بغیر احرام کے میقات سے گزرنا
    تاریخ: 23 جنوری، 2026
    مشاہدات: 51
    حوالہ: 644

    سوال

    اگر کوئی آفاقی شخص بغیر احرام کے میقات سے گزر جائے تو وہ کب تک میقات لوٹ سکتا ہے تاکہ اس کا دم ساقط ہو جائے؟ سائل:سید امید علی شاہ

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    آفاق سے حرم جانے والے پر واجب ہے کہ وہ میقات سے پہلے پہلے احرام باندھ لےاگر جان بوجھ کر بغیر احرام کےمیقات تجاوز کیا تو گنہگار ہو گا نیز دم بھی لازم ہو گا ورنہ غیر ارادی طور پر ایسا ہوا توگنہگار تو نہیں ہو گا مگر دم ضرور لازم آئے گا ۔

    لوٹنے کا حکم :اگر یہ معاملہ موسم حج میں ہو کہ میقات کی طرف جانے میں وقوفِ عرفہ فوت ہونے کا خدشہ ہو تو ایسی صورت میں واپس نہیں لوٹے گا ،ضابطہ ( فرض واجب پر مقدم ہے)پر عمل کرتے ہوئے اور اگر فوت ہونے کا خدشہ نہ ہو تو پھر لوٹے گا اسی طرح عام دنوں میں جب تک طواف کا ایک چکر نہ لگایا ہو لوٹ سکتا ہے ۔

    سقوطِ دم کی صورت : میقات کی جانب لوٹنے سے دم کا ساقط ہونا مفتی بہ قول کے مطابق طواف کا ایک چکر مکمل کرنے سے پہلے پہلے ہو گا یعنی ایسا شخص نے اگر حرم میں داخل ہونے کے بعد طواف کا ایک چکر مکمل کر لے تو اب میقات کی طرف لوٹنے سے دم ساقط نہیں ہو گا۔

    فتاوی ہندیہ میں ہے: ومن جاوز الميقات وهو يريد الحج والعمرة غير محرم فلا يخلو إما أن يكون أحرم داخل الميقات أو عاد إلى الميقات ثم أحرم فإن أحرم داخل الميقات ينظر إن خاف فوت الحج متى عاد فإنه لا يعود ويمضي فی إحرامه ولزمه دم .جو شخص میقات سے بغیر احرام کے اس حال میں گزر جائے کہ وہ حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو، تو وہ دو حالتوں سے خالی نہیں ہوتا: یا تو وہ میقات کے اندر (یعنی میقات کی حدود سے آگے) کسی جگہ احرام باندھ لے،یا پھر واپس میقات کی طرف لوٹ جائے اور وہاں سے احرام باندھے۔اگر اس نے میقات کے اندر ہی احرام باندھ لیا تو دیکھا جائے گا کہ اگر وہ یہ سمجھے کہ اگر میں واپس جاؤں تو حج فوت ہو جائے گا،تو پھر وہ واپس نہ جائے بلکہ اسی (احرام) پر آگے بڑھ جائے،اور اس پر ایک دم لازم ہوگا ۔(فتاوی ہندیہ جلد 1،صفحہ :253)

