سوال
میں نے ایک جگہ پیسہ انوسیٹ کر رکھا ہے اس پر زکوۃ کا کیا حکم ہے؟کیا اس کی زکوۃمجھ پر ہے یا کام کرنے والے پر؟سائل: احمد دین
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
یہ انویسٹ منٹ مضاربت کی صورت میں ہے،اور مضاربت میں جو چیز بھی مالِ تجارت کے تحت آتی ہے اس پر زکوۃ لازم ہےجس کی ادئیگی رب المال کے زمہ پرہوتی ہے۔لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ پر اس انویسٹ منٹ میں زکوۃ لازم ہےاس کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہو گا کہ :
جس دن آپ کے نصاب پر سال مکمل ہو اس دن مضارب کے پاس جو بھی مال ِتجارت ہو گا اس کی بازاری قیمت لگوا ئیں جو بھی قیمت حاصل ہو اس پر زکوۃ ہو گی، اس کے ساتھ ساتھ اس مضاربت سے آپ کو جو جو منافع حاصل ہوئے ان منافع میں سے رقم کی صورت میں آپ کے پاس جتنا بھی اماونٹ موجود ہیں اس پر بھی زکوۃ ہو گی ۔
مضارب (کام کرنے والے)نے جو کاروبار سے منافع حاصل کیے تو ان میں سے جو نصاب پر سال مکمل ہونے کے وقت رقم کی صورت میں اس کے پاس موجود تھے صرف ان پر زکوۃ ہو گی بشرط یہ کہ زکوۃ کی دیگر شرائط بھی پائی جائیں ۔
مالِ تجارت کی زکوۃ کے متعلق حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان یامرنا ان نخرج الصدقۃ من الذی نعد للبیع‘‘ ترجمہ : بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیا کرتے کہ جس (مال) کو ہم بیع (تجارت) کے لئے تیار کریں، اس کی زکوۃ نکالیں‘‘۔(سنن ابی داؤد، کتاب الزکوۃ، جلد 1، صفحہ 228، مطبوعہ لاھور)
مبسوط سرخسی میں ہے:"وأما مال المضاربة، فعلى رب المال زكاة رأس المال، وحصته من الربح، وعلى المضارب زكاة حصته من الربح إذا وصلت يده إليه إن كان نصاباً، أو كان له من المال ما يتم به النصاب عندنا۔ترجمہ: اور جہاں تک مضاربت کے مال کا تعلق ہے، تو رب المال پر اصل سرمائے اور اس کے نفع کے حصے کی زکوٰۃ واجب ہے، جبکہ مضارب پر اس کے نفع کے حصے کی زکوٰۃ واجب ہے جب وہ اس کے ہاتھ میں آجائے، بشرطیکہ وہ نصاب کو پہنچ جائے، یا اس کے پاس اتنا اور مال ہو جس سے نصاب مکمل ہو جائے، ہمارے نزدیک ۔(المبسوط للسرخسی ،كتاب الزكاة، ج:2،ص:204، ط.دار المعرفة، بيروت)
فتاوی رضویہ میں ہے”مالِ تجارت جب تک خود یا دوسرے مالِ زکوٰۃ سے مل کر قدرِ نصاب اور حاجتِ اصلیہ مثل دَین زکوٰۃ وغیرہ سے فاضل رہے گا ،ہر سال اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔(فتاوی رضویہ،ج 10،ص 155،رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اسی میں ہے”تجارت کی نہ لاگت پر زکوٰۃ ہے نہ صرف منافع پر،بلکہ سالِ تمام کے وقت جو زرِ منافع ہے اور باقی مالِ تجارت کی جو قیمت اس وقت بازار کے بھاؤ سے ہے ،اس پر زکوٰۃ ہے۔ (فتاوی رضویہ،ج 10،ص 158،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمديونس انس القادري
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء: 4رمضان المبارک 1446 ھ/05مارچ 2025ھ