سوال
الاستفتاء: جناب مفتی صاحب ! گزارش یہ ہے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا جسکے چار بیٹے ہیں ، چاروں شادی شدہ بال بچے والے ہیں ،جن میں سے ایک بیٹا انتقال کر گیاجن کا انتقال دادا کے انتقال سے پہلے ہوا۔ تو اسکے بچوں کا دادا کی وراثت میں یابیوہ کا سسر کی وراثت میں کوئی حصہ ہوگا یا نہیں؟؟ برائے مہربانی شرعی معاملات میں میری رہنمائی فرمادیں۔
سائل محمد صغیر خان
لانڈھی نمبر 6کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مسؤلہ میں بر تقدیر صدق سائل دادکی وراثت میں اس کے سگے بیٹوں کی موجودگی میں پوتوں اور بہو کا کوئی حصہ نہیں ہے،کیونکہ مسائل میراث کا اصول ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور والا رشتہ دار محروم رہتا ہے۔ چناچہ السراجی فی المیراث ص36میں ہے''اولاہم بالمیراث جزء المیت ای البنون ثم بنوہم وان سفلوا'' (السراجی فی المیراث ص36) ترجمہ: میت کی وراثت کے زےادہ حقدار میت کا جزء ےعنی بیٹے ہیں ،(اگر بیٹے نہ ہوں تو)اسکے بعد پوتے ۔
تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الفرائض باب العصبات جلد6ص774پر ہے ''(وَیُقَدَّمُ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْہُمْ) بِہَذَا التَّرْتِیبِ فَیُقَدَّمُ جُزْء ُ الْمَیِّتِ (کَالِابْنِ ثُمَّ ابْنِہِ وَإِنْ سَفَلَ''ترجمہ: اور (میت کے رشتے داروں میں سے) قریب کے رشتے دار کو وراثت دینے میں مقدم کیاجائے گا پھر جو اسکے بعد زیادہ قریب ہو اسکو مقدم کیاجائے گا ،اسی ترتیب سے آگے تک لہذا میت کے جزء یعنی بیٹے کووراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا ۔ (اگر بیٹا نہ ہوتو)پھر اسکا بیٹے(یعنی پوتے کو )وراثت دینے میں مقدم کیا جائے گا۔
بخاری شریف کتاب الفرائض بَابُ مِیرَاثِ ابْنِ الِابْنِ إِذَا لَمْ یَکُنِ ابْنٌ میں ہے ۔''وَقَالَ زَیْدٌ: وَلاَ یَرِثُ وَلَدُ الِابْنِ مَعَ الِابْنِ''ترجمہ:حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ میت کے بیٹے کی موجودگی میں پوتا وراثت میں حصہ دار نہیں بنے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ صورت مسؤلہ میں دادکی وراثت میں اس کے سگے بیٹوں کی موجودگی میں پوتوں اور بہو کا کوئی حصہ نہیں ہے۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:مفتی محمد عمران شامی
تاریخ اجراء:20 جمادی الاول 1439ھ 6 فروری 2018