سوال
میں اپنے شوہر کے انتقال کے بعدسے اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی ہوں ،ساڑھے تین سال پہلے میرے بیٹے کی موجودگی میں مہر شرعی (کم از کم مقدار)مؤجل پر ایک مولوی صاحب نے میرا نکاح پڑھایا تھا ۔لیکن میں نے اس نکاح کو رشتہ داروں سے چھپایا ہے البتہ اب میرے والد کو اس بات کا علم ہوچکا ہےاور انہوں کہا ہے کہ ٹھیک ہے ۔آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ یہ نکاح ہوا ہے یا نہیں ؟
دوسرا یہ کہ نکاح کےدوسرے دن رخصتی اور ولیمے سے پہلے ہی وہ کو ئٹہ چلا گیا اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا ہے اور نہ تو وہ میری کوئی ذمہ داری اٹھا تا ہے نہ ہی کفالت کرتا ہے اس لیئے میں اس سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتی ہوں تو میں مجھے کیا کرنا چاہیئے ؟
سائلہ:شہناز ،کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر آپ اپنے ان بیانات میں سچی ہیں توجس شخص سے نکاح ہوا ہےاگر وہ آپ کا کفو (یعنی اسلام، نسب ،دیانت،مال اور پیشہ میں آپکا ہم پلہ )ہےتو آپ کا نکاح اس شخص کے ساتھ ہو چکا ہے اور اس پر آپ کے تمام حقوق(جو شرعا لاگو ہوتے ہیں جیسے نان و نفقہ،رہنے کی جگہ وغیرہ)پورےکرنالازم ہےاور اگر واقعتا وہ آپ کے حقوق پورے نہیں کرتا اور آپ چھٹکارہ ہی چاہتی ہیں تو آپ ان سے طلاق کا مطالبہ کریں اور اگر وہ طلاق دے ،دے تو آپ ان کی نکاح سے نکل جا ئینگی اوران پر مہر شرعی(دس درہم یعنی .6830گرام چاندی ) کا آدھا(پانچ درہم یعنی.4315گرام چاندی)یا اس کی مالیت دینا لازم ہوگا ۔اور اگروہ طلاق دینے سے انکار کرے توآپ اس سے خلع لے لیں اورا ٓپ پر عدت نہیں ہے ۔بس یہی طریقہ ہے نکاح کے بندھن کو توڑنے کا ۔
یاد رہے مہر کی یہ مقدار اس صورت میں ہے کہ جب رخصتی یا خلوت صحیحہ نہ ہوئی ہو(یعنی دولہا اور دلہن کی ایسی علیحدگی جہاں صحبت سے کوئی چیز مانع نہ ہوحسی طورپرجیسے بالکل بند کمرہ ہو یا شرعی طورپر یعنی حیض وغیرہ نہ ہو یا طبعی طورپریعنی کو ئی بیماری وغیرہ نہ ہو) ورنہ پورا مہر دینا ہوگا ۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ :
(1)نکاح کے صحیح ہونے کے لیئےکم ازکم دو آزاد،عاقل، بالغ گواہوں کا ہونا ضروری ہے اور وہ یہاں موجود ہیں لہذا نکاح منعقد ہو چکا ہے ۔
ردالمحتار علی الدرالمختار(کتاب النکاح ،ج:۳،ص:۲۵،طبع:دارالفکر،بیروت)میں ہے"وَلَوْ زَوَّجَ بِنْتَهُ الْبَالِغَةَ الْعَاقِلَةَ بِمَحْضَرِ شَاهِدٍ وَاحِدٍ جَازَ إنْ كَانَتْ ابْنَتُهُ حَاضِرَةً لِأَنَّهَا تُجْعَلُ عَاقِدَةً"قال العلامۃ الشامی تحت قولہ "بِنْتَهُ ""كَوْنُهَا بِنْتَهُ غَيْرُ قَيْدٍ، فَإِنَّهَا لَوْ وَكَّلْت رَجُلًا غَيْرَهُ فَكَذَلِكَ"ترجمہ:اگر کسی شخص نے اپنی بالغہ بیٹی کا نکاح ایک گواہ کی موجود گی میں کیا تو جائز ہے اگر اس کی بیٹی خود موجود ہو اس لیئے کہ وہ (بیٹی) خود عقد کرنے والی ہوگی ۔
علامہ شامی اس کے تحت لکھتے ہیں "یہاں پراس کی بیٹی کا ہونا مقید نہیں ہے (بلکہ)اگربالغہ لڑکی باپ کے علاوہ کسی اور سےاپنی نکاح کرنے کا کہے اور وہ وکیل کسی اور شخص کی موجود گی میں نکاح کر لے تو بھی نکاح صحیح ہوگا
(2)شریعت مطہرہ میں عورت کا بلاوجہ شرعی طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا سخت ناپسندیدہ اور گناہ ہے لیکن اگر کوئی شرعی وجہ ہو تو جائز ہے ۔
