غیر مدخولہ کی طلاق کا مطالبہ
    تاریخ: 25 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 875

    سوال

    السلام علیکم ،عرض یہ ہے کہ میری بہن کا نکاح ہو چکا ہے اور ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی ۔لیکن وہ لڑکا جس سے نکاح ہوا ہے اس کے چال چلن صحیح نہیں ہے اور غیر اخلاق لڑکیوں سے اس کےگھرے مراسم ہیں اور ایک لڑکی جس کا نام عروج ہےاس کے ساتھ لڑکے تعلقات ہیں اور محلے والوں نے ان دونوں کو غلط حرکتوں میں پکڑا بھی ہے ۔

    ہم اپنی بہن کے بارے میں بہت پریشان ہے آپ ہماری رہنمائی کریں کہ ہم اس سے طلاق لے لیں یا نہیں ؟


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اور اگر واقعتا وہ لڑکا بد کردار اور غلط حرکتوں میں ملوث ہے تو اسےسمجھا یا جائے ،اگر وہ باز آکر تا ئب ہو جا تا ہے تو ٹھیک اور اگر باز نہیں آتا تو آپ لوگ اس سے طلاق کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔اگر وہ طلاق دے ،دے تو آپ کی بہن اس کے نکاح سے نکل جا ئینگی اوراس پر مہراگر طےہوا تھا تو اس کا آدھا دینا لازم ہوگا اور اگر نہیں ہواتواپنی حیثیت کے مطابق متعہ (ایک سوٹ کپڑا)دینا ہو گا ،اور اگروہ طلاق دینے سے انکار کرے تو آپ اس سے خلع لے لیں اورا ٓپکی بہن پر عدت نہیں ہو گی ۔

    تفصیل اس کی یہ ہے:

    شریعت مطہرہ میں عورت کا بلاوجہ شرعی طلاق یا خلع کا مطالبہ کرنا سخت ناپسندیدہ اور گناہ ہے لیکن اگر کوئی شرعی وجہ ہو تو جائز ہے ۔

    سنن ابی داود(باب الخلع،رقم:۲۲۲۶) سنن ترمذی(باب ما جاء فی ا لمختلعۃ،رقم:۱۱۸۷)اورمصنف ابن ابی شیبہ (باب ما کرہ من الکراہیت للنساء ان یطلبن،رقم:۱۹۲۵۸)میں با الفاظ متقاربہ ہےوالفظ للاول۔

    "أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ"ترجمہ:کوئی بھی عورت جو بغیر کسی وجہ کے اپنے زوج سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اس پر جنت کی خوشبو(بھی )حرام ہے۔

    فیض القدیر شرح جامع الصغیر(باب الھمزہ،ج:۱،ص:۱۳۸،طبع: المکتبۃ التجاریۃ الکبری،مصر)میں "باس"(یعنی وہ وجوہات جن کی وجہ سے عورت طلاق کا مطالبہ کر سکتی ہے )کی وضا حت ان الفاظ میں کی گئی ہے :

    "والبأس الشدة أي في غير حالة شدة تدعوها وتلجئها إلى المفارقة كأن تخاف أن لا تقيم حدود الله فيما يجب عليها من حسن الصحبة وجميل العشرة لكراهتها له أو بأن يضارها لتنخلع منه"ترجمہ: باس سے مراد یہ ہے کہ ایسے سخت ترین حالات جو عورت کواس بات پر مجبور کر دیں کہ وہ اپنے شوہر سے چھٹکارہ حاصل کرےکہ جب وہ ان چیزوں میں حدود اللہ کوقائم نہ کر سکتی ہو جن کی پاسداری واجب ہےمثلاعورت اپنےشوہر سے حسن معاشرت اور ایک اچھی صحبت قائم نہ کر سکتی ہو (جائز اور حقیقی بنیاد پر )نفرت کی وجہ سے یا مرد اس کواذیت دیتا رہے تاکہ وہ اس سے خلع حاصل کرے۔

