سوال
طلاق یافتہ لڑکی عدت پوری کرنے کے بعد اپنے دیور (یعنی سابقہ شوہر کے بھائی)سے شادی کرکے اسی گھر میں رہ سکتی ہے ۔ واضح رہے کہ ہمارے علاقے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ طلاق کے بعد دوبارہ اس گھر میں رہنا مناسب نہیں ہے۔
سائل:الطاف حسین ولد غلام قادر :ساہیوال
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
کسی بھی طلاق یافتہ عورت کا عدتِ طلاق گزار کر سابقہ شوہر کے بھائی سے شادی کرکے اسی گھر میں رہنا شرعاً ممنوع نہیں ہے جبکہ سابقہ شوہر سے مکمل شرعی پردہ مع حدود و قیود اختیار کیا جائے ۔ لہذا علاقہ میں اس طرح کا تاثر قائم کرنا درست نہیں ہے کہ جس سے لوگ سابقہ شوہر کے بھائی سے شادی کرکے اسی گھر میں رہنے کو ناجائز و حرام سمجھے۔
تاہم فی زمانہ چونکہ مشترکہ خاندان کے طور پر ایک گھر میں رہتے ہوئے مکمل شرعی پردہ کا اہتمام کرنا تقریباً معدوم ہے اس لئے ضروری ہے کہ عورت کا موجودہ شوہر رہائش کا الگ انتظام کرے یا عورت کو اسی گھر میں ایسا ماحول بناکر دے کہ سابقہ شوہر اور عورت کا سامنا نہ ہوسکے۔ وگر نہ مرد و عورت کا فنتہ میں پڑ جانے اور کئی شرعی خرابیوں کے پیدا ہوجانے کا قوی اندیشہ ہے۔
عدت گزارنے کے بعد سابقہ شوہر نامحرم و اجنبی ہے لہذا اسکے ساتھ گفت و شنید اور خلوت منع ہے، حدیث میں ارشاد ہوا :لایخلون رجل بامراۃ الا کان ثالثہا الشیطان ۔ترجمہ:جب مرد عورت کے ساتھ خلوت میں ہو تو تیسرا شیطان ہوتا ہے۔(رواہ الترمذی عن عمر رضی اللہ عنہ ، سنن الترمذي:رقم الحدیث 1172 )
دیور یا جیٹھ بھی نامحرم ہے اس سے بھی پردہ فرض ہے ،بلکہ دیگر اجنبیوں کے مقابلے میں اس کا حکم سخت ہے کہ حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں دیور کو موت کہا گیا: عن عقبة بن عامر قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: إیاکم والدخول علی النساء فقال رجل من الأنصار یا رسول اللہ! أفرأیت الحَمو؟ قال: الحمو الموت: ترجمہ: حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:(اجنبی)عورتوں کے پاس جانے سے اجتناب کرو ، ایک انصاری نے عرض کی یار سول اللہ : دیور کے متعلق کیا حکم ہے؟ اس پر آپ علیہ الصلاة والسلام نے فرمایا: دیور تو موت ہے۔(صحيح البخاري رقم الحڈیث 5232 )
غیر محارم کےحق میں ان پانچ اعضاءچہرہ،دونوں ہاتھ پہنچوں سمیت ،اور دوونوں پاؤوں کا ظاہری حصہ کےعلاوہ عورت کا تمام بدن ستر (پردہ )ہے ۔ جیسا کہ علامہ علاؤ الدین حصکفی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : وللحرة جمیعُ بدنہا خلا الوجہ والکفین والقدمین علی المعتمد ترجمہ: معتمد قول کے مطابق آزاد عورت کے لیے سارے بدن کا چھپانا فرض ہے ،سوائے چہرے ،ہتھیلیوں اور دونوں پاؤں کے۔(الدر المختار جلد1 صفحہ 405 مطبوعہ : دار الفكر-بيروت)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:19 رجب المرجب 1443 ھ/21 فروری2022 ء