سوال
چودھری صادق حسین را جپوت ولد چودھری فتح محمد کا بر ضاءِ الہی انتقال ہوگیا۔ ان کے ورثاء میں ایک حقیقی بھائی بنام چودھری ظفر حسین راجپوت اور تین سگے بھتیجے بنام بلال نذر حسین ، عاطف حسین ، ثاقب حسین اور دو بھانجیاں چھوڑی ہیں جبکہ مرحوم کی اہلیہ مرحوم سے قبل فوت ہو گئی تھی۔ اور مرحوم کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ لہذا انکی منقولہ غیر منقولہ جائیداد ما بین ورثاء کے کیسے تقسیم ہوگی ؟ شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل:بلال نذر راجپوت : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیساکہ سوال میں ذکر کیا گیا تو امورِ متقدمہ علی الارث (یعنی تجہیز و تکفین کا خرچ،قرض کی ادائیگی،اگر وصیت ہو تو ایک تہائی میں اسکے نفاذ )کے بعد صورتِ مستفسرہ کا حکم یہ ہے کہ چودھری صادق حسین کی تمام جائیداد ِمنقولہ و غیر منقولہ کے وارث صرف چودھری محمد ظفر حسین (بطورِ عصبہ ) قرار پائیں گے جبکہ تمام بھتیجے ، بھتیجیاں اور بھانجیاں محروم ہونگی۔
اسکی تفصیل یہ ہے کہ مسائل میراث کا اصول ہے کہ تقسیم وراثت میں ابتدا اصحابِ فرائض سے کی جاتی ہے،اگر وہ نہ ہوں تو عصبہ نسبی،اگر وہ نہ ہوں توعصبہ سببی ، اگر وہ نہ ہوں تو عصبہ سببی کے عصبہ نسبی اور پھر ردعلی ذوی الفروض ، پھر اس کے بعد ذوی الارحام کا حصہ ہوتا ہے۔اور بھتیجیاں اور بھانجیاں ذوی الارحام میں سے ہیں جبکہ بھائی عصبہ نسبی میں سے ہے لہذا عصبہ نسبی یعنی بھائی کے ہوتے ہوئے ذوی الارحام یعنی بھتیجی کو حصہ نہیں ملے گا۔ السراجی فی المیراث میں ہے:فیبدا باصحاب الفرائض،ثم بالعصبات من جھۃ النسب، ثم بالعصبہ من جھۃ السبب، ثم عصبتہ علی الترتیب ، ثم الرد علی ذوی الفروض النسبیہ،ثم ذوی الارحام۔ترجمہ: وراثت میں ابتدا اصحابِ فرائض سے کی جاتی ہے،اگر وہ نہ ہوں تو ان کے بعد عصبہ نسبی،اگر وہ نہ ہوں تو ان کے بعد عصبہ سببی ، اگر وہ نہ ہوں تو ان کے بعد عصبہ سببی کے عصبہ نسبی اور پھر ردعلی ذوی الفروض ، پھر اس کے بعد ذوی الارحام۔( السراجی فی المیراث ص16مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)
یونہی دوسرا، اصول یہ ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور والا رشتہ دار محروم رہتا ہے، اور یہاں بھائی بھتیجوں کی بہ نسبت قریبی ہے لہذا اس دوسرے قاعدے کے تحت میت کے بھائی (ظفر حسین ) کی موجودگی میں تمام بھتیجے (بلال، عاطف، ثاقب) محروم ٹھہریں گے اور مکمل جائیداد کے وارث چودھری ظفر حسین ٹھہریں گے۔چناچہ سراجی میں ہے:یرجحون بقرب الدرجۃ،اعنی اولاھم بالمیراث جُزْء ُ المیت۔۔۔ثم جُزْء ابیہ ،ای الاخوۃ،ثم بنوھم :ترجمہ:وراثت کا زیادہ حق قریبی رشتہ دار رکھتے ہیں یعنی میت کا جز ۔۔۔پھر اس کے باپ کا جز یعنی اس کا بھائی پھر اس کےا ٓگے جو ہوں۔( السراجی فی المیراث ص54مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)
تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774پر ہے :وَیُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْہُمْ۔ترجمہ: اور (میت کے رشتے داروں میں سے) قریب کے رشتے دار کو وراثت دینے میں مقدم کیاجائے گا پھر جو اسکے بعد زیادہ قریب ہو اسکو مقدم کیاجائے گا ۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774)
السراجی فی المیراث میں عصبہ کی تعریف ہے :والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال :ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں)تو سارے مال کا مستحق ہو جائے۔(السراجی فی المیراث ص54مطبوعہ مکتبۃ البشرٰی)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:17 رجب المرجب 1445ھ/ 29 جنوری 2024 ء