عدت وفات والی عورت شوہر کے دوسرے گھر جا سکتی ہے
    تاریخ: 23 جنوری، 2026
    مشاہدات: 37
    حوالہ: 642

    سوال

    زید کی دو بیویاں ہیں ان میں سے ایک بیوی شہر میں اور دوسری گاؤں میں رہتی ہے۔شادی بیاہ خوشی غمی کے سب معاملات گاؤں میں ہوتے ہیں ۔سوال یہ ہے کہ زید کےوصال پر ،شہر والی بیوی اس کی میت میں شریک ہو سکتی ہےیوں ہی بعد میں سوئم اور جمعرات کے ختم اور چالیسویں میں شرکت کر سکتی ہے ؟

    سائل:محمد عبد اللہ

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یاد رہے کہ عدت ،شوہر کی وفات کے وقت سے شروع ہو تی ہے،اور عدت کی پابندیاں بھی اسی وقت سے شروع ہو جاتی ہیں ،اس میں تدفین، وغیرہا ہو جانے کا اعتبار نہیں ہوتا ،مثلا ً شوہر کا انتقال دس بجے ہوا تو عدت کی ابتدا بھی دس بجے سے ہو گی ۔عورت اسی مکان میں عدت گزارے گی جو مکان شوہر نے زندگی میں اسے رہائش کے لیے دے رکھا تھا اس مکان سے بلا ضرورت اسے نکلنے کی اجازت نہیں ۔پوچھی گئی صورت میں شہر والی بیوی پر لازم ہے کہ وہ عدت شہر ی مکان میں ہی گزارے۔سوئم ،جمعرات کے ختم اور چالیسویں میں جانے کی اجازت نہیں یہاں تک کہ اگر شوہر کی میت گاؤں والے مکان میں ہو اور یہ شہر والے مکان میں ہے پھر بھی اس کے لیے گاؤں والے مکان کی طرف جانے کی اجازت نہیں۔

    اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے :﴿ وَالَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنۡکُمْ وَیَذَرُوۡنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًا﴾ترجمہ کنز الایمان :اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں ، وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں ۔( البقرۃ ، :234)

    اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : ( لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍؕ) ترجمۂ کنز الایمان : عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو ، اور نہ وہ آپ نکلیں مگریہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں۔ (پ28 ، الطلاق : 1)

    اس آیت کی تفسیرمیں تفسیرات احمدیہ میں ہے : “ بُیُوْتِهِنَّ “ کے لفظ میں صراحت ہے کہ یہاں عورتوں کے گھروں سے مراد وہ گھر ہیں جس میں ان عورتوں کی رہائش ہو ، لہٰذا اس آیت کی وجہ سے عورت پر لازم ہے کہ طلاق یا شوہر کی موت کے وقت ، عدت اسی گھرمیں گزارے گی جو گھرعورت کی رہائش کی وجہ سے عورت کی طرف منسوب ہو۔ (تفسیرات احمدیہ ، ص496)

    العنایۃ شرح الھدایۃ میں ہے: (وفي الوفاة عقيب الوفاة) لأن سبب وجوب العدة الطلاق أو الوفاة (فيعتبر ابتداؤها من وقت وجود السبب) ۔ترجمہ:یعنی عدتِ وفات، وفات کے بعد شروع ہوتی ہے کیونکہ عدت کا سبب طلاق یا وفات ہے، لہذا سبب کے پائے جانے کے وقت سے عدت کی ابتداء ہوگی ۔(العناية شرح الهدايۃ، کتاب الطلاق، ج 04، ص 329 ، دار الفكر)

    فتاویٰ عالمگیری میں ہے: ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة ۔“ترجمہ: طلاق کی عدت طلاق کے بعد اور وفات کی عدت وفات کے بعد شروع ہوگی ۔ (الفتاوٰی الھندیۃ، کتاب الطلاق، ج 01، ص 532-531 ، مطبوعہ بیروت)

    حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہمشیرہ حضرت فریعہ بنت مالک کے شوہرکواُ ن کے غلاموں نے قتل کرڈالاتھا،وہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوکرعرض کرتی ہیں کہ مجھے میکے میں عدت گزارنے کی اجازت دی جائے کہ میرے شوہرنے کوئی اپنامکان نہیں چھوڑااورنہ خرچ چھوڑا۔اجازت دیدی پھربُلاکرفرمایا:” امکثی فی بیتک حتی یبلغ الکتاب اجلہ قالت فاعتددت فیہ اربعۃ اشھروعشرا “ اُسی گھرمیں رہوجس میں رہتی ہو،جب تک عدت پوری نہ ہو۔حضرت فریعہ فرماتی ہیں : پھرمیں نے اسی گھرمیں چارماہ دس دن عدت گزاری۔‘‘(جامع ترمذی ، ابواب الطلاق ،باب ماجاء این تعتدالمتوفی عنھازوجھا ، جلد1 ، صفحہ359، مطبوعہ لاهور)

