warasat ka mutalba aur istihqaq e warasat
سوال
میں محمد راشد حنیف بن محمد حنیف زاہد آپ سے معلوم کرناچاہتا ہوں کہ میری امی جان کی موجودگی میں میرے ابو (مرحوم ) کا مکان فروخت ہورہاہے اور ہم چار بھائی اور چار بہنیں ہیں جن میں سے ایک کاپچھلے سال انتقال ہوا اور اس نے تقریباً دس سال جیل میں گزارے ہیں اور ان کاانتقال جیل ہی میں ہوا ہےاورجب بہن کو گرفتار کیا گیا تھا تو بہن کے سسرال والوں نے اور شوہر نے ان کی رہائی کے لیے کچھ خرچہ نہیں کیا حتی کہ بہن کو پہچاننے سے انکار کردیا،جبکہ سارا خرچہ ہماری والدہ نے کیا جوکہ 350000بنتے ہیں اور جو ان کا اپنا سامان تھا ان ہی کے کہنے پر فروخت ہوااور وہ ان ہی پر خرچ ہوا ،اب بہن کے بچوں کا کہنا یہ ہے کہ نانا کی جائیداد کی تقسیم کی جائے اور ہمیں ہماری والدہ کاحصہ دیا جائے آپ سے التماس ہے کہ ہمارے مسئلہ کو حل فرمائیں؟
نوٹ:محمودہ خاتون کے والد نے یہ گھر ان کو جہیز میں دیا تھا جس میں سے 80 گز محمد حنیف نے اپنی ہمشیرہ کو ھبہ کیاتھا جس پر محمودہ خاتون نے ناراضگی کا اظہار کیا پھر محمد حنیف نے ان سے کہاکہ میں آپ کو اس کے بدلے میں دوسری جگہ خرید کر دے دوں گا(جوکہ تادمِ مرگ نہیں دی گئی) محمودہ خاتون اس بات پر راضی ہوگئیں اور پھر محمد حنیف کا انتقال ہوگیا ،محمودہ خاتون نے کہا اب یہ جگہ میرے بچے مجھے دلا دیں گےبہر حال یہ گھر محمودہ خاتون کے نام پر ہی ہےالبتہ اس گھر کا ایک کمرہ اور باؤنڈری محمد حنیف نے تعمیر کی ہے اور یوٹیلٹی بل محمد حنیف کے نام سے آتے ہیں۔(محمد راشد اور محمودہ خاتون سے فون پر بات ہوئی اور ان باتوں کی تصدیق کی گئی )۔
سائل: محمد راشد حنیف: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بالجملہ یہاں چند امور ہیں:
1:محمودہ خاتون کے شوہرمحمد حنیف کاانکے ذاتی گھر میں بلااجازت تصرف کرکے اپنی بہن کو ھبہ کرنا۔اورمحمودہ خاتون کا اس معاملہ پراظہار ناراضگی کرنا،جس پر شوہر کا ان سے کوئی اور جگہ دینے کا وعدہ کرنا۔
2:محمودہ خاتون کی بیٹی کے بچوں کا مذکورہ مکان سے حصہ کا مطالبہ کرنا۔
3:محمودہ خاتون کے ذاتی مکان میں محمد حنیف کی تعمیرات کا حکم۔
ہر ایک کا حکم علی الترتیب مذکور ہے۔
1: بیوی کا مکان اپنی ہمشیرہ کو دینا غیر مملوک چیز کو ھبہ کرنا ہے،اور یہ ھبہ، ھبہ فضولی ہے ،جوکہ مالک یعنی بیوی کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ مگر جب کہ اصل مالک نے اجازت اس مکان کے بجائے دوسری جگہ لینے پر مشروط کردی ۔پھر تا وقت موت ِفضولی اصل مالک کو دوسری جگہ نہ مل سکی جسکے سبب اجازت ختم ہوگئی،تو یہ ھبہ بے اصل و بے معنٰی ہوگیا۔اب وہ جگہ کلیۃََ محمودہ خاتون کی ملک ہی ہے۔
