سوال
میرا نام رحیماں خاتون ہے،میرے شوہر کا انتقال ہوا۔اس وقت میرے دو بیٹے (ربنواز، محبت خان )اور ایک بیٹی(اسماء سلطانہ ) تھی ، مجھے میرے شوہر کی وراثت سے مجھے آٹھواں حصہ مل گیاتھا۔ بعد ازاں میرے بیٹے (ربنواز)کاانتقال ہوگیا۔ اسکی ایک بیوی (زینت)اور دو بیٹیاں(سائرہ، سمیرا) ہیں۔ بیوی نے کہیں اور بھی شادی کرلی اس بیوی سمیت تمام ورثاء کو بیٹے کی وراثت سے حصہ دیا گیا تو اس بیٹے کی وراثت سے مجھے بھی چھٹا حصہ ملا جو کہ ایک رائس مل اور 7 ایکڑ زمین بنتی ہے۔کافی سال گزرنے کے بعد اب میری پوتیاں جن کی شادی ہوچکی ہے اعتراض کررہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ جو رائس مل اور زرعی زمین آپکو ملی ہے وہ ہمیں واپس دے دو ۔ اسی طرح میرے دیور ،انکا بیٹا (جو کہ میری پوتی کا شوہر ہے) اور میرے شوہرِ مرحوم کا دوست سید بشیر احمد شاہ اس بات پر مُصِر ہیں اور فیصلہ کررہے ہیں کہ رائس مل اور زمین واپس دی جائے یااسکی رقم جو کہ 80 لاکھ روپے ہے دی جائے۔ کیونکہ آپکو شوہر سے آٹھواں حصہ مل گیا اس لئے بیٹے والا حصہ نہیں مل سکتا ۔اس بارے میں شریعت کیا کہتی ہے ۔ فیصلہ کرنے والے صحیح ہیں یا غلط؟رہنمائی فرمائیں۔
سائل:محبت خان : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوتی، دیور،انکے بیٹے اور سید بشیر احمد کارحیماں خاتوں پر اعتراض اوران سے جائیداد کی واپسی کا تقاضا ناجائز و حرام ہے ،کہ بیٹے کی وراثت میں ماں کا حق نصِ قطعی، نصِ قرآنی سے ثابت ہے جسکا انکار ،قرآن مجید کےحکم کا انکار ہے اور حکمِ قرآن کا نکار تو صرف کافر کرتا ہے نہ کہ مسلمان۔
اور پھر مذکورہ اشخاص کا خود سے حَکَم بن کر یہ فیصلہ کرنا کہ '' رائس مل اور زمین واپس دی جائے یااسکی رقم جو کہ 80 لاکھ روپے ہے دی جائے،کیونکہ آپکو شوہر سے آٹھواں حصہ مل گیا اس لئے بیٹے والا حصہ نہیں مل سکتا'' نری جہالت اور کھلی ضلالت پر مبنی ہے کہ احکامِ شرع سے متعلق فیصلہ کرنا اہلِ علم علماء کا منصب ہے ، ہر کس و ناکس کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ اپنی عقل و مرضی سے جیسے چاہے جو اسے اچھا لگےیا جسے وہ اچھا سمجھے اسکے مطابق لوگوں پر اپنے فیصلے صادر کرتا پھرے۔
سیدی اعلٰی حضرت عظیم المرتبت فرماتے ہیں : مسلمانوں کویہی حکم ہے کہ جوبات نہ جانے خود اس پرکوئی حکم نہ لگائے بلکہ اہل شرع سے دریافت کرے، قال اللہ تعالٰی: فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ۔(سورۃ الانبیاء : آیت نمبر 07)ترجمہ: علم والوں سے پوچھ لیا کرو اگر تمھیں علم نہ ہو۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الحظر والاباحۃ ، جلد 21 ص 527)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا: قرآن عظیم نے غیر عالم کےلئے یہ حکم دیا کہ عالم سے پوچھو نہ یہ کہ جس پر تمھارا دل گواہی دے عمل کرو۔ قال اللہ تعالٰی: فاسئلوا اہل الذکر ان کنتم لا تعلمون ۔(سورۃ الانبیاء : آیت نمبر 07)ترجمہ: علم والوں سے پوچھ لیا کرو اگر تمھیں علم نہ ہو۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الحظر والاباحۃ ، جلد 21 ص 174)
شریعت مطہرہ نے بیٹے کی وراثت میں ماں کا حصہ مقرر کر رکھا ہے، چناچہ ارشادِ باری تعالٰی ہے: وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ۔ترجمہ کنز الایمان : ماں باپ میں سے ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا(حصہ ہے) اگر میت کے اولاد ہو۔(سورۃ النساء : آیت نمبر 11)
مالِ وراثت کھانے کی قرآن مجید میں سخت وعید آئی ہے،چناچہ اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے :وَتَأْکُلُونَ التُّرَاثَ أَکْلًا لَمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاکَلَّا إِذَا دُکَّتِ الْأَرْضُ دَکًّا دَکًّا وَجَاء َ رَبُّکَ وَالْمَلَکُ صَفًّا صَفًّا وَجِیء َ یَوْمَئِذٍ بِجَہَنَّمَ یَوْمَئِذٍ یَتَذَکَّرُ الْإِنْسَانُ وَأَنَّی لَہُ الذِّکْرَی یَقُولُ یَا لَیْتَنِی قَدَّمْتُ لِحَیَاتِی فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ وَلَا یُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌ ۔ترجمہ کنز الایمان :۔اور میراث کا مال ہپ ہپ کھاتے ہو اور مال کی نہایت محبت رکھتے ہو ہاں ہاں جب زمین ٹکرا کر پاش پاش کردی جائے گی اور تمہارے رب کا حکم آئے اور فرشتے قطار قطار (ہونگے)اور اس دن جہنّم لائی جائے اس دن آدمی سوچے گا اور اب اسے سوچنے کا وقت کہاں کہے گا ہائے کسی طرح میں نے جیتے جی نیکی آ گے بھیجی ہوتی تو اس دن اس کا سا عذاب کوئی نہیں کرتا اور اس کا سا باندھنا کوئی نہیں باندھتا۔( سورۃ الفجر آیت 18تا 25)
بخاری شریف میں ہے :فَإِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ ظَلَمَ قِیدَ شِبْرٍ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِینَ۔ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ناحق لی تو روز قیامت اسکو سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔( بخاری شریف کتاب بدء الخلق باب ماجاء فی سبع ارضین جلد 2ص388حدیث نمبر 3198)
بخاری شریف میں ہی دوسرے مقام پر ہے:عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَخَذَ مِنَ الْأَرْضِ شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ خُسِفَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ إِلَى سَبْعِ أَرَضِينَ»ترجمہ: حضرت سالم اپنے والد عبد اللہ بن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی زمین میں سے اس کا حق دار ہوئے بغیر کچھ ہڑپ لے تو وہ بروز قیامت اس (زمین ) کے ساتھ ساتویں زمین تک دھنسا دیا جائے گا۔( بخاری شریف باب اثم من ظلم شیئا من الارض جلد جلد 3ص130)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:05 ربیع الاول 1443 ھ/12 اکتوبر2021 ء