سوال
شوہر کی بے جا مارپیٹ ، جھگڑے،فسادات،دھوکہ دہی کی وجہ سے عورت کو شریعت کیا حق دیتی ہے۔ سائلہ:بشرٰی غلام علی :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
شریعت نے مرد کو طلاق کا حق دے کربے لگام نہیں چھوڑا کہ وہ اب جو چاہے عورت کے ساتھ کرے اور اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ بلکہ عورت کو یہ حق دیا ہے کہ وہ ناگفتہ بہ حالات میں عدالت میں فسخ نکاح کا کیس دائر کرکے اس مرد سے چھٹکارا حاصل کرسکتی ہے۔
اگر معاملہ ایسا ہی ہے تو آپ بذریعہ عدالت فسخِ نکاح کرواسکتی ہیں اسکے بعد عدت گزار کر جہاں چاہیں نکاح کرسکتی ہیں ۔
مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان تفہیم المسائل جلد 3ص269لکھتے ہیں:''وہ وجوہ جن کی بناء پر مختلف ائمہ کرام کے مسالک میں قاضئِ مجاز یا جج کے لئے '' فسخِ نکاح'' کی گنجائش نکل سکتی ہے یا ایسی مصیبت زدہ بیوی کے لئے ایسی رخصت ورعایت موجود ہے کہ انتہائی اذیت ناک صورتِ حال سے اسکو نجات مل جائے بشرطیکہ ان شرائط و قرائن کی بنیاد پرقاضی کو ظن غالب یا یقین ہوجائے ، یہ ہیں:
1: شوہر بیوی کو نان و نفقہ نہ دیتا ہو ،ظالمانہ انداز مین بے انتہا مار پیٹ کرتا ہو ،حقوق زوجیت ادا نہ کرتا ہو اور اسے معلق حالت میں روکے رکھنا چاہتا ہویعنی نہ تو اسے بیوی کے طور پر رکھےاور نہ ہی اسے طلاق دے۔ (ایسی صورت میں عدالت فسخ نکاح کرسکتی ہے)۔
لیکن یہاں ایک نہایت اہم بات یاد رہے کہ فسخِ نکاح اور خلع دو الگ الگ چیزیں ہیں۔خلع طلاق کی ہی ایک قسم ہے جبکہ فسخِ نکاح نکاح کو بغیر طلاق کے ختم کرنے کا نام ہے ،نیز یہ کہ خلع شوہر کا حق ہےجبکہ فسخِ نکاح قاضی شرع کا حق ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب