بینک میں مشترکہ اکاؤنٹ کی رقم اور وراثت کی تقسیم
    تاریخ: 20 مارچ، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 1067

    سوال

    1:ایک شخص(بلال) کا انتقال ہوا ورثاء میں ایک بیوہ اور دو بیٹیاں ہیں ۔ ترکہ میں ایک مکان ہے جو کہ تین منزلہ ہے ،انکے والد نے وہ مکان بلال سمیت چار بیٹوں کو مشترکہ طور پر زندگی میں ھبہ کردیا تھا بایں طور کہ گراؤنڈ فلوردو بیٹوں (عابد، رضا)کو الگ الگ طور پر ھبہ کردیا۔ یعنی آدھا آدھا دونوں کے قبضہ میں دے دیا۔ پھر فرسٹ فلور ایک بیٹے (قاسم)کو دے دیا اور سیکنڈ فلور (بلال )کو دے دیا۔اور ان سب کی وہیں رہائش تھی۔اس اعتبار سے بلال مکان کے چوتھے حصہ کا مالک تھا۔

    اسکے علاوہ مرحوم کا اپنی بیوی کے ساتھ ایک مشترکہ اکاؤنٹ تھا، جس میں وہ دونوں اپنے بچوں کے لئے پیسے جمع کروایا کرتے تھے۔ اکاؤنٹ میں ہر ایک کے جمع کردہ پیسوں کا الگ طورریکارڈ موجود ہے۔

    بلال کے ورثاء میں ایک بیوی(سدرہ)دو بیٹیاں(منتھٰی، مناہل)ہیں۔اسکے علاوہ چھ سگے بھائی (شہنشاہ، قاسم، حبیب،حنیف، فہیم،رضا)اور دو سگی بہنیں (سیما، نعیمیہ)اور تین سوتیلے بھائی(عابد، محمود،حمید)ہیں۔

    اس تمام صورت حال میں سوالا ت یہ ہیں۔1:کیابلال کی بیوی کی دوسری شادی کی صورت میں بلال کی وراثت یعنی گھر سے محروم ہوجائے گی یا نہیں؟2:یہ کہ مشترکہ اکاؤنٹ میں موجود رقم اس عورت اور دونوں بیٹیوں کی ملکیت رہے گی یا وراثت میں تقسیم ہوگی۔3: وراثت کیسے تقسیم ہوگی؟اسلامی و شرعی طریقے سے جوابا ت عنایت فرمائیں

    سائل:معین الدین :شاہ فیصل کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:مورث سے استحقاقِ وراثت کے لئے لازم ہے کہ اسکی موت کے وقت وارث ہونا ثابت ہو اگر چہ بعد میں وارث ہونا نہ پایا جائے پھر بھی وراثت کا مستحق رہے گا۔مذکورہ صورت میں جب مرد کا وصال ہوا تو عورت بالاتفاق اسکی وارثہ تھی لہذا مکان کی وراثت سے کسی طرح محروم نہ ہوگی بلکہ دیگر ورثاء کی طرح اسے بھی حصہ ملے گا۔اگر چہ بعد میں کسی اور کی زوجیت میں چلی جائے۔ الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت۔ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ)تھے ۔ ( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)

    البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت) : أي وقت الحكم بالموت۔ ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایہ شرح الہدایہ جلد 7ص367)

    2:مشترکہ اکاؤنٹ میں جتنی رقم عورت نے جمع کروائی وہ خاص اسی کی ملکیت ہے کسی اور کا اس میں کوئی حق نہیں۔ البتہ مرحوم نے جتنی رقم جمع کروائی وہ انکی وراثت ہے جو انکے ورثاء میں (بشمول بیوی)انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہوگی۔

    3:وراثت کی تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت(مکان اور اکاؤنٹ میں موجود رقم) کو 336 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا ،جس میں سے بیوی (سدرہ)کو42 حصے، بیٹیوں(منتھٰی، مناہل) میں سے ہر ایک کو الگ الگ 112 حصے، ہر بھائی (شہنشاہ، قاسم، حبیب،حنیف، فہیم،رضا)کو ایک کو الگ الگ 10 حصے ، اور ہر بہن (سیما، نعیمیہ)کو الگ الگ 5 حصے ملیں گے۔

    نوٹ:اس فتویٰ کی مزید تفصیل PDF میں موجود ہے

    واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:17ربیع الاول 1442 ھ/04 نومبر 2020 ء