سنن ابی داود(باب الخلع،رقم:۲۲۲۶)، سنن ترمذی(باب ما جاء فی ا لمختلعۃ،رقم:۱۱۸۷)اورمصنف ابن ابی شیبہ(باب ما کرہ من الکراہیت للنساء ان یطلبن،رقم:۱۹۲۵۸)میں با الفاظ متقاربہ ہےوالفظ للاول۔
"أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ"ترجمہ:کوئی بھی عورت جو بغیر کسی وجہ کے اپنے زوج سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبو(بھی )حرام ہے۔
فیض القدیر شرح جامع الصغیر(باب الھمزہ،ج:۱،ص:۱۳۸،طبع: المکتبۃ التجاریۃ الکبری،مصر)میں "باس"(یعنی وہ وجوہات جن کی وجہ سے عورت طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے )کی وضا حت ان الفاظ میں کی گئی ہے :
"والبأس الشدة أي في غير حالة شدة تدعوها وتلجئها إلى المفارقة كأن تخاف أن لا تقيم حدود الله فيما يجب عليها من حسن الصحبة وجميل العشرة لكراهتها له أو بأن يضارها لتنخلع منه"
ترجمہ: باس سے مراد یہ ہے کہ ایسے سخت ترین حالات جو عورت کواس بات پر مجبور کر دیں کہ وہ اپنے شوہر سے چھٹکارہ حاصل کرےکہ جب وہ ان چیزوں میں حدود اللہ کوقائم نہ کر سکتی ہو جن کی پاسداری واجب ہےمثلاعورت اپنےشوہر سے حسن معاشرت اور ایک اچھی صحبت قائم نہ کر سکتی ہو (جائز اور حقیقی بنیاد پر )نفرت کی وجہ سے یا مرد اس کواذیت دیتا رہے تاکہ وہ اس سے خلع حاصل کرے۔
ردالمحتار علی الدرالمختار(باب الخلع،ج:۳،ص:۴۴۱،طبع:دارالفکر،بیروت)میں ہے "وَلَا بَأْسَ بِهِ عِنْدَ الْحَاجَةِ لِلشِّقَاق بِعَدَمِ الْوِفَاقِ ''قال العلامۃ الشامی تحت قولہ " لِلشِّقَاق"وَفِي الْقُهُسْتَانِيِّ عَنْ شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ: السُّنَّةُ إذَا وَقَعَ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ اخْتِلَافٌ أَنْ يَجْتَمِعَ أَهْلُهُمَا لِيُصْلِحُوا بَيْنَهُمَا، فَإِنْ لَمْ يَصْطَلِحَا جَازَ الطَّلَاقُ وَالْخُلْعُ.
ترجمہ:حاجت کے وقت خلع کا مطالبہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے یعنی لڑائی جھگڑے اور عدم اتفاق کی وجہ سے۔اور علامہ شامی امام کا قول قہستانی کے حوالے نقل کرتے ہیں کہ"جب میاں ،بیوی کے درمیان اختلاف واقع ہو تو سنت یہ ہے کہ ان کے رشتہ دار انکے درمیان صلح صفائی کر لیں اور اگر وہ دونوں صلح نہ کریں تو طلاق دینا اور خلع کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔
لہذا آپ طلاق یا خلع کا مطالبہ کر سکتی ہیں اور اس کا طریقہ یہ ہے :
طلاق دینے کا طریقہ :
اگر شوہر اپنی بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ کر لے تو سب سے پہلے اسے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کی بیوی ایامِ حیض میں تو نہیں؟ اگر بیوی ایامِ حیض میں ہے تو حیض کے ختم ہونے کا انتظار کرے۔ ایامِ حیض کے خاتمے کے بعد ایامِ طُہر (پاکیزگی کے دنوں) میں جنسی تعلق قائم کیے بغیر ایک دفعہ طلاق دےتو ایک ہی طلاق سے اس کی غیر مدخولہ (جس کے ساتھ صحبت نہ ہوئی ہووہ )بیوی بائنہ ہوجائے گی (نکاح سے نکل جائے گی )دوسری ،تیسری طلاق دینے کی ضرورت نہیں ہےالبتہ غیر مدخولہ کو طلاق دنے کی صورت میں آدھا مہر دینا اس پر لازم ہو جائے گا اوراس کی بیوی پر عدت نہیں ہے ۔
