سوال
1:میں نے اپنے حقیقی چھوٹے بھائی مسعود احمد ولد انصار احمد کو اپنے کاروبار میں بحیثیت شفقت کے اپنے ساتھ رکھا اور ہر مہینے بھرپور خرچہ کام کے عوض دیتا رہا جس کی مقدار =/30000 سے 50000 بنتی رہی۔ 2007 سے کام پر رکھا اور 2013 میں اسکی شادی ہوئی ۔ اور شادی کے تمام اخراجات جس کی مالیت 15 لاکھ بنتی ہے مسمی محمد صابر بڑے بھائی ہونے کی حیثیت سے اپنی جیب سے ادا کرے۔اب جبکہ 2017 سے چھوٹا بھائی بڑے بھائی محمد صابر سے الگ ہوگیا ۔ چناچہ اب چھوٹا بھائی بڑے بھائی سے بحیثیت وارث کے کاروبار میں اور دیگر پراپرٹی میں برابر کا حصہ مانگ رہا ہے۔جبکہ بڑے بھائی کا یہ کاروبار اور پراپرٹی ذاتی ہے۔والد کی طرف سے وراثتی یا حصے داری نہیں ہے۔ تو کیا اس صورت میں چھوٹا بھائی مسعود احمد بڑے بھائی کی پراپرٹی یا جائیداد میں شرعی طورپر حصہ دار بن سکتا ہے یا نہیں؟
2:محمد صابر کے والد انصار احمد نے اپنے مکان کی چھت پر بیٹے محمد صابر کو مکان بنانے کی اجازت دی تھی۔ چناچہ محمد صابر نے اپنے ذاتی خرچے سے والد کے گھر کی چھت پر مکان تعمیر کیا اور رہائش اختیار کی تعمیرات پر تقریبا 15 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ جبکہ چھوٹا بھائی مسعود احمد نے یہ تنازعہ کھڑا کردیا ہے۔ان حالات میں والد انصار احمد چھوٹے بھائی کی طرف داری کرتے ہوئے بڑے بھائی کو اس کے اپنے ذاتی خرچے سے بنائے ہوئے گھر سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں؟شرعی طور پر ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو اس صورت میں بڑا بھائی محمد صابر والد کے مکان کی چھت پر بنائے گئے مکان کی تعمیرات کی قیمت وصول کرنے کا مجاز ہے یا نہیں؟ سائل:محمد صابر:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1:بر تقدیرِصدقِ سائل یعنی اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا تو اس صورت میں حکم شرع یہ ہے کہ مسعود احمد کا محمد صابر کی ذاتی جائیداداور کاروبار میں حصے کا تقاضا کرنا جائز نہیں ہے۔کیونکہ یہ جائیداد کسی طور پر مسعود احمد کی ملکیت نہیں ہے نہ اختیاری طور پر اور نہ ہی اضطراری طور پر۔
اسکی تفصیل یہ ہے کہ ملکیت کا ثبوت دو طریقوں سے ہوتا ہے ایک اختیاری یعنی جس میں بندہ اپنے اختیار اور اپنے فعل کے ذریعے کسی چیز کا مالک بنتا ہے۔جیسے بیع(خرید وفروخت)،ھبہ (گفٹ)اور وصیت کے ذریعے ۔دوسرااضطراری یعنی جس میں انسان اپنے فعل اور اختیار کے بغیر کسی چیز کا مالک بنتا ہے جیسے وراثت کے ذریعے ۔البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:وجوه سبب الملك من قبول الهبة والوصية والإرث والشراء۔
ترجمہ:ملکیت کے اسباب ،ھبہ اور وصیت قبول کرنااور خریدنا ،اور وراثت ہیں۔( البنایہ شرح الہدایہ جلد 8ص216 الشاملہ)
خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں ملکیت کا ثبوت کسی طرح نہیں ہے نہ اختیاری طور پر نہ اضطراری طور پر لہذا اس میں حصے کا مطالبہ کرنا درست نہیں ہے۔
2:مذکورہ صورت میں والد کا محمد صابر کو مکان کی چھت پر گھر بنانے کی اجازت دینا عاریت کے طور پر ہے۔جس کا حکم یہ ہے کہ یا تو انکے والد تعمیرات کے ملبے کی قیمت محمد صابر کو دیں یا پھر محمد صابر اپنی تعمیرات اکھاڑ لے۔
تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے:(وَلَوْ أَعَارَ أَرْضًا لِلْبِنَاءِ وَالْغَرْسِ صَحَّ) لِلْعِلْمِ بِالْمَنْفَعَةِ (وَلَهُ أَنْ يَرْجِعَ مَتَى شَاءَ وَيُكَلِّفُهُ قَلْعُهُمَا إلَّا إذَا كَانَ فِيهِ مَضَرَّةٌ بِالْأَرْضِ فَيُتْرَكَانِ بِالْقِيمَةِ مَقْلُوعَيْنِ) لِئَلَّا تَتْلَفَ أَرْضُهُ :ترجمہ:اگر زمین عمارت بنانے کے لیےیا درخت لگانے کے لیے عاریت پر دی تو ایسا کرنا درست ہے کیونکہ منفعت معلوم ہےاور مالک جب چاہے واپس لے سکتا ہے، اور (عمارت اور زمین )کو اکھاڑ نے کا حکم دیا جائے لیکن اگر اکھاڑنے میں زمین کا نقصا ن ہو تو ملبے اور اکھاڑے گئے درختوں کی قیمت دیکر (عمارت اور درخت )چھو ڑ دیا جائے گا،تاکہ زمین تباہ نہ ہوجائے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:22محرم الحرام 1440 ھ/10اکتوبر 2018 ء