرْكِ ".ترجمہ: اگر وارث نے کہا:میں نے اپنا حق چھورڈیا ہے،تو اس کا حق باطل نہیں ہوگا کیونکہ ملک چھوڑدینے سے (یعنی محض دستبردار ہونے ) سے باطل نہیں ہوتا۔(الاشباہ والنظائر،1/272،دار الکتب العلمیۃ بیروت)
وارثت کیلئے وصیت دیگر وارثین کی اجازت کے بغیر درست نہیں، علامہ ابو بکر بن علی الزبیدی (المتوفی:800ھ) فرماتے ہیں:"(وَلَا تَجُوزُ الْوَصِيَّةُ لِلْوَارِثِ) (إلَّا أَنْ يُجِيزَهَا الْوَرَثَةُ) يَعْنِي بَعْدَ مَوْتِهِ وَهْم أَصِحَّاءُ بَالِغُونَ لِأَنَّ الِامْتِنَاعَ لِحَقِّهِمْ فَيَجُوزُ بِإِجَازَتِهِمْ".ترجمہ :وارث کے لیے وصیت درست نہیں ، ہاں اگر وصیت کرنے والے شخص کی وفات کے بعد ورثاء اس کی اجازت دیں ، جبکہ وہ تندرست ( یعنی شرعی طور پر ذہنی مریض نہ ہوں ) اور بالغ ہوں ( تو وارث کے لیے کی گئی وصیت بھی قابل عمل ہوگی) ، کیونکہ ( وارث کے لیے وصیت کی ) ممانعت ورثاء کے حق کی وجہ سے تھی ، تو ان کی اجازت کے ساتھ جائز ہوجائے گی۔(الجوھرۃ النیرۃ ، کتاب الوصایا،الوصیۃ للوارث، 2/287،المطبعة الخيرية)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:10 شعبان المعظم1445 ھ/20 فروری 2024ء