سوال
میرا یک سنگل اسٹوری گھر تھا جو میں نے اپنی بیوی کے نام کیا تھا ، بعد ازاں میں نے اپنی دوکان بیچی جس کی رقم سے دوفلیٹ لیے اور سنگل اسٹوری پر ایک پورشن بھی بنوایا ۔ کچھ عرصے بعد میری بڑی بیٹی نے حصے کا تقاضا کرنا شروع کردیا میرے منع کرنے پر آنا جانا ختم کردیا جس کے سبب میں نے مجبوراً ایک فلیٹ اسکو دے دیا اور کچھ عرصہ بعد دوسری بیٹی کو دوسرا فلیٹ دیا اور انہوں نے اپنے اپنے فلیٹ پر قبضہ کرلیا۔ اب میری بیوی کا انتقال ہوگیا ہے اس ڈبل اسٹوری مکان میں بیٹیاں بھی اپنے حصے کا تقاضا کررہی ہیں جبکہ یہ ڈبل اسٹوری میرے دونوں بیٹوں کے لئے رکھے ہیں ، کیا بیٹیوں کا تقاضا درست ہے یا مجھے یہ مکان اپنے بیٹوں کو دینا چاہیے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل: محمد وسیم بیگ : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
جب تک اصل مالک زندہ ہو، شرعی اعتبار سے اسکی جائیداد و دیگر اموال میں کسی کا کوئی حق نہیں ہوتا اور نہ ہی اسکی تقسیم اور اس سے حصہ کا تقاضا کسی کے لئے جائز ہے خواہ وہ اسکی اولاد ہی کیوں نہ ہو، لہذا بیٹی کا والد سے فلیٹ کا تقاضا کرنا ،والد کے منع کرنے پر رابطہ ختم کردینا جائز نہیں تھاتاہم جب والد نے ناراضگی کے سبب اسے وہ فلیٹ دے دیا اور اس نے اس فلیٹ پر قبضہ کامل کرلیا تو وہ فلیٹ خاص اس بیٹی کا ہوگیا یونہی جب دوسرا فلیٹ چھوٹی بیٹی کو دیا اور اس نے بھی قبضہ کامل کرلیا تو اسکی بھی ملکیت تام ہوگئی ۔
رہا اس مکان کا مسئلہ جو بیوی کے نام تھا تو اسکا حکم یہ ہے کہ اگر شوہر نے یہ مکان محض کاغذات میں زوجہ کے نام کیا اور قبضہ نہ دیا تو یہ مکان شوہر کی ملکیت ہے ، خاتون کا اس میں کوئی شرعی حق نہیں ۔اور بالخصوص اس صورت میں جبکہ شوہر خود اور اسکی اولاد بھی اس ی گھر میں رہتی رہی اور اپنا مال و اسباب بھی اسی میں رکھا اور کبھی تخلیہ کرکے زوجہ کو قبضہ نہ دیا حتٰی کہ زوجہ کا انتقال ہوگیا تو یہ ھبہ از سر باطل ہوگیا۔لہذا اب یہ مکان خاص شوہر کا ہی ہے ۔ اسکو اولاد کے مابین تقسیم کرنا شرعاً ضروری نہیں بلکہ جب تک بقیدِ حیات ہیں ،اولاد ان چیزوں کو لینے کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتی، اور اگر مطالبہ کرے تو بھی اسے پورا کرنا لازم نہیں ہے۔البتہ چونکہ شوہر نے اپنی دونوں بیٹیوں کو دو الگ الگ فلیٹ دے دیئے ہیں سواسے چاہیے کہ وہ یہ ڈبل اسٹوری مکان دونوں بیٹیوں کو دے کر قبضہ کامل دے دے تاکہ تمام اولاد کے مابین تقسیم میں تساوی ثابت ہوجائے کیونکہ والدین کی جانب سے اولاد کو جو کچھ زندگی میں دیا جاتا ہے وہ از قبیل ِوراثت نہیں بلکہ ھبہ (gift) کے طور پر ہوتا ، اور اولاد کے مابین ھبہ میں تساوی ضروری ہے۔ بلا وجہ شرعی بعض اولاد کو دوسری بعض اولاد کے مقابلے میں کم زیادہ دینا مفتی بہ قول کے مطابق مکروہ ہے۔
