سوال
میرے والد (نسیم احمد) کا (2021) میں انتقال ہوا ۔ انتقال کے وقت میرے دادا، دادی، نانا، نانی کوئی بھی حیات نہیں تھے اِس وقت میری والدہ حیات ہیں ۔ اور ہم تین (3) بھائی اور ایک (1) بہن ہیں۔ ہم سب ایک ساتھ ایک ہی مکان میں رہتے ہیں جو کہ ہمارے والد کے نام پر ہے۔ اس کے علاوہ ایک گاڑی اور تین (3) پلاٹ مزید ہیں۔
میرے والد صاحب کے انتقال کے بعد ان کے آفس کے ادارے سے فائنل سیٹلمنٹ کی صورت میں جو رقم والدہ کو ملی اس سے (2) دو مزید مکان لیئے تاکہ والدہ کے اخراجات پورے ہو سکیں ۔اور بقیہ رقم سے بہن کی شادی کروادی۔ لہذا آپ وراثت کی تقسیم کے حوالے سے میری شرعی رہنمائی کریں تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہو۔
نوٹ: فائنل سیٹلمنٹ میں جی پی فنڈ، ویلفئر فنڈ والد کی زندگی میں ہی ان کی ملکیت میں تھا ، اپلیکشن موجود تھی جب چاہتے نکلواسکتے تھے۔
اسی طرح ہوسپٹل بل بھی والد کے اکاؤنٹ سے ادا کیا گیا تھا جس کا ریفنڈمرنے کے بعد آیا۔
گروپ انشورنس :ہر ماہ سیلری میں سے کچھ رقم کٹتی تھی اور آخر میں اس کا تین گنا یا چار گنا ملا ۔
پرائیویٹ انشورنس: والد صاحب اپنی ذاتی رقم سے انشورنس ادا کرتے تھے ۔
کمیوٹیشن اور فائنل کمیوٹیشن کے لیے والدہ کو نومنی مقرر کیا گیا تھا۔
کیموٹیشن : والد کے انتقال کے بعد ادارے کی طرف سے آخری تنخواہ اور مدتِ ملازمت کے حساب سے( بطورِ تبرع و احسان) دی گئی تھی۔
فائنل کیموٹیشن : لیو انکیشمنٹ، اور دیگر اس طرح کی چیزوں کے پیسے جو والد کے انتقال کے بعد ادارے نے ادا کئے تھے۔
جی پی فنڈ: 241455، ویلفیئر فنڈ:78819، گروپ انشورنس:4874126، پرائیویٹ انشورنس:619000، ہوسپٹل ریفنڈ: 955139۔
کیموٹیشن :10534159+1053431، فائنل کیموٹیشن: 1890159۔
سائل: احتشام احمد
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہے تو فائنل سیٹلمنٹ میں ملنے والی جی پی فنڈ، ویلفئر فنڈ ، ہوسپٹل بل ریفنڈ، گروپ انشورنس اور پرائیویٹ انشورنس(جو رقم جمع کرائی) کی رقم ( 67 لاکھ 68 ہزار 5 سو 39 روپے) ترکہ میں شمار ہوگی، کیونکہ وہ والد کی زندگی میں ہی والد کی ملکیت میں آگئی تھی جیسا کہ سوال میں مذکور ہے ۔
اور کمیوٹیشن، فائنل کمیوٹشن (کمپنی نے بطورتبرع دی)کی رقم (ایک کروڑ 34 لاکھ 77 ہزار 7 سو 49روپے) نومنی ہونے کی وجہ سے والدہ کی ملکیت میں شمار ہوگی لہذا یہ رقم والد کے ترکہ میں شمار نہیں کی جائے گی۔
چونکہ دونوں مکانات باہمی رضامندی سے ترکہ کی رقم (جی پی فنڈ، ویلفیئر فنڈ، ہاسپٹل بل ریفنڈ، گروپ انشورنس یا پرائیویٹ انشورنس وغیرہ) اور والدہ کی ذاتی رقم (کمیوٹیشن، فائنل کمیوٹیشن،وغیرہ) سے خریدے گئے تھے، اس لیے شرعی اصول کے مطابق جس تناسب سے رقم لگی اسی تناسب سے ملکیت شمار ہوگی۔ فائنل سیٹلمنٹ کے مطابق(12لاکھ 75 ہزار4 سو تیرہ روپے) ترکہ تھے اور ( 1 کروڑ 89 لاکھ 70 ہزار 8 سو 75 روپے) والدہ کی ملکیت تھے، یعنی کل (2 کروڑ 2 لاکھ 46 ہزار 2 سو 88روپے) میں ترکہ کا تناسب تقریباً 33.34%اور والدہ کا تناسب تقریباً 66.57% بنتا ہے؛ لہٰذا دونوں مکانات کی موجودہ مارکیٹ ویلیو لگاکر اس کا 33.34% حصہ ترکہ شمار کیا جائے گا جو ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا، جبکہ 66.57% حصہ والدہ کی ذاتی ملکیت تصور ہوگا۔
