سوال
1: میری پھوپھی کا انتقال ہوگیا ہے جو کہ کنواری تھی ،ان کے ورثاء میں 3بہنیں اور 3بھائی ہیں جبکہ ان کے والدین کا ان سے پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا۔تو ان کی وراثت میں چھوڑی ہوئی زمین اور جائیداد کی تقسیم کیسے ہو گی ؟شرعی لحاظ سے بیان فرمادیں ۔
2: میرے والد صاحب جو دماغی طور پر بہت ہی غصے والے ہیں اور وہ غصے کی حالت میں گالیوں تک بھی دیتے ہیں ،ایک دفعہ انہوں نے غصے کی حالت میں اپنی بہن کو گھر باہر نکال دیا تھا ،گزشتہ بقرعید کی رات انہوں نے میرے سامنے ہماری والدہ کو تین طلاقیں دی اس وقت ان دونوں کی عمریں ستر سال سےاوپر ہیں تو کیا طلاق واقع ہو جائے گی ؟
3: اب چند دن پہلے ان کا ہاٹ اٹیک ہوا اور ڈاکٹروں نے جواب دیا ہے اور ان کو رکھنے کی کوئی اور جگہ نہیں ہے تو کیا اب ہم ان کو والدہ کے گھر رکھ سکتے ہیں تاکہ ان کی وہاں پر صحیح سے نگہداشت ہو سکے ۔
واضح رہے والدہ صرف spurvisionکرے گی اور ان کی دیکھ بھال کے لیئے male nurseچوبیس گھنٹے کا رکھا جائے گا ۔
سائلہ:ارم حسن: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگروقعتا ان کے ورثاءصرف یہی ہیں تو ان کی زمین ،جائیداداور جوکچھ انہوں نے چھوڑا ہے ان سب کی مارکیٹ ویلیو کے مطابق جو بھی قیمت ہو اس کے 9حصے کیئے جا ئیں جن میں سے ہر بھائی کو دو،دو حصے اور ہر ایک بہن کو ایک،ایک حصہ دیا جائے۔
المسئلۃ کذا:
مسئلہ :9
مــیـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــت
بھائی ، بھائی ، بھائی ، بہن ، بہن ، بہن
عصبــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
2 ، 2 ، 2 ، 1 ، 1 ، 1
اللہ سبحٰنہ تعالی کا فرمان ہے :يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ۔ترجمہ:اے محبوب تم سے فتوٰی پوچھتے ہیں تم فرمادو کہ اللہ تمہیں کلالہ میں فتوٰی دیتا ہے اگر کسی مرد کا انتقال ہو جو بے اولاد ہے اور اس کی ایک بہن ہو تو ترکہ میں اس کی بہن کا آدھا ہے اور مرد اپنی بہن کا وارث ہوگا اگر بہن کی اولاد نہ ہو پھر اگر دو بہنیں ہوں ترکہ میں ان کا دو تہائی اور اگر بھائی بہن ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے بر ابر اللہ تمہارے لیے صاف بیان فرماتا ہے کہ کہیں بہک نہ جاؤ اور اللہ ہر چیز جانتا ہے۔(النساء:176)
السراجی فی المیراث ص:۲۵پر ہے :ومع الاخ لاب وام للذکر حظ النثیین ،یصرن عصبۃ ،لاستوائھم فی القربۃ الی المیت۔ ترجمہ:اور سگے بھائیوں کی موجودگی میں بہن کو بھا ئی کے حصے کا آدھا ملے گا ،کہ وہ عصبہ بن جا ئینگی ،کیوں کہ میت سے قربت میں وہ سب برابر ہیں ۔
2:اگر طلاق دیتے وقت ان کی عقل سلامت تھی تو آپ کی والدہ کو تین طلاقیں واقع ہو چکی ہیں ،جس کے بعد آپ کی والدہ ان پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہیں :ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے :إنَّهُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ: أَحَدُهَا أَنْ يَحْصُلَ لَهُ مَبَادِئُ الْغَضَبِ بِحَيْثُ لَا يَتَغَيَّرُ عَقْلُهُ وَيَعْلَمُ مَا يَقُولُ وَيَقْصِدُهُ، وَهَذَا لَا إشْكَالَ فِيهِ. وَالثَّانِي أَنْ يَبْلُغَ النِّهَايَةَ فَلَا يَعْلَمُ مَا يَقُولُ وَلَا يُرِيدُهُ، فَهَذَا لَا رَيْبَ أَنَّهُ لَا يَنْفُذُ شَيْءٌ مِنْ أَقْوَالِهِ.