یہ مکان خاص محمودہ خاتون کی ملک اس لئے ہے کہ یہ اسے جہیز میں ملا ہے اور جہیز کی صورت میں جو کچھ عورت کو ملتا ہے اس سب کی وہ تنہا مالک ہوتی ہے،رد المحتار مع الدر المختار میں ہے:فَإِنَّ كُلَّ أَحَدٍ يَعْلَمُ أَنَّ الْجِهَازَ مِلْكُ الْمَرْأَةِ وَأَنَّهُ إذَا طَلَّقَهَا تَأْخُذُهُ كُلَّهُ، وَإِذَا مَاتَتْ يُورَثُ عَنْهَا وَلَا يَخْتَصُّ بِشَيْءٍ مِنْهُ ترجمہ:ہر شخص جانتا ہے کہ جہیز عورت کی ملکیت ہوتا ہے اورجب شوہر اس کو طلاق دے دے وہ تمام جہیز لے لے گی، اور اگر عورت مرجائے تو جہیز اس کے وارثوں کو دیا جائے گا شوہر اس میں سے اپنے لئے کچھ بھی مختص نہیں کرسکتا۔( رد المحتار مع الدر المختار باب النفقۃ جلد 3ص585)
سیدی اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ میں اسی طرح کا جواب ارشاد فرماتے ہیں :جہیز ہمارے بلاد کے عرف عام شائع سے خاص مِلک زوجہ ہوتا ہے جس میں شوہر کا کچھ حق نہیں، طلاق ہُوئی تو کُل لے گئی، اور مرگئی تو اسی کے ورثاء پر تقسیم ہوگا۔(فتاوٰی رضویہ جلد12 ص 203 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
؎تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: لَا يَجُوزَ لَهُ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِيهِ إلَّا بِإِذْنِهِ۔ترجمہ:اسکے لئے جائز نہیں کہ اسکی اجازت کے بغیراس میں تصرف کرے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق ، کتاب الشرکۃ جلد 3 ص 313)
فضولی کے تصرفات کے بارے میں سیدی اعلٰی حضرت درمختار کے حوالے سے لکھتے ہیں: الفضولي هو من يتصرف في حق غيره بغير إذن شرعي،وكل تصرف صدر منه وله مجيز حال وقوعه انعقد موقوفا۔ترجمہ:فضولی وہ ہے جو غیر کے حق میں بغیر اذن شرعی کے تصرف کرے۔اور جو تصرف فضولی سے صادر ہوا اور درانحالیکہ اس تصرف کے وقوع کے وقت کوئی ایسا شخص موجود ہو جو اس تصرف کی اجازت دے سکتاہو توا کا انعقاد اس شخص کی اجازت پر موقوف ہوجائے گا۔(فتاوٰی رضویہ جلد17 ص 100رضا فاؤنڈیشن لاہور)
؎2:جب مکان کی مالکِ اصلی یعنی محمودہ خاتون بقیدِ حیات ہیں ، کسی بھی شخص کو انکے مکان میں حصے کا مطالبہ جائز نہیں ہے۔کیونکہ یہ مکان وراثت کا نہیں ہےکہ اس میں وراثت جاری کی جائے۔کہ شرعی اصطلاح میں وراثت اس جائیداد کو کہا جاتا ہے جو انسان چھوڑکر مرتا ہے،جبکہ یہاں مالک حیات ہے۔اسی کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔التعریفات ص 42 میں ترکہ کی تعریف یوں بیان کی گئی ہے:ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه۔ترجمہ:ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا ۔
وراثت کب جاری ہوگی ا س سلسلے میں البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:وَأَمَّا بَيَانُ الْوَقْتِ الَّذِي يَجْرِي فِيهِ الْإِرْثُ فَنَقُولُ هَذَا فَصْلٌ اخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ قَالَ مَشَايِخُ الْعِرَاقِ الْإِرْثُ يَثْبُتُ فِي آخِرِ جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ حَيَاةِ الْمُوَرِّثِ وَقَالَ مَشَايِخُ بَلْخٍ الْإِرْثُ يَثْبُتُ بَعْدَ مَوْتِ الْمُوَرِّثِ ۔ترجمہ:وہ وقت کہ جس میں وراثت جاری ہوتی ہے ، اس میں ہمارے علماء کا اختلاف ہے ،عراق کے علماء فرماتے ہیں کہ وراثت اس وقت ثابت ہوگی جب میت کی زندگی کا آخری لمحہ ہو ،اور بلخ کے علماء فرماتے ہیں کہ مورث (جسکی وراثت ہے)کی موت کے بعد وراثت ثابت ہوگی۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق کتاب الفرائض باب یبدأ من ترکۃ المیت جلد 8ص557)
