بڑے بھائی کے مکان میں حصہ
    تاریخ: 16 مارچ، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 1042

    سوال

    1:میرے والد کا انتقال 2010 میں ہوا انکی زندگی میں بڑے بھائی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی ، اس سے پہلے والد صاحب نے ایک فلیٹ (جس میں بھائی رہتےتھے)بھائی اور اسکی سابقہ بیوی کے نام پر آدھا آدھا کردیا تھا یعنی پورا مکان ان دونوں کے نام کردیا تھا ، لیکن انہوں نے اس کے پارٹیشن نہیں بنائے اور نہ ہی مکان کے کاغذات میں ان دونوں کے نام ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ جب بھی وراثت تقسیم ہوتو اس جائیداد میں ہمارا حصہ ہوگا یا نہیں؟ہم چار بھائی دو بہنیں ہیں شرعی حساب سے ہمارا حق ہے یا نہیں ؟

    2:بھائی کے حصے سے دوسرے بہن بھائیوں کا حصہ ہے یا نہیں ؟

    3:ایک سوال یہ ہے کہ میرے بڑے بھائی کی دوسری شادی ہوگئی ہے ، جہاں انکی دوسری شادی ہوئی ہے انہوں نے بھائی کو مکان لے کر دیا ہے وہ وہیں رہتے ہیں ، جس کمرے میں وہ رہتے تھے اب اس کمرے میں دوسرا بھائی رہتا ہے جو بھائی بڑے بھائی کے کمرے میں رہتا ہے اس کا کہنا ہے کہ میں بڑے بھائی کی اجازت سے رہ رہا ہوں ۔وہ گھر والد کا ہے والد کا انتقال ہوچکا ہے،انہوں نے وراثت تقسیم نہیں کی تھی اور نہ ہی ان کے بعد تقسیم ہوئی توہمارا سوال یہ ہے کہ اس کمرے میں ہم باقی بہن بھائیوں کا حصہ ہے یا نہیں ؟ ہم اس کمرے کو استعمال کرسکتے ہیں یا نہیں ؟

    سائل: عابد مشکور


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:جوفلیٹ والد نے آپکے بھائی اور بھابھی کے نام کیا تھا اور وہ ایسا ہے کہ جس کو تقسیم کیا جاسکتا ہے یعنی بھائی اور بھابھی دونوں کا حصہ اس طرح الگ الگ کرنا ممکن ہے کہ جس سکی وجہ سے اس فلیٹ کی منفعت فوت نہ ہو اور دونوں کے حصے الگ الگ کرنے کے بعد بھی وہ فلیٹ قابل رہائش اور قابل استعمال رہے،فلیٹ کے اس صفت پر ہونے کے باوجود دونوں نے اپنے اپنے حصے جدا نہ کیے اور اسی حالت میں والد کا انتقال ہوگیا تو یہ فلیٹ وراثت میں تقسیم ہوگا اور اس میں تمام ورثاء کو انکے شرعی حصوں کے مطابق حصہ ہوگا کیونکہ زندگی میں مکان یا فلیٹ نام کردینا گفٹ یا ھبہ کے طور پر ہوتا ہے لہذا اگر ایک شخص کے لیے پورا مکان گفٹ کیا گیا ہو اور وہ موہوب لہ (یعنی جس کے لیے گفٹ کیا گیا ہے) کو اپنے قبضے میں لے لے تو یہ ھبہ تام ہوجاتا ہے یعنی اس میں اس شخص کی ملکیت ثابت ہوجاتی ہے جس کے لیے وہ مکان ھبہ کیاگیاہے ۔اور اگر موہوب لہ ایک سے زیادہ لوگ ہوں تو اب قبضہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جن پر وہ مکان ھبہ یا گفٹ کیا گیا ہے وہ اپنا اپنا حصہ الگ الگ کر لیں،اگر اپنا حصہ الگ الگ نہیں کیا تو شرعا یہ ھبہ تام نہیں ہوا۔

    تنویرالابصارمیں ہے وَ) شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ) ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ) کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو)اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔

    ( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)