    علامہ اکمل الدین بابرتی لکھتے ہیں : وَحَاصِلُهُ أَنَّ مَسْأَلَةَ الْعَوْدِ عَلَى ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ: فِي وَجْهٍ لَا يَسْقُطُ بِالْعَوْدِ بِالِاتِّفَاقِ. وَفِي وَجْهٍ يَسْقُطُ بِهِ بِالِاتِّفَاقِ، وَفِي وَجْهٍ عَلَى الِاخْتِلَافِ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ. وَبَيَانُهُ أَنَّ مَنْ دَخَلَ مَكَّةَ يُرِيدُ الْحَجَّ أَوْ الْعُمْرَةَ لَا يَجُوزُ لَهُ أَنْ يَتَجَاوَزَ الْمِيقَاتَ بِغَيْرِ إحْرَامٍ، فَإِنْ جَاوَزَ فَإِمَّا أَنْ يَعُودَ إلَيْهِ أَوْ لَا، فَإِنْ لَمْ يَعُدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الدَّمُ، وَإِنْ عَادَ، فَإِمَّا أَنْ يَعُودَ قَبْلَ الْإِحْرَامِ أَوْ بَعْدَهُ، فَإِنْ عَادَ قَبْلَهُ سَقَطَ الدَّمُ بِالِاتِّفَاقِ لِأَنَّهُ أَنْشَأَ التَّلْبِيَةَ الْوَاجِبَةَ عِنْدَ ابْتِدَاءِ الْإِحْرَامِ، وَإِنْ عَادَ بَعْدَهُ فَإِمَّا أَنْ يَعُودَ بَعْدَمَا ابْتَدَأَ الطَّوَافَ وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ أَوْ قَبْلَهُ، فَإِنْ عَادَ بَعْدَهُ لَا يَسْقُطُ الدَّمُ بِالِاتِّفَاقِ لِأَنَّهُ لَمَّا طَافَ وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَقَعَ شَوْطًا مُعْتَدًّا بِهِ، وَذَلِكَ يُنَافِي إسْقَاطَ الدَّمِ عَنْهُ لِأَنَّ الْإِسْقَاطَ إنَّمَا هُوَ بِاعْتِبَارِ أَنَّهُ مُبْتَدِئٌ مِنْ الْمِيقَاتِ تَقْدِيرًا وَبَعْدَمَا وَقَعَ مِنْهُ شَوْطٌ مُعْتَدٌّ بِهِ لَا يُتَصَوَّرُ كَوْنُهُ مُبْتَدِئًا، وَظَهَرَ لَك مِمَّا ذَكَرْنَا أَنَّ قَوْلَهُ وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ لِبَيَانِ أَنَّ الْمُعْتَبَرَ فِي ذَلِكَ الشَّوْطِ وَإِنْ عَادَ قَبْلَهُ فَعَلَى الِاخْتِلَافِ الْمَذْكُورِ.ترجمہ: اس کا خلاصہ یہ ہے کہ میقات کی طرف لوٹنے کا مسئلہ تین صورتوں پر مشتمل ہے:

    ایک صورت میں (میقات کی طرف) لوٹنے سے بالاتفاق (دم) ساقط نہیں ہو گا ۔

    ایک صورت میں لوٹنے سے بالاتفاق (دم) ساقط ہو گا۔

    ایک صورت میں اختلاف ہے، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا۔

    اس کی تفصیل یہ ہے کہ جو شخص مکہ میں داخل ہو جبکہ اس کا ارادہ حج یا عمرہ کا ہو، تو اس کے لیے جائز نہیں کہ بغیر احرام کے میقات کو تجاوز کرے۔پس اگر اس نے تجاوز کیا، تو یا تو وہ واپس لوٹے گا یا نہیں۔اگر واپس نہ لوٹا تو اس پر دم لازم آتا ہے۔اور اگر واپس لوٹ آیا، تو یا تو احرام باندھنے سے پہلے لوٹا یا بعد میں۔اگر احرام باندھنے سے پہلے لوٹ آیا تو بالاتفاق دم ساقط ہو جائے گاکیونکہ اس نے واجب تلبیہ کو احرام کی ابتدا میں ہی ادا کر دیا۔اور اگر وہ احرام باندھنے کے بعد لوٹا تو یا تو وہ طواف شروع کرنے اور حجرِ اسود کو استلام کرنے کے بعد لوٹا، یا اس سے پہلے۔اگر وہ طواف شروع کرنے اور حجرِ اسود کو استلام کرنے کے بعد لوٹا، تو بالاتفاق دم ساقط نہ ہوگاکیونکہ جب اس نے طواف کر لیا اور حجرِ اسود کو استلام کیا، تو ایک ایسا شوط (چکر) واقع ہو گیا جو معتبر شمار ہوتا ہےاور یہ دم کے ساقط ہونے کے منافی ہے، کیونکہ دم کے ساقط ہونا اس لحاظ سے ہوتا ہے کہ وہ میقات سے تقدیرا ابتدا کرنے ولا ہوتاہے۔لیکن جب اس سے ایک معتبر شوط واقع ہو گیا تو اس کا ابتدائی ہونا (یعنی احرام کی ابتداء میقات سے ہونا) متصور نہیں نہیں رہا ۔اور ہماری مذکورہ بحث سے تمہاے لیے واضح ہو گیا کہ مصنف کا قول "وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ"اس بات کے بیان کے لیے کہ اس میں شوط (چکر)ہی معتبر ہے۔اور اگر اس سے پہلے لوٹ آیا تو پھر یہ مذکورہ اختلاف پر ہی مبنی ہو گا ۔(عنایہ جلد 03صفحہ 110)

    در مختار میں ہے: (فَإِنْ عَادَ) إلَى مِيقَاتٍ مَا (ثُمَّ أَحْرَمَ أَوْ) عَادَ إلَيْهِ حَالَ كَوْنِهِ (مُحْرِمًا لَمْ يَشْرَعْ فِي نُسُكٍ) صِفَةُ: مُحْرِمًا كَطَوَافٍ وَلَوْ شَوْطًا ترجمہ: پس اگر وہ کسی میقات کی طرف واپس آ جائے اور پھر وہاں سے احرام باندھ لے، یا حالتِ احرام میں ہی (واپس) اس میقات کی طرف لوٹے، جب کہ وہ کسی نسک (یعنی حج یا عمرہ کے کسی عمل) میں داخل نہ ہوا ہو، (نسک کی مثال) جیسے طواف، خواہ صرف ایک چکر ہی کیوں نہ لگایا ہو۔( الدر المختار کتاب الحج جلد02،صفحہ580)

    علامہ شامی اس کے تحت لکھتے ہیں: قَوْلُهُ وَلَوْ شَوْطًا) أَخَذَهُ مِنْ الْبَحْرِ، وَمُقْتَضَاهُ أَنَّهُ لَا بُدَّ فِي لُزُومِ الدَّمِ وَعَدَمِ إمْكَانِ سُقُوطِهِ مِنْ الشَّوْطِ الْكَامِلِ.وَعِبَارَةُ الْهِدَايَةِ: وَلَوْ عَادَ بَعْدَ مَا ابْتَدَأَ الطَّوَافَ وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ لَا يَسْقُطُ عَنْهُ الدَّمُ بِالِاتِّفَاقِ فَقَالَ: وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ بِالْوَاوِ، وَفِي بَعْضِ نُسَخِهَا بِالْفَاءِ. قَالَ ابْنُ الْكَمَالِ فِي شَرْحِهَا: إنَّمَا ذَكَرَهُ تَنْبِيهًا عَلَى أَنَّ الْمُعْتَبَرَ فِي ذَلِكَ الشَّوْطُ التَّامُّ، فَإِنَّ الْمَسْنُونَ الْفَصْلُ بَيْنَ الشَّوْطَيْنِ بِالِاسْتِلَامِ، وَإِلَّا فَهُوَ لَيْسَ بِشَرْطٍ. اهـ. وَمِثْلُهُ فِي الْعِنَايَةِ. وَعَلَيْهِ فَالْمُرَادُ بِالِاسْتِلَامِ مَا يَكُونُ بَيْنَ الشَّوْطَيْنِ لَا مَا يَكُونُ فِي أَوَّلِ الطَّوَافِ، وَيُؤَيِّدُهُ قَوْلُ الْبَدَائِعِ بَعْدَ مَا طَافَ شَوْطًا أَوْ شَوْطَيْنِ ۔ترجمہ: "مصنف کا قول: 'وَلَوْ شَوْطًا' (یعنی اگرچہ صرف ایک چکر ہی لگایا ہو) مصنف یہ نےیہ بات البحر الرائق سے لی ہے، اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ دم کے لازم ہونے اور اس کے ساقط نہ ہونے کے لیے کم از کم ایک مکمل چکر ضروری ہے۔اور ہدایہ کی عبارت یہ ہے:اگر وہ شخص طواف شروع کرنے کے بعد واپس چلا جائے اور اس نے حجرِ اسود کا استلام کر لیا ہو، تو اس پر دم ساقط نہیں ہوگا، بالاتفاق۔مصنف نے "واو" کے ساتھ "وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ" کہا، اور بعض نسخوں میں یہ "فاء" کے ساتھ ہے۔ابن الکمال نے اپنی شرح میں فرمایا:اسے ذکر کرنے کا مقصد اس طرف توجہ دلانا ہے کہ اعتبار ایک مکمل شوط (چکر) کا ہے؛ کیونکہ سنت یہ ہے کہ دو شوط (چکروں) کے درمیان حجر اسود کا استلام ہو، ورنہ استلام شرط نہیں ہے۔یہی بات عنایہ میں بھی ہے۔لہٰذا، یہاں استلام سے مراد وہ استلام ہے جو دو شوط کے درمیان ہوتا ہے، نہ کہ وہ جو طواف کے شروع میں ہوتا ہے۔اس کی تائید "البدائع" کے اس قول سے بھی ہوتی ہے بعد ازاں کہ اس نے ایک شوط یا دو شوط طواف کیے۔(رد المحتار علی الدر المختار کتاب الحج جلد02،صفحہ580)

