warasat ma bay ka masla
سوال
السلام علیکم
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام بیچ اس مسئلے کے کہ زید کی پھوپھی زاد بہن کا تقریبا سترہ سال پہلے انتقال ہوگیا تھا انکے شوہر نے انکی ساری جائیداد یعنی مکان نقدی اور زیور پر قبضہ کر لیا تھا ،اور کسی سے بات کرنے کے لیے تیار نہ تھا،اور جس مکان میں زید کی پھوپھی زاد بہن رہتی تھی وہ زید کے نام پر رجسٹرڈ ہے جبکہ زید کے والد نے وہ مکان اپنی بھانجی یعنی زید کی پھوپھی زاد کو دے دیا تھا اور وہ اس میں رہنے لگ گئیں تھی تا حیات اسی میں رہیں،پھوپھی زاد بہن کے انتقال کے بعد انکے شوہر نے دوسری شادی کرلی،اور نئی بیوی کے ساتھ اسی گھر میں رہنے لگا دونوں بیویوں سے کوئی اولاد نہیں تھی،کچھ عرصہ بعد شوہر کا بھی انتقال ہوگیا ،دوسری بیوی اسی گھر میں رہتی رہی ،اب عرصہ چھ ماہ پہلے دوسری بیوی کا بھی انتقال ہوگیا ہے،تو گھر پر قبضہ کے لئےدوسری بیوی اور شوہر کے رشتے داروں میں تنازعہ شروع ہوگیا،کیانکہ مکان زید کے نام رجسٹرڈ تھا،اس لئے وہ کوشش کے باوجود اس مکان کو بیچ نہ سکے ،آخر کار ان دونوں پارٹیوں نے زید سے رابطہ کیا زید نے انہیں کہا کہ وہ کسی دارالافتاء سے رابطہ کریں،اور شرعی فتوی لے لیں زید اسی کے مطابق عمل کرے گا۔جو فتوی ملا اسکے مطابق تمام جائیداد کے آٹھ حصے بنتے تھے زید کی پھوپھی زاد بہن کے ماموں یعنی زید کے والد کے چار حصہ ،مرحوم شوہر کے بھی چار حصے تھے ،پھر مرحوم کی دوسری بیوہ کو ان چار میں سے ایک حصہ دیا گیا اور باقی شوہر کے دیگر ورثاء کو دیے گئے ۔ کیونکہ لاکھوں روپے کی نقد رقم اور لاکھوں روپے کے زیور تھے جس کا اب کوئی حساب کتاب نہیں تھا نہ ہی انکا شوہر تھا جس سے حساب لیا جاتا اس لیے زید نے سب کو مشورہ دیا کہ لڑنے جھگڑنے کا کوئی فائدہ نہیں اب جو وراثت یعنی مکان موجود ہے اسکی شرعی تقسیم کرلی جائے۔وہ لوگ اس بات پر راضی ہوگئے اور کئی دن بحث و مباحثے اور بروکروں کی آفروں کے بعد مکان کی قیمت 28لاکھ طے ہوئی،اس معاملے میں زید کے چند بھائی اور دوسرے گروپس کے افراد شریک تھے،اور یہ اختیار بھی دیا گیا کہ آپس میں اگر کوئی 28 لاکھ کا لینا چاہے تو پہلا حق اسی کا ہوگا،وگرنہ مکان کسی دوسری پارٹی کو فروخت کیا جائے گا۔
زید نے بھائیوں سے مشورہ کرکے مکان خود لینے کا فیصلہ کیا اور مقررہ رقم 28 لاکھ کا نصف14 لاکھ دوسری پارٹی کو نقد ادا کرکے دستاویز لکھوا لی کہ ان لوگوں نے اپنا حصہ وصول کر لیا ہے،اور مکان پر اب انکا کسی قسم کا کوئی دعویٰ نہیں ہوگا۔مکان کا قبضہ بھی فوری طور پر ان سے لے لیا گیا۔