سوال
میں نے اپنے بھائی کو بکری تحفہ میں دی تھی، اس نے ایک سال پالا اسکے بعد اس بکری نے دو بچے دیئے۔اسکے بعد اس بھائی کا انتقال ہوگیا وہ شادی شدہ نہیں تھے۔انتقال کے بعد سب کی اجازت سے اس بکری کا ایک بچہ میں نے بھائی کی طرف سے قربان کردیا ۔اور دوسرے سال دوسرا قربان کردیا ۔ اور بکری اپنے پاس رکھ لی تاکہ ہرسال ہونے والے بچے کو بھائی کی طرف سے قربان کیا جاتا رہے لیکن میری شادی ہوگئی ۔ اور والدہ نے وہ بکری بیچ دی اور اسکی رقم اپنے پاس رکھ لی ۔اس دوران بکری کچھ بچے اور دے چکی تھی ۔ میں نے والدہ سے کہا کہ جو بکری بیچی اسکی رقم اور بچے مجھے دے دیں تاکہ میں بھائی کے روزے اور نمازوں کا فدیہ دے سکوں۔لیکن والدہ دینے کو تیار نہیں کیا اس صورت میں مجھے گناہ تو نہیں ہوگا۔
نوٹ: سوال کرنے پر معلوم ہوا کہ مرحوم ورثاء میں والدہ(جنت بی بی)والد(منظور حسین) دو بھائی(ذوالفقار، عارف)اور دو بہنیں(رضیہ،شازیہ) ہیں ۔
سائل:شازیہ: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مرحوم کے مال میں جو بکری اور اسکے بچے تھے وہ انکا مال وراثت ہے جو شرعی اعتبار سےورثاء میں تقسیم ہوگا۔تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ مرحوم کے مال کو 6 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے ایک حصہ والدہ کا اور باقی 5 حصے والد کے ہونگے۔بہن بھائیوں کو اسکی وراثت سے کچھ حصہ نہیں ملے گا۔ لہذا آپ نے بھائی کی جانب سے بکری کے دو بچے قربان کئے اگر والد اور والدہ کی اجازت سے کئے تو حرج نہیں ۔ ورنہ آپ پر انکی قیمت لازم ہوگی۔ جو والدین کو دینا لازم ہے۔والدہ نے بکری بیچ کر جو پیسے رکھے ہیں اگر انکے حصے میں آتے ہیں تو وہ انکے ہی ہیں اگر انکے حصے سے زائد بنتے ہیں تو وہ پیسے والد کو دینا لازم ہے ۔ چاہیں تو انکی اجازت سے خرچ کرسکتی ہیں۔اور اگر دونوں راضی ہوں تو مرحوم بھائی کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ بھی دے سکتے ہیں۔
نوٹ اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF میں موجود ہے
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:24 رجب المرجب 1441 ھ/19 مارچ 2020 ء