ردالمحتار علی الدرالمختارشرح تنویر الابصار(باب طلاق غیر المدخولۃبھا ج:۳، ص:۲۹۲، طبع:دارالفکر)میں ملخصاًہے"قَالَ لِزَوْجَتِهِ غَيْرِ الْمَدْخُولِ بِهَا أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًاوَقَعْنَ وَإِنْ فَرَّقَ بَانَتْ بِالْأُولَى لَا إلَى عِدَّةٍ وَلَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ "ترجمہ:کسی نے اپنی غیر مدخولہ بیوی کو کہا اے تین طلاقوں والی تو تین طلاقیں واقع ہو جائینگی اور اگر اس نے الگ،الگ کہا(یعنی اے طلاق والی ،اے طلاق والی ،اے طلاق والی )تو عورت ایک ہی طلاق سے بائنہ ہو جائے گی ، اس پر عدت نہیں ہے اور دوسری طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (البقرۃ:237) ترجمہ:اور اگر تم نے عورتوں کو بے چھوئے طلاق دے دی اور ان کے لئے کچھ مہر مقرر کرچکے تھے تو جتنا ٹھرا تھا اس کا آدھا واجب ہے مگر یہ کہ عورتیں کچھ چھوڑدیں یا وہ زیادہ دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور اے مردو تمہارا زیادہ دینا پرہیزگاری سے نزدیک تر ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر احسان کو بھلا نہ دو بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے ۔
اور فرمایا:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا(الاحزاب:۴۹)ترجمہ:اے ایمان والو جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں بے ہاتھ لگائے چھوڑ دو تو تمہارے لئے کچھ عدت نہیں جسے گنو تو انہیں کچھ فائدہ دو اور اچھی طرح سے چھوڑ دو ۔
خلع لینے کا طریقہ :
عورت اپنے شوہر سے کسی مال یا مہر کے عوض خلع کا مطالبہ کرے اور مرد قبول کر لے اور اگر مرد نے قبول نہیں کیا یا خلع نامہ پر سائن نہیں کیئےاگر چہ کورٹ نے خلع نامہ جاری کردیا ہو تو خلع واقع نہیں ہوگی بہر صورت مرد جب خلع دے ،دے تو عورت طلاق بائن کے ساتھ اس کی نکاح سے نکل جائے گی اور عورت پر اتنا مال دینا یا مہر کی واپسی کرنا لازم ہے اگرمہر پر قبضہ کیا ہے اور اگر نہیں کیا تو اس کو معاف کرنا یا مطالبہ نہ کرنا لازم ہوگا ۔
عالمگیری( کتاب الطلاق الباب الثامن فی الخلع وما فی حکمہ ج:1ٍص: 519)میں ملخصاًہے"الخلع ازالۃ ملک النکاح ببدل بلفظ الخلع وَشَرْطُهُ شَرْطُ الطَّلَاقِ وَحُكْمُهُ وُقُوعُ الطَّلَاقِ الْبَائِنِ.وَتَصِحُّ نِيَّةُ الثَّلَاثِ فِيهِ. حَضْرَةُ السُّلْطَانِ لَيْسَتْ بِشَرْطٍ لِجَوَازِ الْخُلْعِ عِنْدَ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ وَالصَّحِيحُ قَوْلُهُمْ ۔إذَا تَشَاقَّ الزَّوْجَانِ وَخَافَا أَنْ لَا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ تَفْتَدِيَ نَفْسَهَا مِنْهُ بِمَالٍ يَخْلَعُهَا بِهِ فَإِذَا فَعَلَا ذَلِكَ وَقَعَتْ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ وَلَزِمَهَا الْمَالُ " ترجمہ:لفظ خلع کے ساتھ ملک نکاح کو کسی چیز کے عوض ختم کرنے کا نام خلع ہےاور اس کے وہی شرائط ہیں جو طلاق کے ہیں اور اس کا حکم طلاق بائن کا ہے اور خلع میں تین طلاق کی نیت کرنا (بھی)صحیح ہے ۔اور اکثر علماء کے صحیح قول کے مطابق خلع کے جواز کے لیئے قاضی کی عدالت شرط نہیں ہے ۔اورجب میاں ،بیوی میں اختلافات ہوں اور اس بات کا ڈر ہو کہ وہ اللہ تعالی کے حدود کی پاسداری نہیں کرپائینگے تو اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ عورت اپنی طرف سے فدیہ (کچھ مال)دے کر شوہر سے خلع لے ،لے اور وہ اس طرح کر لیں تو طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور عورت پر مال کا دینا لازم ہو جائے گا ۔واللہ تعالی اعلم باالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:عبد المصطفی ظہور احمد
تاریخ اجراء:14صفر المظفر 1440 ھ/23اکتوبر 2018ء