    فتاوی قاضی خان میں ہے :لو جاوز الآفاقی المیقات بغیر احرام ثم احرم وطاف بالبیت شوطا او شوطین لا یسقط عنہ الدم الذی کان واجبا بالمجاوزۃ رجع الی المیقات او لم یرجع ۔ترجمہ: اگر آفاقی میقات سے بغیر احرام کے تجاوز کرجائے پھر احرام باندھے اور بیت اللہ کا ایک یا دو چکر طواف کر لے تو اس سے وہ دم ساقط نہیں ہو گا جو گزرنے کی وجہ سے واجب ہوا خواہ اب (یعنی ایک یا دو چکر لگانے کے بعد)میقات کی طرف لوٹے یا نہ لوٹے ۔( فتاوی قاضی خان،جلد01،صفحہ254،قدیمی کتب خانہ)

    محقق علی الاطلاق ابن ہمام شوط کامل کے ادا ہو جانے کے بعد عدم سقوطِ دم کی توجیہ بیان کرتے ہیں :وَلَوْ عَادَ بَعْدَمَا ابْتَدَأَ بِالطَّوَافِ وَلَوْ شَوْطًا (لَا يَسْقُطُ بِالِاتِّفَاقِ)؛ لِأَنَّ السُّقُوطَ بِالرُّجُوعِ بِاعْتِبَارِ مُبْتَدَإِ الْإِحْرَامِ عِنْدَ الْمِيقَاتِ، وَهَذَا الِاعْتِبَارُ بَعْدَ الشُّرُوعِ فِي الْأَفْعَالِ يَسْتَلْزِمُ اعْتِبَارَ بُطْلَانِ مَا وُجِدَ مِنْهُ مِنْ الطَّوَافِ، وَلَا سَبِيلَ إلَيْهِ بَعْدَ وُقُوعِهِ مُعْتَدًّا بِهِ فَكَانَ اعْتِبَارًا مَلْزُومًا؛ لِلْفَاسِدِ وَمَلْزُومُ الْفَاسِدِ فَاسِدٌ،ترجمہ:اور اگر (کوئی شخص) طواف شروع کرنے کے بعد، خواہ صرف ایک چکر ہی لگایا ہوواپس میقات لوٹ جائے، تو دم کا حکم بالاتفاق ساقط نہیں ہوتا؛ کیونکہ واپسی کی بنا پر دم کا ساقط ہونا میقات سے احرام کی ابتدا کرنے اعتبار سے ہے اور افعال شروع کرنے کے بعداس کا اعتبار اس کے کیے ہوئے طواف کو باطل کرنے کو مستلزم ہےحالانکہ طواف کے معتد بہ حصے کے واقع ہو جانے کے بعد اس کا کوئی راستہ نہیں بچتا لہذا یہ فاسد کو مسلزم اعتبار ہے اور فاسد کا لازم بھی فاسد ہوتا ہے۔(فتح القدیر جلد 3،صفحہ 110) واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 20 ذو الحجۃ 1446 ھ/17جون 2025ھ