صحیحین میں حدیث پاک ہے:عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ أَتَى بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ: إِنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هَذَا غُلاَمًا، فَقَالَ: «أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَهُ» ، قَالَ: لاَ، قَالَ ''فَارْجِعْهُ''۔ ترجمہ:نعمان بن بشیررضی اللہ عنہمانےکہاان کےوالدانہیں رسول اللہﷺکی خدمت میں لائےاورعرض کیاکہ میں نےاپنےاس بیٹےکوایک غلام بطورہبہ دیاہے۔آپﷺنےدریافت فرمایا،کیاایساہی غلام اپنےدوسرےلڑکوں کو بھی دیاہے؟انہوں نےکہانہیں،توآپ نےفرمایاکہ پھر(ان سےبھی)واپس لےلے۔(بخاری،باب الھبۃ للولد حدیث نمبر 2586،مسلم ،باب کراہیۃ تفضیل بعض الاولاد حدیث نمبر 1623)
ھبہ سے متعلق تنویرالابصار میں ہے: وَ شَرَائِطُ صِحَّتِهَا (فِي الْمَوْهُوبِ أَنْ يَكُونَ مَقْبُوضًا غَيْرَ مَشَاعٍ مُمَيَّزًا غَيْرَ مَشْغُولٍ)ترجمہ:اور ھبہ (گفٹ)کے موہوب ( گفٹ کی گئی چیز)میں صحیح ہونے کی شرائط یہ ہیں کہ وہ چیز قبضہ میں ہو، اور غیر مشاع ہو (یعنی ایسی مشترک چیز نہ ہو جس میں شریکوں کے حصے ممتاز نہ ہوں)اور ممیز ہو(یعنی جدا اور نمایاں ہو) اور غیر مشغول ہو(یعنی اس میں کسی اور کا کوئی حق متعلق نہ ہو)۔( تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الھبہ جلد 5ص688)
اسی میں ہے:تتم الھبۃ بالقبض الکامل۔ترجمہ:مکمل قبضہ کے بعد ھبہ تام ہوتاہے ۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الھبہ جلد 5 ص 692)
عالمگیریہ میں ہے : لایثبت الملک للموہوب لہ قبل القبض ۔ترجمہ:قبضہ سےقبل موہوب لہ کی ملکیت ثابت نہ ہوگی۔( فتاوٰی ہندیہ کتاب الھبۃ الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور جلد4 ص 374)
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:والمیم موت احد المتعاقدین بعد التسلیم فلو قبلہ بطل۔ترجمہ:''م'' سے مراد فریقین میں سے ایک کی موت بعد قبضہ ہے اور اگر قبضہ سے قبل موت ہو تو ہبہ باطل ہے۔(درمختار کتاب الھبۃ باب الرجوع فی الھبۃ ،جلد 5ص701)
ھبہ میں اولاد کو ایک دوسرے پر فضیلت کے حوالے سے بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ ترجمہ:اگر اولاد میں سے بعض کو زیادہ دے ان بعض کی نیکی کی بناء پر تو کوئی حرج نہیں ہے، اور سب مساوی ہوں تو پھر ایسا نہ کرے۔(فتاوٰی بزازیہ علی ہامش الفتاوٰی الہندیہ الفصل الاول جلد6 صفحہ 237)
امام طحاوی علیہ الرحمہ حاشیہ در مختار میں لکھتے ہیں: یکرہ ذٰلک عند تساویھم فی الدرجۃ کما فی المنح والہندیۃ ترجمہ: اور درجہ میں اولاد کے برابر ہونے کی صورت میں (کسی کو زیادہ دینا) مکروہ ہے، جیسا کہ منح اور ہندیہ میں ہے ۔(حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الہبۃ جلد3 صفحہ 399 دار المعرفہ بیروت)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:21 ذوالحج 1444 ھ/10 جولائی 2023 ء