3: محمد حنیف نے اگر مذکورہ گھر پر تعمیرات اپنی زوجہ کی اجازت سے کی تھی تو ان تعمیرات کا مالک خاص محمد حنیف ہی ہے ، اب ان تعمیرات کا حکم یہ ہے کہ انکی تعمیرات کی(بغیر زمین کے)موجودہ قیمت محمد حنیف کی وراثت ٹھہرے گی جسکی تقسیم انکے ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق ہوگی ۔ ( تقسیم والی صورت میں ورثاء کے حصوں کی تفصیل جاننے کے لئے تمام ورثاء کی تفصیل لکھ کر بھیجیں۔)
وگرنہ تعمیرات انکی جانب سے تبرع و احسان کے طور پر ہونگی۔تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَجْنَبِيٌّ فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ حَتَّى لَا يَجُوزَ لَهُ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِيهِ إلَّا بِإِذْنِهِ۔ ترجمہ:ان میں سے ہر ایک دوسرے کے حصہ میں اجنبی کی طرح ہے حتٰی کی ایک کو دوسرے کے حصے میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق کتاب الشرکۃ جلد 3 ص 313)
سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں :فی العقود الدریۃ من کتاب العاریۃ سئل فی رجل بنی بمالہ لنفسہ قصرا فی دار ابیہ باذنہ ثم مات ابوہ عنہ و عن ورثۃ غیرہ فھل یکون القصر لبانیہ الجواب نعم کما صرح بذٰلک فی حاشیۃ الاشباہ۔ترجمہ: العقود الدریۃ میں کتاب العاریۃ کے بیان میں مذکور ہے، ایک ایسے شخص کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنے باپ کی اجازت سے اس کی زمین پر اپنے مال سے اپنے لئے گھر بنایا پھر باپ اس سمیت دیگر ورثاء کو چھوڑ کر فوت ہوگیا تو یہ گھر اس بانی کا ہوگا ۔الجواب، ہاں۔ جیسا کہ اس کی تصریح الاشباہ میں ہے۔(فتاوٰی رضویہ،کتاب الوکالۃ ، جلد 19 ص 224 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
تنویرالابصار مع الدرالمختار میں ہے:أَنْفَقَ بِلَا إذْنِ الْآخَرِ وَلَا أَمْرَ قَاضٍ، فَهُوَ مُتَبَرِّعٌ كَمَرَمَّةِ دَارٍ مُشْتَرَكَةٍ.ترجمہ:اگر کسی شریک نے دوسرے کی اجازت کے بغیر ، یونہی قاضی کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ کیا تو وہ متبرع ہے ،جیسا کہ مشترکہ مکان میں خرچ کرنا۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار کتاب المزارعۃ جلد 6 ص 284)
یونہی فتاویٰ رضویہ میں ہے:فان من انفق فی امر غیرہ بغیر امرہ ولامضطرا الیہ فانہ یعد متبرعا فلایرجع بشئ۔ ترجمہ: کیونکہ جس نےغیر کےمعاملہ میں اس کےحکم اورکسی مجبوری کےبغیرخرچ کیاتووہ خرچہ بطورنیکی ہوگالہذااس خرچہ کی وصولی کےلئےرجوع نہ کرسکےگا۔(فتاوی رضویہ :ج18،ص178،رضافاؤنڈیشن لاہور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:22جمادی الاول 1442 ھ/07 جنوری 2021 ء