نامحرم عورتوں کا پیر صاحب کے پاؤں پر ہاتھ لگا کر (اپنےہاتھوں) کا بوسہ لینا کیسا
    تاریخ: 27 دسمبر، 2025
    مشاہدات: 15
    حوالہ: 440

    سوال

    ایک پیر صاحب گھر میں تشریف لائے داڑھی بھی نہیں تھی اور چارپائی پر بیٹھ گئے اور ٹانگیں نیچے لٹکی ہوئی تھیں۔عورتیں آکر کر نیچے بیٹھ کر پیر صاحب کے پاؤں پر ہاتھ کر لگا بوسہ لے رہی تھیں،عورتوں کے اس عمل پر پیر صاحب بھی خاموش تھے اور موجودہ تمام حضرات بھی ، شریعتِ مطہرہ میں اس مسئلہ کا کیا حکم ہے ، قرآن و سنت واقوال فقہاء سے رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: علامہ محمد شکیل باروی، اڈا فیض آباد چوک سرور شہید۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورت مسؤولہ میں پیر صاحب سے متعلق دو ناجائز امور ہیں: (۱) داڑھی منڈا ہونا۔ (۲) نامحرم عورتوں کا پیر صاحب کے پاؤں پر ہاتھ لگا کر(اپنے ہاتھوں کا) بوسہ لینا اگر محل فتنہ تھا(اسکی تعریف آگے آئے گی) اورپیر صاحب اس فعل پر راضی بھی تھے ۔

    ان حرام امور کے اعلانیہ ارتکاب سے پیر صاحب فاسق معلن ہوئے اور ایسے پیر کی بیعت فسخ کر نا لازم ہے۔نیز موجود حضرات پر شرعاً لازم تھا کہ بقدر استطاعت ان کو اس برے فعل سے روکتے، اگر منع کرنے سے وہ باز آجاتے تو ٹھیک، ورنہ ان سے معاشرتی بائیکاٹ اور قطع تعلقی کرتے، اگر باوجود قدرت کے ان حضرات نے منع نہ کیا تو اس منع نہ کرنے کا گناہ ان تمام پر ہوگا۔

    کیونکہ شریعت کا قانون احکم الحاکمین عز وجل کا قانون ہے جس میں کسی صاحب ِعقل پیر و مرشِد کی تخصیص و خلاصی نہیں۔احادیث میں رسول اللہ ﷺ نے داڑھی رکھنے اور اس کے بڑھانے کی بہت تاکید فرمائی ہے،مرد کیلئے داڑھی کا رکھنا واجب ہے،ایک مشت سے کم کردینا یا منڈوادینا فعل حرام ہے۔ پیرکی شرائط میں سے فاسق معلن نہ ہونا ہےاورمحل فتنہ سے مرادیعنی ایسی اجنبیہ عورت جو حد شہوت کو پہنچ چکی ہو اور ضعیفہ بڑھیا بد صورت نہ ہو ۔شریعتِ مطہرہ نے امر بالمعروف و نہی عن المنکر کو فرض کفایہ قرار دیتے ہوئے ایک عاقل بالغ مسلمان کو اس بات کا مکلف بنایا ہے کہ جب وہ کسی کو گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھے یا سنے تو اس پر لازم ہے کہ بقدر استطاعت اس کو اس فعلِ بد سے روکے، اگر باوجود منع کرنے کے بھی وہ نہ رُکے تو اس سے معاشرتی بائیکاٹ اور قطع تعلقی کرے، تا وقتیکہ وہ اس کارِ بد سے باز آجائے، اگر منع کرنے کی قدرت کے باوجود بھی وہ نہ روکے تو اس کو منع نہ کرنے کا گناہ ملے گا۔

    پردہ کے متعلق اعلی حضرت امام احمد رضا علیہ الرحمۃ الرحمن فرماتے ہیں:’’پردہ کے باب میں پیرو غیر پیر ہر اجنبی کا حکم یکساں ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،22/205،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    داڑھی منڈانا حرام ہےچنانچہ امام اہل سنت علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں:”داڑھی منڈانا اور کُتَروا کر حدِ شرع سے کم کرانا دونوں حرام وفسق ہیں اور اس کا فسق باِلاِعلان ہونا ظاہر کہ ایسوں کے منہ پر جلی قلم سے فاسق لکھا ہوتا ہے“۔ (فتاویٰ رضویہ، 6/505،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    صدرالشریعہ بدرالطریقہ مولانا امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:’’داڑھی ایک مشت سے کم کرنا حرام ، حدیث میں ارشاد ہوا"اخفوا الشوارب واعفوا اللحی"یعنی مونچھیں پست کرو اور داڑھی کو بڑھاؤ۔درمختا رمیں ہے:"یحرم علی الرجل قطع لحیتہ"یعنی مرد کا اپنی داڑھی کا کاٹناحرام ہے۔فتح القدیر و بحرالرائق و شرنبلالیہ و درمختار میں ہے:"واما الاخذ من اللحیہ و ھی دون القبضۃ کما یفعلہ بعض المغاربۃ فلم یبحہ احد و اخذ کلھا فعل مجوس الاعاجم والیھود والھنود و بعض اجناس الافرنج"یعنی ایک مشت سے کم کرنا کسی کے نزدیک حلال نہیں اور سب لے لینا یہ مجوسیوں اور ہندؤں اور بعض فرنگیوں کا فعل ہے۔ مولانا احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا رسالہ ’’لمعۃ الضحی‘‘ آیات و احادیث و اقوال فقہاء سے بکمال و بسط و تفصیل سے داڑھی کو ایک مٹھی سے کم کرنے کی حرمت کے بیان میں ہے۔ غرض داڑھی منڈانا حرام اور بعد اصرار کبیرہ و فسق ہے۔ حدیث میں ہے"لاصغیرۃ علی الاصرار رواہ فی مسند الفردوس عن ابن عباس رضی اللہ عنہما" ۔(فتاوی امجدیہ:ج1،ص114، 155، مکتبہ رضویہ کراچی)

    نامحرم عورت کا پیر صاحب کے پاؤں پر ہاتھ لگانے کے متعلق اعلی حضرت رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں:’’نامحرم عورتوں سے ہاتھ اور پیٹھ اور پنڈلیاں ملوانا یا دبوانا اگر نہ تو تنہائی میں ہو نہ محل فتنہ ہو تو حرج نہیں ورنہ گناہ ہے ‘‘۔(فتاوی رضویہ،22/236،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    فاسق معلن پیر کی بیعت فسخ کر نا لازم ہے چنانچہ فتاوی رضویہ میں ہے:’’ فاسق کے ہاتھ پر بیعت جائز نہیں۔ اگر کر لی ہو فسخ کر کے کسی پیر متقی، سنی، صحیح العقیدہ، عالم دین، متصل السلسلہ کے ہاتھ پر بیعت کرے‘‘۔(فتاویٰ رضویہ، ج: 21، ص: 603، مطبوعہ مرکز اہل سنت برکات رضا) ۔

    حدیث مبارکہ میں ہے: "من راى منكرا فلينكره بيده، ومن لم يستطع فبلسانه، ومن لم يستطع فبقلبه، وذلك اضعف الإيمان"۔ترجمہ: ’’تم میں سے جو برائی دیکھے تو اسے ہاتھ سے روک دے،اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان کے ذریعے روکے، اگر اس کی بھی قدرت نہ ہو تو دل میں برا جانے اور یہ کمزور ایمان والا ہے‘‘۔(سنن الترمذی،رقم:2172،مصطفی البابی) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:3 رجب المرجب 1444 ھ/26 جنوری 2023ء