بیوی کا جِماع سے انکار کرنا
    تاریخ: 25 فروری، 2026
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 878

    سوال

    ایک عورت اپنے شوہر کو صحبت کے لیے انکار کرتی ہے، شوہر ا س سے وجہ پوچھتی ہے تو وہ کہتی ہے کہ بس ویسے ہی دل نہیں کرتا شوہر کہتا ہے اچھا ہم ایک مہینے میں صرف تین بار صحبت کریں گے ۔ تب بھی وہ عورت انکار کرتی ہے ۔ اب اس صورت حال میں کیا شرعی حکم ہے۔سائل: کامران : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر شوہر بیوی سے ہم بستری اور مباشرت کی خواہش کا اظہار کرتا ہے اور بیوی کسی وجہ سے انکارکر دیتی ہے،مثلا عورت کے اندر کوئی عیب یا بیماری ہے،یا عورت حائضہ ہے یا مرد میں کوئی عیب یا کمی ہے تو اس صورت میں شوہر اس کو مجبور نہیں کرسکتا بلکہ زبردستی کی تو گنہ گار ہوگا اور مرد میں کوئی عیب ہونے کی صورت میں مرد اپنا علاج کروائے۔لیکن اگر بغیر کسی وجہ کے شوہر کو منع کرتی ہے، توایسی عورت اللہ کی رحمت سے دور ہے ،ایسی عورت پر فرشتے لعنت کرتے ہیں ۔جیسا کہ بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ، فَأَبَتْ أَنْ تَجِيءَ، لَعَنَتْهَا المَلاَئِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ».ترجمہ: جب مرد عورت کو بستر پر بلائے اور وہ عورت آنے سے منع کر دے توصبح ہونے تک فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔(بخاری شریف،کتاب النکاح باب اذا باتت لمراۃ مھاجرۃ فراش زوجہا حدیث نمبر 5193)

    اسی طرح دوسری حدیث میں ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا بَاتَتِ المَرْأَةُ مُهَاجِرَةً فِرَاشَ زَوْجِهَا، لَعَنَتْهَا المَلاَئِكَةُ حَتَّى تَرْجِعَ».ترجمہ: عورت ایسی حالت میں رات گذارے کہ وہ اپنے شوہر کے بستر پر نہ ہوتو فرشتے اس وقت تک اس پر لعنت کرتے ہیں جب تک وہ بستر پر واپس نہیں آجاتی۔(بخاری شریف،کتاب النکاح باب اذا باتت لمراۃ مھاجرۃ فراش زوجہا حدیث نمبر 5194)واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدزوہیب رضاقادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 18 ربیع الثانی 1440 ھ/26 دسمبر 2018 ء