    ردالمحتار علی الدرالمختار(باب الخلع،ج:۳،ص:۴۴۱،طبع:دارالفکر،بیروت)میں ہے "وَلَا بَأْسَ بِهِ عِنْدَ الْحَاجَةِ لِلشِّقَاق بِعَدَمِ الْوِفَاقِ ''وقال العلامۃ الشامی تحت قولہ " لِلشِّقَاق"وَفِي الْقُهُسْتَانِيِّ عَنْ شَرْحِ الطَّحَاوِيِّ: السُّنَّةُ إذَا وَقَعَ بَيْنَ الزَّوْجَيْنِ اخْتِلَافٌ أَنْ يَجْتَمِعَ أَهْلُهُمَا لِيُصْلِحُوا بَيْنَهُمَا، فَإِنْ لَمْ يَصْطَلِحَا جَازَ الطَّلَاقُ وَالْخُلْعُ.ترجمہ:حاجت کے وقت خلع کا مطالبہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے یعنی لڑائی جھگڑے اور عدم اتفاق کی وجہ سے۔اور علامہ شامی امام کا قول قہستانی کے حوالے نقل کرتے ہیں کہ"جب میاں ،بیوی کے درمیان اختلاف واقع ہو تو سنت یہ ہے کہ ان کے رشتہ دار انکے درمیان صلح صفائی کر لیں اور اگر وہ دونوں صلح نہ کریں تو طلاق دینا اور خلع کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔

    لہذا آپ طلاق یا خلع کا مطالبہ کر سکتے ہیں اور اس کا طریقہ یہ ہے :

    طلاق دینے کا طریقہ :

    اگر شوہر اپنی بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ کر لے تو سب سے پہلے اسے یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کی بیوی ایامِ حیض میں تو نہیں؟ اگر بیوی ایامِ حیض میں ہے تو حیض کے ختم ہونے کا انتظار کرے۔ ایامِ حیض کے خاتمے کے بعد ایامِ طُہر (یعنی پاکیزگی کے دنوں)میں ایک دفعہ طلاق دےتو ایک ہی طلاق سے اس کی غیر مدخولہ (یعنی جس کے ساتھ صحبت نہ ہوئی ہووہ )بیوی بائنہ ہوجائے گی (یعنی نکاح سے نکل جائے گی )دوسری ،تیسری طلاق دینے کی ضرورت نہیں ہےالبتہ غیر مدخولہ کو طلاق دینے کی صورت میں اس پر مہراگر طےہوا تھا تو اس کا آدھا دینا لازم ہوگا اور اگر نہیں ہواتواپنی حیثیت کے مطابق متعہ(ایک سوٹ کپڑا)دینا ہو گا ۔اوراس کی بیوی پر عدت نہیں ہے ۔

    ردالمحتار علی الدرالمختارشرح تنویر الابصار(باب طلاق غیر المدخولۃبھا ج:۳، ص:۲۹۲، طبع:دارالفکر)میں ملخصاًہے"قَالَ لِزَوْجَتِهِ غَيْرِ الْمَدْخُولِ بِهَا أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًاوَقَعْنَ وَإِنْ فَرَّقَ بَانَتْ بِالْأُولَى لَا إلَى عِدَّةٍ وَلَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ "ترجمہ:کسی نے اپنی غیر مدخولہ بیوی کو کہا اے تین طلاقوں والی تو تین طلاقیں واقع ہو جائینگی اور اگر اس نے الگ،الگ کہا(یعنی اے طلاق والی ،اے طلاق والی ،اے طلاق والی )تو عورت ایک ہی طلاق سے بائنہ ہو جائے گی ، اس پر عدت نہیں ہے اور دوسری طلاق واقع نہیں ہوگی ۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ إِلَّا أَنْ يَعْفُونَ أَوْ يَعْفُوَ الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَيْنَكُمْ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ (البقرۃ:237) ترجمہ:اور اگر تم نے عورتوں کو بے چھوئے طلاق دے دی اور ان کے لئے کچھ مہر مقرر کرچکے تھے تو جتنا ٹھرا تھا اس کا آدھا واجب ہے مگر یہ کہ عورتیں کچھ چھوڑدیں یا وہ زیادہ دے جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے اور اے مردو تمہارا زیادہ دینا پرہیزگاری سے