    الاختیار میں ہے :’’وتعتد في البيت الذي كانت تسكنه حال وقوع الفرقة إلا أن ينهدم أو تخرج منه أو لا تقدر على أجرته فتنتقل “ یعنی عورت عدت اُسی گھر میں گزارے گی جس میں ِفرقت کے وقت رہ رہی تھی ، ہاں اگر وہ (گھر )منہدم ہوجائےیا اُسے گھر سے نکال دیا جائے یا وہ کرائے کا مکان ہے مگر یہ اُس کی اجرت دینے پر قادر نہیں تو معتدہ (ان صورتوں میں اس گھر) سے دوسرے گھر منتقل ہو سکتی ہے۔(الاختیار جلد2،صفحہ227 ،مطبوعہ پشاور)

    فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”علی المعتدۃ ان تعتد فی المنزل الذی یضاف الیھا بالسکنیٰ حال وقوع الفرقۃ والموت ، لو کانت زائرۃ اھلھا او کانت فی غیر بیتھا لامر حین وقوع الطلاق انتقلت الی بیت سکناھا بلا تأخیر، و کذا فی عدۃ الوفاۃ“ ترجمہ: شوہر کی موت یا فرقت کے وقت معتدہ عورت جس مکان میں رہائش پذیر تھی، اسی مکان میں عدت گزارے گی،لہٰذا اگر طلاق واقع ہوتے وقت والدین کے گھر تھی یا کسی کام کی غرض سے اپنے گھر کے علاوہ کہیں اور تھی، تو بغیر تاخیر کئے اپنے رہائشی گھر لوٹ آئے، اسی طرح عدت وفات میں بھی ہے۔( الفتاویٰ الھندیۃ، کتاب الطلاق، باب الحداد، جلد1، صفحہ 559، مطبوعہ بیروت)

    ضرورت کی وجہ سے عدت والا گھر چھوڑنے کے حوالے سے علامہ کاسانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : وأما في حالة الضرورة فإن اضطرت إلى الخروج من بيتها بأن خافت سقوط منزلها أو خافت على متاعها أو كان المنزل بأجرة ولا تجد ما تؤديه في أجرته في عدة الوفاة فلا بأس عند ذلك أن تنتقل، وإن كانت تقدر على الأجرة لا تنتقل، وإن كان المنزل لزوجها وقد مات عنها فلها أن تسكن في نصيبها إن كان نصيبها من ذلك ما تكتفي به في السكنى وتستتر عن سائر الورثة ممن ليس بمحرم لها، وإن كان نصيبها لايكفيها أو خافت على متاعها منهم فلا بأس أن تنتقل، ترجمہ:رہی بات ضرورت کی حالت میں تو اگر بیوہ عورت کو اپنے گھر سے نکلنے کی مجبوری ہو جیسے وہ گھر کے گرنے کا اندیشہ رکھتی ہو، یا اپنے سامان کے ضائع ہونے کا خوف ہو، یا وہ گھر کرایے کا ہو اور اس کے پاس کرایہ ادا کرنے کی گنجائش نہ ہو تو عدتِ وفات کے دوران ایسی صورت میں اس کے لیے منتقل ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر وہ کرایہ ادا کرنے کی استطاعت رکھتی ہو تو پھر اسے منتقل ہونا جائز نہیں۔اور اگر وہ مکان شوہر کا تھا اور شوہر فوت ہو گیا ہو، تو وہ عورت اپنے حصے کے مطابق اس میں رہ سکتی ہے، بشرطیکہ اس کا حصہ رہائش کے لیے کافی ہو اور وہ دوسرے ورثاء، جو اس کے محرم نہیں، سے پردہ کر سکے۔ لیکن اگر اس کا حصہ اس کے لیے کافی نہ ہو یا وہ اپنے سامان کے بارے میں ان سے خدشہ محسوس کرے تو اس کے لیے منتقل ہونا درست ہے ۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع جلد :03،صفحہ 205)

    صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:موت یافُرقت کے وقت جس مکان میں عورت کی سکونت(رہائش)تھی اُسی مکان میں عدت پوری کرے اوریہ جوکہاگیاہے کہ گھرسے باہرنہیں جاسکتی اس سے مراد یہی گھرہے اوراس گھر کو چھوڑ کر دوسرے مکان میں بھی سکونت نہیں کرسکتی مگربضرورت آج کل معمولی باتوں کوجس کی کچھ حاجت نہ ہومحض طبیعت کی خواہش کوضرورت بولاکرتے ہیں وہ یہاں مرادنہیں بلکہ ضرورت وہ ہے کہ اُس کے بغیرچارہ نہ ہو۔(ملخص از بھارشریعت حصہ8،ج2 ، ص245، مکتبۃ المدینہ ، باب المدینہ کراچی )واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:25شوال المکرم1446 ھ/24اپریل2025ھ