اسی طرح شادی کے اخراجات بھی ترکہ کی رقم (جی پی فنڈ، ویلفیئر فنڈ، ہاسپٹل بل ریفنڈ، گروپ انشورنس یا پرائیویٹ انشورنس وغیرہ) اور والدہ کی ذاتی رقم (کمیوٹیشن، فائنل کمیوٹیشن وغیرہ) سے باہمی رضامندی کے ساتھ کیے گئے تھے، لہٰذا شرعی اصول کے مطابق جس تناسب سے ترکہ کی رقم استعمال ہوئی وہ حصہ ترکہ شمار ہوگا اور چونکہ یہ خرچ تمام بالغ ورثاء کی باہمی رضا مندی سے کیا گیا تھا اس لیے وہ رقم ان کی طرف سے تبرع اور احسان ہوا اس کو ترکہ سے منہا(یعنی نکالا) جائے گا۔ اور جو رقم والدہ کی رضا مندی سے اس کی ذاتی ملکیت سے خرچ ہوئی وہ بھی والدہ کیطرف سے تبرع اور احسان ہوگی۔
اب ورثاء کے مابین والد کا بقیہ ترکہ (یعنی ایک مکان، تین پلاٹ، ایک گاڑی جو والد کے نام ہے، اور بعد میں خریدے گئے دونوں مکانات میں33.34% حصہ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سےقیمت لگاکر ( مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالیں گے ،پھر اگر کو ئی قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا ،پھرک مرحوم نے اگرکوئی جائز وصیت کی ہے تو اس کوتہائی مال سے پور اکیا جائےاس کے بعد جو ترکہ بچا اس کے کل08حصے کئے جائیں گے جس میں سے 1 حصہ والدہ کو ، 2 ،2 حصےتینوںبھائیوں کواور ایک حصہ بہن کو دیا جائے گا۔
المسئلۃ بھذہ الصورۃ
مسئلہ : 8
مــیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بیوی بیٹا بیٹا بیٹا بیٹی
1/8 عصبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
1 2 2 2 1
نوٹ: واضح رہے کہ اگر گروپ انشورنس کے تحت ملازم کی تنخواہ سے کوئی کٹوتی نہیں ہوئی اور حکومت نے اپنے طور پر یہ انشورنس کروائی یا جبری کٹوتی کے بعد رقم ملازم یا اس کے ورثاء کو ادا کی، تو یہ رقم ملازم یا ورثاء کی ملکیت شمار ہوگی اور اس میں سود نہیں ہوگا۔
اگر گروپ انشورنس کے لیے تنخواہ سے اختیاری کٹوتی ہوئی یا ملازم کو خود انشورنس کمپنی سے رقم وصول کرنی پڑی، تو ملازم صرف اتنی رقم کا حق رکھتا ہے جتنی اس نے جمع کرائی تھی، لہٰذا جمع کرائی گئی رقم سے زائد رقم ترکہ میں سے بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کرنا واجب ہے۔
دلائل و جزئیات:
مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ بعض اداروں کی طرف سےملنے والے فنڈ بنیادی طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں:
(1) جو مال میت کی ملکیت میں بوقتِ وفات داخل ہو،جیسا کہ پنشن کی وہ رقم جو زندگی میں مل جائے، لیو انکیشمنٹ،گریجویٹی فنڈ اور جی پی فنڈ وغیرہ وہ ترکہ میں شمار ہوگا، اس میں وراثت جاری ہوگی۔
(2) جو مال میت کی ملکیت میں بوقتِ وفات داخل نہ ہو بلکہ اس کی وفات کے بعد حکومت یا متعلقہ ادارے کی طرف سے اس کے ورثاء میں سے کسی کے نام پرجاری کیا جائے،جیسا کہ پنشن کی وہ رقم جو انتقال کے بعد ملے،بینوولنٹ فنڈ ،فنانس اسسٹنٹ فنڈ وغیرہ تو وہ ترکہ شمار نہ ہوگا،بلکہ جس کے نام پر جاری ہوگا،اسی کی ملکیت قرار پائے گا۔
السراجی فی المیراث میں ہے:قال علمائنا تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ ترجمہ: ہمارے علماء نے فرمایا کہ میت کے ترکے سے چار طرح کے حق متعلق ہوتے ہیں پہلا تجہیز و تکفین پھراسکے تمام مال سےاسکے قرض ادا کئے جائیں گے پھر قرض کی ادائیگی کے بعد جو مال بچا اس سے وصیت نافذ کی جائے گی، پھر جو مال بچے اسکو ورثاء میں تقسیم کردیا جائے گا۔(سراجی فی المیراث ص 5)
