عدت وفات والی عورت کے لیے بھی عدت ضروری ہے
    تاریخ: 23 جنوری، 2026
    مشاہدات: 27
    حوالہ: 643

    سوال

    کیا وفات کی عدت صرف جوان عورت پر ہے یا پھر بوڑھی عورت پر بھی ہو گی ؟ سائلہ:ٖفیاض بیگم /برطانیہ

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شریعتِ مطہرہ نے شوہر کی وفات پر نکاح جیسی عظیم نعمت کے ختم ہو جانے پر اظہارِ افسوس و غم کے طور پر عورت پر عدتِ وفات کو واجب قرار دیا ہے۔ اس حکم میں نہ عمر کی تخصیص ہے، نہ ہی حالتِ ازدواج کی کوئی قید، یعنی چاہے عورت جوان ہو یا بوڑھی، مدخول بہا ہو یا غیر مدخول بہا، ہر آزاد عورت پر عدت گزارنا فرض ہے۔

    اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے :﴿ وَالَّذِیۡنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنۡکُمْ وَیَذَرُوۡنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنۡفُسِہِنَّ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ وَّعَشْرًا﴾ترجمہ کنز الایمان :اور تم میں جو مریں اور بیبیاں چھوڑیں ، وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں ۔( البقرۃ ، :234)

    اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے : ( لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍؕ-) ترجمۂ کنز الایمان : عدت میں انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو ، اور نہ وہ آپ نکلیں مگریہ کہ کوئی صریح بے حیائی کی بات لائیں۔ (پ28 ، الطلاق : 1)

    حضرت اُمِّ عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:كُنَّا نُنْهَى أَنْ نُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، إِلَّا عَلَى زَوْجٍ، أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا."ہمیں منع کیا گیا کہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کریں، سوائے شوہر کے، کہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ کیا جائے۔"(صحیح بخاری، حدیث: 1280، صحیح مسلم، حدیث: 938)

    تمام فقہاء اور ائمہ کا اس پر اجماع ہے کہ شوہر کی وفات کی صورت میں بیوی پر عدت واجب ہے، خواہ دخول ہوا ہو یا نہیں، اور وہ عدت "چار ماہ دس دن" ہے۔

    المغنی لابن قدامہ میں ہے:"وأجمع العلماء على أن الحرة المتوفى عنها زوجها تلزمها العدة إذا كان قد دخل بها أو لم يدخل."ترجمہ: علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ آزاد (غیر باندی) عورت، جس کا شوہر وفات پا جائے، اس پر عدت لازم ہے، خواہ شوہر نے اس سے صحبت کی ہو یا نہ کی ہو۔" (المغنی لابن قدامہ، 8/96)

    البحر الرائق میں ہے:"وجب في الموت إظهاراً للتأسف علی فوات نعمة النکاح؛ فوجب علی المبتوتة إلحاقاً لها بالمتوفی عنها زوجها بالأولی؛ لأن الموت أقطع من الإبانة ".ترجمہ: عدتِ وفات میں(عورت پر) زینت چھوڑنا واجب ہےتاکہ نکاح جیسی نعمت کے فوت ہونے پر اظہارِ افسوس ہو، پس یہی حکم 'مبتوتہ' (وہ عورت جس کو تین طلاقیں دے دی گئی ہوں) کے لیے بھی ہے، بلکہ اس پر تو بدرجہ اولیٰ یہ حکم لاگو ہوتا ہے، کیونکہ موت تو قطع تعلق کے اعتبار سے طلاقِ مغلظہ (یعنی تین طلاق) سے بھی زیادہ کاٹ دینے والی ہے۔(البحر الرائق ، کتاب الطلاق ، فصل في الإحداد، جلد 04صفحہ:253)

    فتاوی ہندیہ میں ہے:الْعِدَّةُ فِي الْوَفَاةِ حَقُّ اللهِ تَعَالَى، فَيَجِبُ عَلَى الْمَرْأَةِ وَلَوْ بَائِنَةً ترجمہ:وفات کی عدت اللہ تعالیٰ کا حق ہے، اس لیے ہر عورت پر واجب ہے، چاہے وہ بائنہ ہی کیوں نہ ہو۔"(الفتاویٰ الهندیة،جلد: 1 صفحہ:528)واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 20 ذو الحجۃ 1446 ھ/17جون 2025ھ