الثَّالِثُ مَنْ تَوَسَّطَ بَيْنَ الْمَرْتَبَتَيْنِ بِحَيْثُ لَمْ يَصِرْ كَالْمَجْنُونِ فَهَذَا مَحَلُّ النَّظَرِ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حَيْثُ قَالَ: وَيَقَعُ الطَّلَاقُ مِنْ غَضَبٍ خِلَافًا لِابْنِ الْقَيِّمِ اهـ وَهَذَا الْمُوَافِقُ عِنْدَنَا۔ ۔۔۔۔ وَاَلَّذِي يَظْهَرُ لِي أَنَّ كُلًّا مِنْ الْمَدْهُوشِ وَالْغَضْبَانِ لَا يَلْزَمُ فِيهِ أَنْ يَكُونَ بِحَيْثُ لَا يَعْلَمُ مَا يَقُولُ بَلْ يُكْتَفَى فِيهِ بِغَلَبَةِ الْهَذَيَانِ وَاخْتِلَاطِ الْجَدِّ بِالْهَزْلِ كَمَا هُوَ الْمُفْتَى بِهِ فِي السَّكْرَانِ۔ ترجمہ:غصے کی تین درجات ہیں ،ایک یہ کہ ابھی ابتدائی صورت ہو اور اس کی عقل سلامت ہو کہ جو بول رہا ہو وہ جانتا بھی ہواور اس کا قصد بھی ہو ؛تو اس صورت کے سمجھنے میں کوئی مشکل نہیں ہے (کہ طلاق واقع ہو جائے گی )دوسرا یہ کہ غصے کی انتہائی کیفیت ہوکہ جو بول رہا ہے اس سے نا واقف ہو اور اس کا قصد بھی نہ ہو تو اس صورت میں بلا شبہ اس کے الفاظ نافذ نہیں ہونگے ۔اور تیسرا یہ کہ غصے کی ان دو حالتوں کے درمیانی کیفیت ہو کہ وہ جنون کی حالت میں نہ ہو تو اس صورت میں اختلاف ہے۔ (علامہ شامی علیہ الرحمہ غایہ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:)اس صورت میں طلاق واقع ہو جائے گی ،اور یہی قول ہمارے موافق ہے ،بر خلاف ابن قیم کے (اور آگے خلاصۃ ً لکھتے ہیں کہ :)میرے لیئے جو ظاہر ہے وہ یہ کہ مدہوش اور غصے میں مبہوت شخص کے لیئے یہ لازم نہیں ہے کہ اس کو پتہ نہ چلے کہ وہ کیا بول رہا ہے بلکہ اتنی بات کا فی ہے کہ وہ اول فول بول رہا ہو اور الٹی و سیدھی باتوں کو ملا رہا ہو ،جیساکہ یہی صورت مفتی بہ ہے نشہ والے والے شخص کے حق میں ۔ (ردالمحتار علی الدرالمختار،مطلب فی تعریف السکران ،ج:۳،ص:۲۴۴،طبع:دارالفکر ،بیروت)
3: اگر آپ کی والدہ بخوشی راضی ہیں اور بالکل اسی طرح کیا جائے گا جیسا کہ آپ نے بیان کیا تو آپ ان کو اپنی والدہ کے گھر پر رکھ سکتی ہیں :وَأَمَّا الشَّرَائِطُ الَّتِي يَصِيرُ الرُّكْنُ بِهَا إعَارَةً شَرْعًا فَأَنْوَاعٌ: مِنْهَا الْعَقْلُ وَمِنْهَا الْقَبْضُ مِنْ الْمُسْتَعِيرِ؛ لِأَنَّ الْإِعَارَةَ عَقْدُ تَبَرُّعٍ فَلَا يُفِيدُ الْحُكْمَ بِنَفْسِهِ بِدُونِ الْقَبْضِ كَالْهِبَةِ، وَمِنْهَا أَنْ يَكُونَ الْمُسْتَعَارُ مِمَّا يُمْكِنُ الِانْتِفَاعُ بِدُونِ اسْتِهْلَاكِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَا تَصِحُّ إعَارَتُهُ؛ لِأَنَّ حُكْمَ الْعَقْدِ ثَبَتَ فِي الْمَنْفَعَةِ لَا فِي الْعَيْنِ۔(ملتقطا)ترجمہ:وہ شرائط جن کی بنیاد پر رکن (عقد)شرعا اعارۃ بن جا تا ہے ،ان میں سے ایک شرط عقل مند ہونا ہے ،اور ایک یہ کہ اعارۃ پر لینے والے کی طرف سے قبضہ کرلینا ،اس لیئے کہ اعارہ عقد تبرع ہے تو وہ ہبہ کی طرح بغیر قبضے کے درست نہیں ہوگا،اور ایک یہ کہ جس چیز کو اعارہ پرلیا جا رہا ہے وہ ایسی ہو کہ جس سے ہلاک کیئے بغیر فائدہ اٹھا یا جاسکے ،اور اگر ایسا نہ ہو تو اعارہ درست نہیں ہوگا ،اس لیئے کہ عقد کا حکم (یعنی شی سے نفع اٹھانا)ثابت ہوتا ہے اس چیز کی منفعت میں نہ کہ خود عین شی میں ۔
واللہ تعالی اعلم باالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:عبد المصطفی ظہور احمد
تاریخ اجراء:09جمادی اولی 1440 ھ/16جنوری 2019ء