    لہذا اس صورت میں جوفلیٹ آپکے والد نے آپ کے بھائی اور بھابھی کے نام کیا تھا اس میں ھبہ مشاع کا ہونے کی وجہ سے انکی ملکیت ثابت ہی نہیں ہوئی بدائع الصنائع میں ہے: لِأَنَّ هِبَةَ الْمُشَاعِ فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ لَا تَصِحُّ فَلَمْ يَثْبُتْ الْمِلْكُ رَأْسًا.ترجمہ:کیونکہ مشاع کا ہبہ ان چیزوں میں جو تقسیم ہوسکتی ہیں صحیح نہیں ہے ، لہذا ملکیت اصلا ثابت نہ ہوگی۔(بدائع الصنائع کتاب الطہارۃفصل فی بیان ما ینتقض التیمم جلد 1ص57)

    تو جب ملکیت ثابت نہیں ہوئی تو وہ بدستور ورثاء کا حق رہے گا اور اس میں اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی ، یاد رہے کہ جس بھائی کے نام مکان کیا تھا وہ بھی اس میں وارث کے طور پر حقدار ہونگے۔لیکن اگر معاملہ اس کے برخلاف ہو یعنی فلیٹ ایسا ہے کہ جس کو تقسیم نہیں کیا جاسکتا ہے یعنی بھائی اور بھابھی دونوں کا حصہ الگ الگ کرنا ممکن نہیں ہے ،اگر دونوں کا حصہ الگ الگ کیا تو اسکی وجہ سے اس فلیٹ کی منفعت فوت ہوجائیگی اور وہ فلیٹ قابل رہائش اور قابل استعمال نہ رہے گا ،تو اس صورت میں جب دونوں نے اس پر قبضہ کرلیا تو یہ ھبہ تام اور صحیح ہوگیا اس میں انکی ملکیت ثابت ہوگئی اب اس میں کسی وارث کا کوئی حق نہیں ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے(ومنها) أن يكون محوزا فلا تجوز هبة المشاع فيما يقسم وتجوز فيما لا يقسم ترجمہ: اور ھبہ کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ (جس چیز کو ھبہ کیا جارہا ہے وہ)متعین اور جدا جدا ہو (یعنی مشترک نہ ہو) لہذا جو چیزیں تقسیم کی جاسکتی ہیں ان میں مشاع (مشترکہ طور پر)ھبہ درست نہیں ہے، اور جو چیز قابل تقسیم نہ ہوں ان میں مشاع کا ھبہ درست ہے۔(ایضا)

    2:بھائی کی زندگی میں انکی ذاتی اشیاء پر کسی کا کوئی حق نہیں ہے، نہ بہن بھائیوں کا نہ اولاد کا نہ بیوی کا نہ دیگر رشتے داروں کا۔ہاں انکے انتقال کے بعد اس وقت کی صورت حال کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

    3:آپ کے بھائی نے جو کمرہ چھوڑا ہے اس کو سب لوگ استعمال کرسکتے ہیں ،جبکہ آپ کے بھائی کی رضا مندی پائی جائے۔مجلۃ الاحکام میں ہے:يَسُوغُ لِأَصْحَابِ الدَّارِ الْمُشْتَرَكَةِ أَنْ يَسْكُنُوا فِيهَا مَعًاترجمہ: مشترکہ گھر میں گھر کے سب افراد ایک ساتھ رہ سکتے ہیں ۔( مجلة الأحكام العدلية کتاب الشرکات مادہ 1070 جلد 01 ص 206 ناشر : نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراچی)

    اسی میں کچھ آگے چل کر ہے:يَسُوغُ لِلْحَاضِرِ أَنْ يَنْتَفِعَ بِقَدْرِ حِصَّتِهِ مِنْ الْمِلْكِ الْمُشْتَرَكِ فِي حَالَةِ غَيْبَةِ الشَّرِيكِ الْآخَرِ إذَا وُجِدَ رِضَاؤُهُ دَلَالَةًترجمہ:گھر میں موجود شریک کے لیے جائز ہے کہ دوسرے شریک کی عدم موجودگی میں اپنے حصے کے مطابق نفع اٹھائے ، جب کہ جو شریک موجود نہ ہو اسکی رضامندی پائی جائے۔( مجلة الأحكام العدلية کتاب الشرکات مادہ 1078 جلد 01 ص 206 ناشر : نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراچی)

    تو چونکہ شریک ہونے میں سب برابر ہیں لہذا اس کو سب لوگ استعمال کرسکتے ہیں بالخصوص اس صورت میں کہ مکان وراثت کے ذریعے مشترکہ طور پر ملکیت میں آیا ہو ۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:19محرم الحرام 1440 ھ/29ستمبر 2018 ء