یہ رقم زید اسکے ایک بھائی اور بیٹے نے مشترکہ طور پر ادا کی تھی اور دوسرے چند بھائیوں کے مشورے سے یہ طے ہوا تھا کہ زید مکان کی مرمت کروا کر اسے مناسب قیمت پر فروخت کردے گا ، یہ معا ملہ تین سے چھ ماہ کے دوران مکمل کیا جائے گا اسکے بعد انکو انکے حصوں کے مطابق دے دیا جائے گا ، اور اس طرح اسکو منافع بھی مل جائے گا ، جس میں دیگر ورثاء اس میں حصہ دار نہیں ہوں گے بلکہ وہ بقیہ مقررہ 28 لاکھ کے آدھے 14لاکھ میں اپنے اپنے حصے کے حقدار ہوں گے۔زید نے اس کے دوسرے دن ہی مکان کا سودا بغیر کام کروائے ایک اور پارٹی سے کر لیا جو وہیں رہتی تھی اور اصل مالک کی تلاش میں تھی،یہ سودا 33 لاکھ میں ہوا زید نے ان سے 5 لاکھ روپے بطور ایڈوانس کے لے لئے،اور ایگریمنٹ بھی کر لیا ، اور اس سودے کی تمام تفصیل اپنے چند بھائیوں کو بتادی جن سے اس وقت اسکی ملاقات ہوئی،اور دوسرے دن اپنے گھر دوڑ نواب شاہ کا ایک علاقہ ہے آگیا۔
کچھ دنوں بعد زید کی بھابھی نے فون کرکے بتایا کہ ایک دو بھائیوں کو اس سے اعتراض ہے کہ زید اور اسکے پارٹنرز کو تو ایک دن میں ہی 5 لاکھ کا منافع ہوگیا،جبکہ مکان کی وراثت میں انکا حصہ بھی تھا،اس لئے منافع میں بھی انکا حصہ ہونا چاہیے،جس پر زید نے دوٹوک انداز میں جواب دیا کہ یہ بات سودے کے وقت کرنی چاہیے تھی ،اور اب اسکا کوئی جواز نہیں ہے، نہ ہی زید اس منافع میں سےکسی دوسرے کو حصہ دے گا ،سوائے ان دو پارٹیز کے جنہون نے پیسے ملا کر دوسری پارٹی کو ادائیگی کی تھی۔اور مکان بنوانے کے لئے پیسے لگائے تھے۔
اس تفصیل کے بعد درج ذیل سوالات ہیں جواب دے کر عند اللہ مأجور ہوں ۔
1:۔ کیا زید کا مؤقف غلط ہے،اور دیگر بہن بھائی اس منافع میں کسی قسم کا کوئی حصہ لینے کے حقدار ہیں۔
2:۔ یا یہ منافع ان دونوں پارٹیز کے حصے میں آئے گا جنہوں نے رقم ملا کر دوسری پارٹی کو ادائیگی کی اور مکان خریدا،اور اس وقت کسی بھی بھائی نے اعتراض نہیں کیا،اور وہ سب اس سودے اور طریقہ کار پر راضی تھے۔
3:۔ اگر زید کا پرانا قرض یا دین بھائیوں کی طرف ہو اور وہ کافی عرصے سے ادا نہیں کررہے تو کیا زید وراثت میں انکا جو حصہ ہے اس میں سے رقم کاٹ کر بقایا حصہ ادائیگی کر سکتا ہے؟
سائل: ڈاکٹر رفیق احمد حامدی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مسئولہ میں زید کا موقف درست ہے ، کیونکہ ان کے مابین طے یہ ہوا تھا کہ کوئی بھی وارث اس مکان کو خرید کر پھر اسکومناسب قیمت پر فروخت کردے گا ،پھر خود زید نے یہ مکان خرید لیا ، اور اسکی نصف قیمت ایک پارٹی کو دے دی اور اپنے بھائیوں سے کہا کہ بقیہ نصف قیمت انکوتین سے چھ ماہ کے دوران دے گا ،جس پر انہوں نے رضا مندی ظاہر کی تھی ،پھر یہ بھی طے ہوا کہ جو قیمت لگے گی اس میں سے بعدمیں انکو انکے حصوں کے مطابق دے دیا جائے گا ،پھر زید نے اس کے دوسرے دن ہی مکان کا سودا ایک پارٹی سے کر لیا،لہذا اب اس مکان کی جو قیمت اس وقت لگی تھی یعنی 