    نزدیک تر ہے اور آپس میں ایک دوسرے پر احسان کو بھلا نہ دو بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے ۔

    اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ:تم پر کچھ مطالبہ نہیں اگرتم عورتوں کو طلاق دو جب تک تم نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہو یا کوئی مہر مقرر کرلیا ہو اور ان کو کچھ برتنے کو دو مقدور والے پر اس کے لائق اور تنگدست پر اس کے لائق حسب دستور کچھ برتنے کی چیز یہ واجب ہے بھلائی والوں پر

    اور فرمایا:يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا(الاحزاب:۴۹)

    ترجمہ:اے ایمان والو جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر انہیں بے ہاتھ لگائے چھوڑ دو تو تمہارے لئے کچھ عدت نہیں جسے گنو تو انہیں کچھ فائدہ دو اور اچھی طرح سے چھوڑ دو ۔

    خلع لینے کا طریقہ :

    عورت اپنے شوہر سے کسی مال یا مہر کے عوض خلع کا مطالبہ کرے اور مرد قبول کر لے اور اگر مرد نے قبول نہیں کیا یا خلع نامہ پر سائن نہیں کیئےاگر چہ کورٹ نے خلع نامہ جاری کردیا ہو تو خلع واقع نہیں ہوگی بہر صورت مرد جب خلع دے ،دے تو عورت طلاق بائن کے ساتھ اس کی نکاح سے نکل جائے گی اور عورت پر اتنا مال دینا یا مہر کی واپسی کرنا لازم ہے اگرمہر پر قبضہ کیا ہے اور اگر نہیں کیا تو اس کو معاف کرنا یا مطالبہ نہ کرنا لازم ہوگا ۔

    عالمگیری( کتاب الطلاق الباب الثامن فی الخلع وما فی حکمہ ج:1ٍص: 519)میں ملخصاًہے"الخلع ازالۃ ملک النکاح ببدل بلفظ الخلع وَشَرْطُهُ شَرْطُ الطَّلَاقِ وَحُكْمُهُ وُقُوعُ الطَّلَاقِ الْبَائِنِ.وَتَصِحُّ نِيَّةُ الثَّلَاثِ فِيهِ. حَضْرَةُ السُّلْطَانِ لَيْسَتْ بِشَرْطٍ لِجَوَازِ الْخُلْعِ عِنْدَ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ وَالصَّحِيحُ قَوْلُهُمْ ۔إذَا تَشَاقَّ الزَّوْجَانِ وَخَافَا أَنْ لَا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا بَأْسَ بِأَنْ تَفْتَدِيَ نَفْسَهَا مِنْهُ بِمَالٍ يَخْلَعُهَا بِهِ فَإِذَا فَعَلَا ذَلِكَ وَقَعَتْ تَطْلِيقَةٌ بَائِنَةٌ وَلَزِمَهَا الْمَالُ " ترجمہ:لفظ خلع کے ساتھ ملک نکاح کو کسی چیز کے عوض ختم کرنے کا نام خلع ہےاور اس کے وہی شرائط ہیں جو طلاق کے ہیں اور اس کا حکم طلاق بائن کا ہے اور خلع میں تین طلاق کی نیت کرنا (بھی)صحیح ہے ۔اور اکثر علماء کے صحیح قول کے مطابق خلع کے جواز کے لیئے قاضی کی عدالت شرط نہیں ہے ۔اورجب میاں ،بیوی میں اختلافات ہوں اور اس بات کا ڈر ہو کہ وہ اللہ تعالی کے حدود کی پاسداری نہیں کرپائینگے تو اس بات میں کوئی حرج نہیں ہے کہ عورت اپنی طرف سے فدیہ (کچھ مال)دے کر شوہر سے خلع لے ،لے اور وہ اس طرح کر لیں تو طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور عورت پر مال کا دینا لازم ہو جائے گا ۔واللہ تعالی اعلم باالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:24صفر المظفر 1440 ھ/03نومبر 2018ء