وہ مال اسکی وفات کے بعد اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوتا ہے جو اسکی وفات کے وقت زندہ تھے ، اور اسکو ہی مال وراثت کہتے ہیں ،اسی کو ترکہ بھی کہا جاتا ہے۔
علامہ سید میر شریف جرجانی ترکہ کی تعریف ان الفاظ کے ساتھ کرتے ہیں:ما ترك الإنسان صافيًا خاليًا عن حق الغيربعينه ترجمہ: ترکہ وہ مال کہلاتا ہے جو انسان چھوڑ کرمرتا ہے اور اسکے ساتھ کسی دوسرے کا حق متعلق نہ ہو۔(التعریفات ص 42)
مذکورہ تقسیم اللہ کے مقرر کردہ حصوں کے مطابق ہے،بیویوں کے بارے میں ارشاد ہے قال اللہ تعالیٰ:وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ۔ترجمہ :تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں ۔
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد فرمایا:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ۔ترجمہ کنز الایمان :اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمھاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔
السراجی فی المیراث ص19میں ہے:ومع الابن للذکر مثل حظ الانثیین۔ترجمہ: اور للذکر مثل حظ الانثیین کے تحت بیٹی کو بیٹے کے حصے کا نصف ملے گا۔
وراثت کے متعلق الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے: "الإرث لغة: بقاء شخص بعد موت آخر بحيث يأخذ الباقي ما يخلفه الميت. وفقهاً: ما خلفه الميت من الأموال والحقوق التي يستحقها بموته الوارث الشرعي".ترجمہ:وراثت لغت میں ایک شخص کا دوسرے شخص کی موت کے بعد اس طور پر زندہ باقی رہنا کہ میت جو مال چھوڑ گیا ہے زندہ شخص اسے لے لے اور ازروئے فقہ وراثت وہ مال و حقوق ہیں جو میت چھوڑ گیا ،جن کے حقدار اسکی موت کے بعد شرعی وارث ہونگے۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ، الباب السادس المیراث،10/7697،دار الفکر)
اسی طرح رد المحتار میں ہے: "لِأَنَّ تَرَكَهُ الْمَيِّتُ مِنْ الْأَمْوَالِ صَافِيًا عَنْ تَعَلُّقِ حَقِّ الْغَيْرِ بِعَيْنٍ مِنْ الْأَمْوَالِ".ترجمہ:(اس مال کو میت کا ترکہ کہنے کی وجہ) کیونکہ اسے میت چھوڑتا ہے اس طور پر کہ وہ ترکہ اموال میں کسی عین کے ساتھ غیر کے حق کے تعلق سے خالی ہوتا ہے۔(رد المحتار،کتاب ا لفرائض،6/759،دار الفکر)
عطیہ و انعام جسےہبہ بھی کہا جاتا ہے اس کے متعلق بدائع الصنائع میں ہے: "أَمَّا أَصْلُ الْحُكْمِ فَهُوَ ثُبُوتُ الْمِلْكِ لِلْمَوْهُوبِ لَهُ فِي الْمَوْهُوبِ مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ لِأَنَّ الْهِبَةَ تَمْلِيكُ الْعَيْنِ مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ فَكَانَ حُكْمُهَا مِلْكَ الْمَوْهُوبِ مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ".ترجمہ: عطیہ کا اصل حکم یہ ہے کہ اس میں بغیر کسی عوض کے موہوب لہ(جسے عطیہ دیا گیا) کیلئے ملکیت کاثبوت ہوتاہے کیونکہ عطیہ نام ہے بغیر عوض کے کسی عین شئ کا مالک بنانا لہذا اسکا حکم یہ ہوگا کہ موہوب لہ عطیہ کا بغیر عوض کے مالک ہوجائے گا۔ (بدائع الصنائع،فصل فی حکم الہبۃ،6/127،دار الکتب العلمیۃ)
اور الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "لَا يَثْبُتَ الْمِلْكُ لِلْمَوْهُوبِ لَهُ قَبْلَ الْقَبْضِ".ترجمہ:موہوب لہ کی ملکیت سوائے قبضہ کے ثابت نہیں ہوگی۔ (الفتاوی الہندیۃ،کتاب الہبۃ،4/374،دار الفکر) ۔
کتبـــــــــــــــہ: محمد عثمان طاہری
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 8رمضان المبارک 1447 ھ/26 فروری 2026 ء