28لاکھ اس میں سے تمام ورثاء کو ان کے حصص کے مطابق دیا جائے گا ، کیونکہ جب انہوں نے مارکیٹ قیمت لگوائی جس کی ادائیگی پر زید راضی ہوگیا ،تو بیع تام ہوگئی ، کیونکہ شرعی اعتبار سے ایجاب وقبول سے بیع تام ومکمل ہوجاتی ہے ، بیع مکمل ہونے کے لیے کل یا بعض ثمن کی ادائیگی ہوجانا شرعاً ضروری نہیں، بدائع الصنائع کتاب البیوع جلد 5ص133 میں ہے،(وَأَمَّا) رُكْنُ الْبَيْعِ: فَهُوَ الْمُسَمَّى بِالْإِيجَابِ، وَالْقَبُولِ فِي عُرْفِ الْفُقَهَاءِ:ترجمہ: اور بیع کا رکن ایجاب و قبول ہے۔
تو جب زید نے مکان خود لینے کی رضامندی ظاہر کی تو بیع تام ہوگئی لہذا زید پر مکان کی قیمت لازم ہے،اور اس قیمت میں سے ورثاء کا حصہ لازم ہے،مجلۃ الاحکام الفصل الثانی فی بیان کیفیۃ التصرف ج1ص206 مادہ نمبر 1073 میں ہے:تَقْسِيمُ حَاصِلَاتِ الْأَمْوَالِ الْمُشْتَرَكَةِ فِي شَرِكَةِ الْمِلْكِ بَيْنَ أَصْحَابِهِمْ بِنِسْبَةِ حِصَصِهِمْ.:ترجمہ:شرکۃ الملک میں مال مشترک کی تقسیم تمام لوگوں کے حصوں کی نسبت سے ہوگی۔
پھر جب زید نے مکان کی خرید لیا اگر چہ قیمت ابھی مکمل ادا نہیں کی تو اسکو اختیار ہے آگے چاہے جتنی قیمت میں بیچے ، اگر قیمت بیان کرکے بیچے مثلا میں نے اتنے میں یہ چیز لی ہے اور آپکو اتنے میں دونگا اسکو بیع مرابحہ کہتے ہیں،بدائع الصنائع کتاب البیوع جلد 5ص220میں ہے:الْمُرَابَحَةَ بَيْعٌ بِالثَّمَنِ الْأَوَّلِ مَعَ زِيَادَةِ رِبْحٍ، وَالْعِلْمُ بِالثَّمَنِ الْأَوَّلِ شَرْطُ صِحَّةِِ:ترجمہ: مرابحہ یہ ہے کہ پہلی قیمت بتاکر کچھ نفع رکھ کر آگے بیچنا ، اس میں پہلی قیمت یعنی جس قیمت پر خریدا وہ بتانا اس کے صحیح ہونے کی شرط ہے۔
اور اگر قیمت بتائے بغیر آگے بیچ دی تو یہ بیع مساومہ کہتے ہیں،
شامی کتاب البیوع باب المرابحۃ والتولیۃ جلد 5ص132میں ہے:الْمُسَاوَمَةَ) وَهِيَ الْبَيْعُ بِأَيِّ ثَمَنٍ كَانَ مِنْ غَيْرِ نَظَرٍ إلَى الثَّمَنِ الْأَوَّلِ وَهِيَ الْمُعْتَادَةُ.: ترجمہ:اور بیع مساومہ یہ ہے کہ جس قیمت پر بائع اور مشتری (خریدار اور بیچنے والا) کا اتفاق ہوجائے ، اس قیمت پر بیچنا اس میں قیمت خرید بتانا ضروری نہیں ہے،اور یہ دونوں صورتیں جائز ہیں۔جیسا کہ کتب قفہ ان دونوں کی ابحاث سے بھری ہوئی ہیں۔
لہذا زید نے جس قیمت پر خریدا اس اعتبار سے ورثاء کو انکا حصہ دے، اوربعد میں کسی اور کو اس سے اوپر جتنے میں بیچے وہ اسکا اور اس کے شرکاء کا نفع ہوگا اس میں ورثاء کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔اور بھائیوں کی طرف زید کا کوئی قرض نکلتا ہو تو وہ انکی رضامندی سے انکے حصے سے لے سکتا ہے شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:مفتی محمد عمران شامی شاذلی
تاريخ اجراء: 5 مئی2018 16 شعبان1439 ھ