دانتوں سے خون یا پیپ نکلنے پر روزہ ٹوٹنے کا حکم
    تاریخ: 27 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 28
    حوالہ: 441

    سوال

    بہت سال سے ٍمیرے سامنے والے اوپر کے مسوڑں سے ہر وقت چکنائی والا پانی آتا رہتا ہے ،جیسے پتلا نزلہ ہوتا ہے ،20سال پہلے ناک پر چوٹ لگی تھی لیکن اس وقت ڈاکٹر کے پاس نہیں گئے تھے اب دوسال ہو گئے ڈاکٹر کے پاس گئے تھے تو ڈاکٹر نے کہا کہ مسوڑے پھول گئے ہیں ، سرجری کر والیں یا دانت کھینچوا لیں ،لیکن میں ایسا کچھ نہیں کیا کیوں کہ نہ میرا دانت ہل رہا ہے ،نہ مسوڑا سوجا ہوا ہے ،نہ درد ہے،نہ پیپ ہے اورنہ ہی خون ہے ۔

    یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہے کہ میں روزہ رکھ سکتی ہوں یا نہیں؟ کفر تو نہیں آئے گا ؟میری عمر 70سال ہوگئی ہے اور میں روزہ رکھ رہی ہوں تو میرے روزے ہورہے ہیں ؟

    سائلہ:ام احمد ،کراچی ۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر معاملہ ویسا ہی ہے جیسا آپ نے بیان کیا ہے توجو پانی رستا ہے اگروہ صرف بلغم یا نزلہ کا پانی ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اگر خون ،پیپ وغیرہ ہے تو اگر وہ حلق سے نہ گرے توبھی روزہ پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ،کیوں کہ جسم سے کسی خون یاپانی یا پیپ وغیرہ کا نکلنا مفسد روزہ نہیں ہے جب تک کہ حلق سے یا جسم کےکسی اور راستے بعینہ نہ پہنچے۔اورآپ نے جو روزے اس حال میں رکھے ہیں اس میں کفر والی کوئی بات نہیں ہے۔

    بدائع الصنائع میں ملتقطاًو ملخصاً ہے:وَأَمَّا رُكْنُهُ: فَالْإِمْسَاكُ عَنْ الْأَكْلِ، وَالشُّرْبِ، وَالْجِمَاعِ ۔۔۔لِقَوْلِهِ تَعَالَى {أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ} [البقرة: 187] إلَى قَوْله {فَالآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ} [البقرة: 187]ثُمَّ أَمَرَ بِالْإِمْسَاكِ عَنْ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ فِي النَّهَارِ بِقَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ} [البقرة: 187] فَدَلَّ أَنَّ رُكْنَ الصَّوْمِ مَا قُلْنَا۔۔ وَذَلِكَ بِالْأَكْلِ، وَالشُّرْبِ، وَالْجِمَاعِ۔۔۔ِ لَا نَاسِيًا ۔ترجمہ:روزہ کا رکن کھانے ،پینے اور جماع کرنے سے رکنے کا نام ہے ،اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سےکہ‘‘روزوں کی راتوں میں اپنی عورتوں کے پاس جانا تمہارے لیے حلال ہوا ،۔۔ تو اب ان سے صحبت کرو اور طلب کرو جو اللہ نے تمہارے نصیب میں لکھا ہو اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لیے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر’’پھر ان تمام سےچیزوں سے رکنے کا حکم فرمایا دن کے وقت ‘‘پھر رات آنے تک روزے پورے کرو پس آیات مبارکہ اس بات پر دلالت کر رہی ہیں کہ روزہ کا رکن وہی ہے جیساکہ ہم نے بیان کیا۔۔اور وہ کھا نا ،پینا اور جماع ہے (قصداً)نہ کہ بھول کر۔(بدائع الصنائع،کتاب الصوم ،فصل فی ارکان الصوم ،ج:۲،ص:۹۰،طبع: دارالکتب العلمیۃ)

    اسی طرح ص:۹۲ پر ہے:لِأَنَّ فَسَادَ الصَّوْمِ مُتَعَلِّقٌ بِالدُّخُولِ شَرْعًا، قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْفِطْرُ مِمَّا يَدْخُلُ، وَالْوُضُوءُ مِمَّا يَخْرُجُ»ترجمہ:اور اس لیئے بھی کہ روزہ کا ٹوٹنا شرعاکسی چیز کے داخل ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے ،(جیساکہ )رسول اللہ ﷺنے فرمایا :‘‘ روزہ کا ٹوٹنا (جسم میں کسی چیز کے )داخل ہو نے کی وجہ سےہوتاہے،اور وضوء کا ٹوٹنا (جسم سے کسی چیز)کے نکلنے کی وجہ ہوتاسے ہے ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:10رجب المرجب1440 ھ/18مارچ 2019ء